کاوشیں تسلی بخش ہیں، کچھ لو اور کچھ دو سے ہی بات آگے بڑھے گی، سیاستدان

کاوشیں تسلی بخش ہیں، کچھ لو اور کچھ دو سے ہی بات آگے بڑھے گی، سیاستدان

 لاہور( انوسٹی گیشن سیل) بات چیت کے مثبت نتائج آنے چاہیں، تاحال کاوشیں تسلی بخش ہیں۔طالبان قیدیوں کی رہائی درست ہے کیونکہ کچھ لو اور کچھ دو سے بات آگے بڑھے گی۔مذاکرات کی کامیابی دونوں فریقین کے مفاد میں ہے اسلئے کاوشوں کو کامیاب بنانا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار ملک کے سیاسی رہنماؤں نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ مسلم لیگ (ن)کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ مذاکرات کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں کہ پاکستان میں آج کل دہشتگردی کے واقعات پیش نہیں آرہے،حکومت بات چیت میں سنجیدگی سے کام لے رہی ہیں جس سے ملک میں امن کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ نے کہا کہ دونوں فریقین ذمہ داری سے آگے بڑھ رہے ہیں جس سے بہتری کی امید رکھنی چاہیے۔مذاکرات کو ہر صورت کامیاب بنانا چاہیے کیونکہ اسی میں دونوں فریقین کی بھلائی ہے۔سابق وفاقی وزیر نذر محمد گوند ل نے کہاکہ مذاکرات میں نیا موڑ نہیں آنا چاہیے اور حکومت کو کسی دباؤ کے بغیر بات چیت جاری رکھنی چاہیے،نتائج کا انتظار کرنا ہو گا۔ مسلم لیگ(ق)کے رہنما کامل علی آغا نے کہا کہ مذاکرات دباؤ میں ہو رہے ہیں جن کی کامیابی کے امکانات موجود نہیں ہیں۔آپریشن کا فیصلہ اس وقت تک مؤخر کیا جارہا ہے جب تک حکومت قیدیوں کو رہا نہیں کروا لیتی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما عزیز الرحمٰن چن نے کہاکہ مذاکرات کے مثبت نتائج چاہیے اور نواز شریف کو سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کر کے بات چیت کو آگے بڑھانا چاہیے۔ قیدیوں کی رہائی پر تحفظات نہیں ہونے چاہیں کیونکہ کچھ لو کچھ دو کی پالیسی سے ہی مذاکرات کو کامیاب بنایا جا سکتاہے۔تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عمر ڈار نے کہاکہ تحریک انصاف نے ملک میں قیام امن کیلئے حکومت کو بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے،جب سے مذاکرات شروع ہوئے ہیں ملک میں امن ہے اسلئے توقع ہے کہ بات چیت کے مثبت نتائج بر آمد ہوں گے۔دہشتگردی کے خاتمے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

مزید : صفحہ اول