سٹی ڈویزن کا شاہدرہ پولیس سرکل جرائم میں ٹاپ پر تھانوں کی حدود میں لوگوں کی زندگیاں اجیرن

سٹی ڈویزن کا شاہدرہ پولیس سرکل جرائم میں ٹاپ پر تھانوں کی حدود میں لوگوں کی ...

                                                         لاہور(لیاقت کھرل)سٹی ڈویژن کاپولیس سرکل شاہدرہ جرائم کے اعتبار سے شہرکے دیگرپولیس سرکلوں میں ٹاپ کرگیا ہے، اس سرکل کی حدود میں آنے والی آبادیوں مےں دیگر شہروں سے آنے والے شہریو ں کی آمد جرائم میں اضافہ کی بنیادی وجہ بتائی گئی ہے جبکہ پولیس کے جرائم پیشہ افرادسے مبینہ تعلقات اور کارروائی نہ ہونا بھی دوسری وجہ بتائی گئی ہے، جرائم پیشہ افراد کو پولیس کی مبینہ آشیربادنے اس سرکل کی حدود میں رہائشی آبادیوں کے مکینوں کی جہاں زندگیاں اجیرن بنا کررکھ دی ہیں،وہاں جرائم کی شرح مےںبھی اضافہ ہو گیا ہے۔ ”پاکستان “نے شاہدرہ سرکل میں کرائم کی شرح کا جائزہ لینے کیلئے ایک سروے کا اہتمام کیا جس میں ڈی ایس پی شاہدرہ سرکل پولیس کے دفتر میںآنے والے سائلین اورتھانہ شاہدرہ اورتھانہ شاہدرہ ٹاﺅن کے سائلین کی زیادہ تر شکایات مقدمات کے اندراج کیلئے تھیں ،جبکہ تفتیشی افسران کی جانب سے مبینہ رشوت کی ڈیمانڈ کی بھی شکایات پائی گئیں۔سائلین کاکہنا تھا کہ ڈی ایس پی شاہدرہ آغا ناصر کے پاس شکایات لیکر جانے پر وہ خود اپنے ماتحت تھانیداروں اوراہلکاروں کے مبینہ طورپر سفارشی بن جاتے ہیں اورالٹا جھاڑ کردفتر سے نکال دیتے ہیں۔ اس موقع پر ماتما والہ گاﺅں(شرقپور) کی رہائشی شریفاں بی بی نے بتایا کہ ملزمان نعیم اور کلیم اللہ نے اس کی بیٹی کو قتل کردیا اورلاش شاہدرہ ٹاﺅن کی آبادی جمیل پارک کے قریب جوہڑ میں پھینک دی پولیس پانچ روز گزر جانے کے باوجود ملزمان کوگرفتارنہیںکررہی ہے تفتیشی افسر امجد اقبال روزانہ تھانے بلا کرٹال دیتا ہے۔ اس موقع پر حاجی عبدالکریم نے بتایا کہ شاہدرہ تھانے سے چند گز فاصلے پر ڈاکوناکہ لگا کر لوٹ مار کرنا شروع کردیتے ہیں جبکہ شاہدرہ مارکیٹ اورشاہدرہ موڑ پر موٹرسائیکل چوروں کے ارکان نے لوٹ مارمچا رکھی ہے ،روزانہ تین سے چار موٹرسائیکلیں چوری کرلی جاتی ہیں ۔پولیس محض خانہ پری کے طورپر کارروائی کرتی ہے جبکہ محافظ پولیس کے اہلکاروں نے جگہ جگہ ناکے لگا رکھے ہیں اورمشکوک افرادکی چیکنگ کے بجائے شریف شہریوں کو تنگ کرتے ہیں ۔اس موقع پر شاہدرہ کی آبادیوں کے مکینوں اسد علی ،نعمت اللہ خان ،شہزاد علی اورحاجی عبد اللہ خان نے بتایاکہ شاہدرہ کی حدود میں آبادی بڑھ چکی ہے جس میں دیگر شہروں سے آنےوالے لاکھوں افراد نے اس شاہدرہ کی حدود میں کرائے پر گھرحاصل کررکھے ہیں جن میں بیشتر افراد کا پولیس کے پاس ریکارڈ تک نہ ہے اوران لوگوں کی اکثریت جرائم میں ملوث ہے جس کے باعث ڈکیتی ،راہزنی ،سٹریٹ کرائم اورگھروں میںچوری کی وارداتیں اس علاقے کی شناخت بن کررہ گئی ہیں۔ جرائم پیشہ افراد نے پولیس کے ساتھ مبینہ طورپر تعلقات قائم کررکھے ہیں جس کے باعث منشیات ،قمار بازی اورشراب کادھندہ اس علاقہ میں عروج پرہے اورپولیس والے محض کارروائی کے طورپر اکا دکا مقدمہ درج کرتے ہیں اس میں بھی اصل جرائم پیشہ افراد کو کارروائی میں گول کردیا جاتا ہے ،جس کے باعث قتل ،اغوائ،اورلڑائی جھگڑوں نے اس علاقے میں جنم لے رکھا ہے اورآئے روز قتل اور لڑائی جھگڑوں کے واقعات نے اس علاقے کے مکینوں کی زندگیاں اجیرن بنا کررکھی دی ہیں۔جرائم کی شرح بھی خطرناک حد تک بڑھ کررہ گئی ہے جوکہ پولیس کیلئے آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن کررہ گیا ہے جس سے شاہدرہ سرکل کے تھانے پولیس اہلکاروں کیلئے انتہائی پسندیدہ سمجھے جارہے ہیں جبکہ اس سرکل کے تھانوں شاہدرہ اورتھانہ شاہدرہ ٹاﺅن میں تعیناتی کیلئے ایس ایچ او کو اےک ماہ تک سفارشوں کیلئے دھکے کھانے پڑتے ہیں جبکہ کہ سرکل کی کمانڈ کیلئے اس سے بھی کئی گنا زیادہ سفارشیں تلاش کرنا پڑتی ہیں، اس کے باوجو د اس سرکل کی حدود میں نہ توجرائم کی شرح میں کمی آ سکی ہے اورنہ ہی پولیس جرائم پیشہ افراد کے کسی بڑے گروہ یا ڈکیتی اورراہزنی کی وارداتوںمیں ملوث کسی بڑے بڑے خطرناک گروہ کو پکڑنے میں کامیابی حاصل کرسکی ہے جس کے باعث شاہدرہ کے مکینوں نے پولیس کی بجائے اپنے جان مال کی حفاظت اللہ تعالیٰ پر چھوڑ رکھی ہے۔ ”پاکستان “کو ڈی ایس پی شاہدرہ آغاناصر کے دفتر سے کرائم کے حوالے سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق شاہدرہ سرکل کے تھانہ شاہدرہ میں سال 2013ءکے دوران 10251شہریوں نے مقدمات کیلئے اندراج کیلئے پولیس سے رابطہ کیا ۔ شاہدرہ پولیس نے 2136سائلین کی درخواستوں پر مقدمات درج کیے اوران مقدمات میں ملوث 1051ملزمان کو پولیس گرفتار نہ کرسکی اوران ملزمان میں سے پولیس 558ملزمان کو پکڑ سکی اسی طرح شاہدرہ سرکل کے دوسرے تھانہ شاہدرہ ٹاﺅن کی پولیس نے 1958شہریوں کی درخواستوں پرمقدمات درج نہ کیے جس کے باعث شہری تھانہ ،ڈی ایس پی اوردیگر پولیس افسران کے دفاترمیں چکر لگا تے رہے جبکہ سال 2014یعنی رواں سال کی نسبت 20سے 25فیصد زیادہ ریکارڈکیا گیا ہے جس کے بارے ڈی ایس پی شاہدرہ سرکل آغا ناصر محمود کہنا ہے کہ شاہدرہ سرکل کے دونوں تھانوں میں فری رجسٹریشن کاحکم دے رکھا ہے جس سے مقدمات کی شرح بڑھی ہے تاہم شاہدرہ سرکل کی پولیس ہر ماہ 20ٹاپ ٹین دو سے تین ڈاکوﺅں کے گروہ دو ٹاپ ٹونٹی اور30سے 35اشتہاری پکڑتی ہے اوراس میں منشیات فروش اورشراب سمیت قمار بازی کے اڈوں کے خلاف کریک ڈاﺅن بھی کیا جاتا ہے۔ ڈی ایس پی نے بتایا کہ شاہدرہ میں دیگر سرکلز کی نسبت واقعی کرائم زیادہ ہے تاہم اس سلسلہ میں پولیس گشت زیادہ کی گئی ہے ۔

مزید : علاقائی