لوٹ کر انصافیے پارلیمنٹ کو آئے

لوٹ کر انصافیے پارلیمنٹ کو آئے
لوٹ کر انصافیے پارلیمنٹ کو آئے

  

اتوار کی شام جب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان نے سات ماہ اور تین دن کے توقف کے بعد ایک بار پھر ملک کی قانون ساز اسمبلیوں (جنہیں وہ بذات خواد متعدد بار جعلی پارلیمنٹ قرار دے چکے ہیں)کے اجلاس میں شرکت کرنے کا اعلان کیا تو پتہ نہیں کیوں استاد غلام علی خان کی گائی ہوئی ایک غزل غیر دانستہ طور پر زبان پر آ گئی۔ اس غزل کا مرکزی شعر کچھ یوں ہے ’پہلے جاں پھر جان جاں، پھر جان جاناں ہو گئے، دھیرے دھیرے آپ میرے دل کے مہماں ہو گئے‘۔

تحریک انصاف نے 18 اگست کو استعفوں کا اعلان کچھ ان حالات میں کیا تھا کہ جب ان کا پر زور مطالبہ وزیر اعظم نواز شریف کا استعفیٰ اور ان اسمبلیوں کی برخاستگی تھی۔ ابتداء میں استعفیٰ چوبیس گھنٹے میں پیش کرنے کا فرمان جاری ہوا پھر ایمپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار ہونے لگا تو بات چلتے چلتے تیس روز کیلئے استعفے تک پہنچی۔ مگر پھر بات خالی جوڈیشل کمیشن کے قیام پر ہی سمٹنے لگی اور بلآخر محض اس کے ’اعلان‘ پر ہی مختصر ہو گئی۔

یوں ایک طرح سے عمران خان نے علامہ طاہر القادری(جو کہ عمران خان کے بڑے بھائی ہونے کا دعویٰ تو برملا کر چکے ہیں)کے جنوری 2013میں کئے گئے لانگ مارچ کی یاد تازہ کر دی جب قبلہ جس حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے پانچ روز تک سردی میں عوام کو ٹھٹھراتے رہے اسی حکومت کی طرف سے مبلغ 8کروڑ روپے گھر جانے کے کرائے کے طور پر وصول پا کر آرام سے کینیڈا کی راہ نکل دیے۔

کپتان خان کا یہ کہنا ہے کہ یمن کی صورتحال پر پارلیمنٹ کے ہونے والے مشترکہ اجلاس میں تو ضرور شرکت کریں گے کیونکہ یہ ایک ’انتہائی اہم ‘ معاملہ ہے۔ مگر ان کو شاید یاد نہیں ہے کہ اس سے پہلے سانحہ پشاور(جس میں قریباً 140معصو م بچے شہید کر دیئے گئے تھے) کے معاملے پر اسی ’جعلی پارلیمنٹ‘ کا اجلاس بلایا گیا تھا مگر اس میں تو شرکت کی جسارت نہ کی گئی اور پھر جب صاحب ’برادر محترم ‘کے ہمراہ پارلیمنٹ کے سامنے خیمہ زن (یہ لفظ مصلحتاً استعمال کیا جا رہا ہے اس لفظ ’کنٹینر زن‘ ہونا چاہئے)تو اس دوران بھی اسی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا اور انہیں پارلیمنٹ میں آکر اپنے مطالبات پیش کرنے کی پیشکش کی گئی مگر اسے ’جعلی پارلیمنٹ ‘ قرار دے کر ٹھکرا دیا گیا۔

گو 126 روز تک اس ادارے کی بے اعتنائی کر کے جب حکومت اور پارلیمنٹ کو مکمل طور پر بے وقعت کر دیا گیا کہ اب فیصلے ’کہیں اور‘ ہی ہوتے ہیں تو پارلیمنٹ میں آکر اہم عالمی معاملے پر ’بحث‘ کا خیال آیا۔حالانکہ اس سے پہلے محترم کا خیال تھا کہ پارلیمنٹ کے اجلاسوں کا مقصد عوام کے پیسے کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔

جعلی الیکشن، جعلی وزیراعظم، جعلی پارلیمنٹ، جعلی اجلاس اور جعلی سپیکر۔ خیر ایک شخص کو طویل عرصے تک’ جعلی سپیکر‘کے لقب سے پکارنے والے سے یہ پوچھا جائے کہ اسی شخص کو ’جناب سپیکر‘ کہنے سے کیسا محسوس ہوتا ہے تو جانے کیا ماجرا ہو۔

اور اگر محض جوڈیشل کمیشن کے اعلان پر ہی گزارہ کرنا تھا تو یہ اعلان تو وزیر اعظم نواز شریف نے 13اگست کی رات کو ہی کر دیا تھا اور اس ضمن میں اعلیٰ ترین عدلیہ کے چیف جسٹس کو خط بھی ارسال کر دیا گیا تھا۔ مگر عمران خان صاحب کو شاید صدر پاکستان سید ممنون حسین کی زبان پر زیادہ یقین ہے کیونکہ یہی وجہ ہے کہ ان کے کئے گئے اعلان پر انہوں نے فوراً’ہاں ‘ کر دی ہے۔

یا پھر نہیں معلوم کہ ایک بار پھر با اختیار وزیر اعظم (جو کہ بہرحال نواز شریف صاحب ہی ہیں)کو نیچا دکھانا ہی مقصود تھایا جناب ممنون حسین کو یہ حوصلہ دینا مطلوب تھا کہ حضور ابھی آپ اتنے بھی بے وقعت نہیں ہوئے (دراصل اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صدر پاکستان کی حیثیت صرف دستخط کرنے تک ہی محدود ہے اور تمام اختیارات کے مالک وزیر اعظم پاکستان ہیں)۔

اتنا کچھ ہو جانے کے بعد بھی کپتان کا یہ فرمان ہے کہ ’میرا یہ ایمان ہے کہ سال 2015 الیکشن کا سال ہے‘۔گو کہ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں مگر پھر بھی سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہو گا؟ کیونکہ اس ملک میں جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تو کئی حکم نامے آئے مگر عمل کسی پر نہیں تو نئے الیکشن کی راہ کیسے ہموار ہو گی؟

کہیں شیخ الاسلام رواں سال بھی چھٹیاں پاکستان میں گزارنے کا ارادہ تو نہیں رکھتے؟ (ویسے سماجی ویب سائیٹس پر ان کی کچھ تصاویر ان دنوں زیر گردش ہیں جن میں وہ شمالی امریکہ کی کسی ریاست میں سیر کرتے معلوم ہوتے ہیں، مگر یہ عین ممکن ہے کہ یہ سفر بھی ’تعلیمی سفر‘ ہی ہو)۔یا پھر حکومت کو گھر بھیجنے کا کوئی اور منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے؟

ویسے اس ساری صورتحال میں شیخ رشید احمد مستقل غائب ہیں، کسی’ ہمدرد ‘کو چاہئے کہ لال حویلی جا کر ان کی خیریت ہی دریافت کر آئے کیونکہ شادی ہو جانے کے بعد قریبی دوستوں بھول جانا بھی بھلا کہاں کا انصاف ہے؟

مزید : بلاگ