تحفظِ پاکستان ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش ، حلیف بھی خلاف ،حکومت تنہا رہ گئی، لامحدود اختیارات خطرناک ، قانون خوفناک اور آئین سے متصادم ہے :اپوزیشن

تحفظِ پاکستان ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش ، حلیف بھی خلاف ،حکومت تنہا رہ ...
تحفظِ پاکستان ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش ، حلیف بھی خلاف ،حکومت تنہا رہ گئی، لامحدود اختیارات خطرناک ، قانون خوفناک اور آئین سے متصادم ہے :اپوزیشن

  

 اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے انسدادِ دہشت گردی کا’ تحفظِ پاکستان ‘ بل 2013قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔ یہ بل وفاقی وزیر زاہد حامد نے پیش کیا ہے جس میں دہشت گردی ، اس کی معاونت کرنے والوں اور شک کی بنیاد پر کسی کو بھی کسی عدالت میں پیش کیے بغیر تفتیش میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ حکومتی جماعت جے یو آئی نے بھی اس بل کی پوری طرح حمایت نہیں کی اسطرح حکومت ایوان میں تنہا رہ گئی ہے ۔اپوزیشن نے اب بل کی بعض شقوں پر اعتراض کرتے ہوئے مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ بل کی بعض شقیں آئین سے متصادم ہیں ۔ اپوزیشن جماعتوں اور حکومتی حلیف جماعت جے یو آئی نے اس بل کیخلاف ایوان سے واک آﺅٹ بھی کیا ہے ۔ اس سے پہلے اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑ کر پھنک دیں۔اس بل پر اپوزیشن جماعتوں کی رائے سے نقائص دور کیے جانا چائیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم بھی اس طرح کی قانون سازئی کرتے تو نواز شریف بھی ملک بدر ہوسکتے تھے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو لامحدود اختیارات دیے جارہے ہیں ، اس بل کے تحت نیک نیتی ظاہر کرکے کسی کو قتل بھی کیا جاسکتا ہے ۔ تحریکِ انصاف کے شاہ محمود قریشی نے بھی بل کی موجودہ شکل میں منظوری کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہاس بل پر نظر ثانی کی جائےکی جائے ، اسے موجودہ شکل میں یہ بل منظور ہونے کے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔ایم کیو ایم کے تحفظِ پاکستان بل خوفناک ، بنیادی حقوق و آئین کے منافی ہے ۔

مزید : اسلام آباد /Headlines /Breaking News