ٹیکنالوجی سے تنگ خاتون کی خودکشی

ٹیکنالوجی سے تنگ خاتون کی خودکشی
ٹیکنالوجی سے تنگ خاتون کی خودکشی

  

لندن (نیوز ڈیسک) ایک 89سالہ برطانوی ریٹائرڈ ٹیچر نے ٹیکنالوجی سے تنگ آکر سوئٹزرلینڈ کے ایک کلینک سے اپنی زندگی ختم کروالی۔ اپنی موت سے قبل دئیے گئے انٹرویو مں ”اینے“ کا کہنا تھا کہ اس کا خیال ہے ٹیکنالوجی انسانوں کی سماجی زندگی ختم کررہی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ آلودگی اور حد سے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی میں بھی دنیا تباہ کررہے ہیں۔ اپنے صرف پہلا نام استعمال کرتی تھی اور اسے کوئی ذہنی یا جسمانی بیماری بھی نہیں تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ سمجھ نہیں آتی اتنے سارے لوگ سارا دن کمپیوٹر یا ٹی وی کے سامنے بیٹھے کیسے گزار دیتے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ لہروں کے خلاف تیر رہی ہے۔ وہ ان تمام لوگوں میں شامل نہیں ہوسکتی اس کے مطابق لوگ کہتے ہیں کہ اس کی عادی ہوجاؤ یا مرجاؤ۔ اب عمر ایسی ہے کہ یہ عادات بولنا بے حد مشکل ہے۔ اس لئے اس نے سوئس کلینک کا انتخاب کیا جہاں پر لوگوں کو ان کی خواہش پر موت کی نیند سلادیا جاتا ہے۔ اینے کی موت کے بعد اب بحث شروع ہوگئی ہے کہ کیا لوگوں کو اپنی زندگی خود اس طرح ختم کرنے کی اجازت ہوچنی چاہیے؟

مزید : بین الاقوامی