دہشت گردوں کیخلاف تحفظِ پاکستان ترمیمی بل منظور ، لامحدود اختیارات والا کالا قانون خطرناک ، خوفناک اور آئین سے متصادم ہے :اپوزیشن

دہشت گردوں کیخلاف تحفظِ پاکستان ترمیمی بل منظور ، لامحدود اختیارات والا ...
دہشت گردوں کیخلاف تحفظِ پاکستان ترمیمی بل منظور ، لامحدود اختیارات والا کالا قانون خطرناک ، خوفناک اور آئین سے متصادم ہے :اپوزیشن

  

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی نے حکومت کی حلیف جماعتوں اور اپوزیشن کی مخالفت، شدید احتجاج اور واک آﺅٹ کے دوران انسدادِ دہشت گردی کا قانون ’ تحفظِ پاکستان ‘ بل 2013 عددی اکثریت سے منظور کرلیا ہے ۔ بل کی منظوری کے بعد اجلاس منگل کی صبح دس بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔ اپوزیشن کی جانے سے پیش کی گئی ترامیم اور تجاویز مسترد کردی گئیں ۔یہ بل وفاقی وزیر زاہد حامد نے پیش کیا جس میں دہشت گردی ، اس کی معاونت کرنے والوں اور شک کی بنیاد پر کسی کو بھی کسی عدالت میں پیش کیے بغیر تفتیش میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی ،دہشت گردی کے معاملات کی تفتیش مشترکہ ٹیم کرکے گی اور مقدمات کا تیز ٹرائل ہوگا ۔ خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف پندرہ روز کے اندر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاسکے گی ۔ حکومے نے واضح کیا ہے کہ کسی مقدمے کے ٹرائل کے دوران آئین کے آرٹیکل دس کی خلاف ورزی نہیں ہوگی ۔حکومتی جماعت جے یو آئی نے بھی اس بل کی حمایت نہیں کی اسطرح حکومت ایوان میں تنہا رہ گئی اور اس تنہائی کے دوران اس نے ایوان میں عددی اکثریت کی بنیاد پر بل منظور کر لیا ۔اپوزیشن نے اب بل کی بعض شقوں پر اعتراض کرتے ہوئے مخالفت کی اور کہا کہ بل کی بعض شقیں آئین سے متصادم ہیں ۔ اپوزیشن جماعتوں اور حکومتی حلیف جماعت جے یو آئی نے اس بل کیخلاف ایوان سے واک آﺅٹ بھی کیا ہے ۔ سپیکر کی ڈائس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑ کر پھنک دیں۔اس بل پر اپوزیشن جماعتوں کی رائے سے نقائص دور کیے جانا چاہئیں ۔اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کاکہنا تھا کہ اگر ہم بھی اس طرح کی قانون سازئی کرتے تو نواز شریف بھی ملک بدر ہوسکتے تھے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو لامحدود اختیارات دیے جارہے ہیں ، اس بل کے تحت نیک نیتی ظاہر کرکے کسی کو قتل بھی کیا جاسکتا ہے ۔ تحریکِ انصاف کے شاہ محمود قریشی نے بھی بل کی موجودہ شکل میں منظوری کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہاس بل پر نظر ثانی کی جائےکی جائے ، اسے موجودہ شکل میں یہ بل منظور ہونے کے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔ بل منظور کرنے کیلئے حکومت نے اسمبلی کو بلڈوز کیا۔ایم کیو ایم کے تحفظِ پاکستان بل خوفناک ، بنیادی حقوق و آئین کے منافی ہے ۔اس بل کیمخالفت اور احتجاج کے دوران تحریکِ انصاف کے عارف علوی نے کورم کی نشاندہی کردی لیکن کورم پورا ہونے پر بل پر رائے شمار کی گئی ۔ایم کیو ایم کے فاروق ستار نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی پائمالی کا قانون ہے ۔انہوں نے اس بل کو عدالت میں چیلنج کرنے کا بھی اعلان کیا۔ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کے بعد فارق ستار نے کہا کہ حکومت نے قانون سازی کے طریقوں کو بھی پائمال کیا کیا ہے۔ یہ پالیمینٹ کی تاریخ کا سیاہ دن ہے۔ جے یو آئی کا کہنا ہے کہ صرف جائز کام میں حکومت کے ساتھ ہیں ۔

مزید : قومی /اہم خبریں