کشمیر کا متنازعہ ہونا ہمالیہ جتنی بڑی حقیقت ہے‘ کل جماعتی حریت کانفرنس

کشمیر کا متنازعہ ہونا ہمالیہ جتنی بڑی حقیقت ہے‘ کل جماعتی حریت کانفرنس

 سری نگر (کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس گ نے کہا ہے کہ کشمیر کا متنازعہ ہونا ہمالیہ جتنی بڑی حقیقت ہے اور بھارت کے پاس کشمیر پر قبضے کا کوئی بھی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ہے ۔ خود ہندوستانی حکمرانوں تک کو چاروناچار ماننا پڑتا ہے کہ یہ ایک تنازعہ ہے، ایسا نہیں ہوتا تو پاکستان کے ساتھ دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ کشمیر پر بھی بات چیت کے ہر موقعے پر انہیں گردان کرنا نہیں پڑتی۔ حریت ترجمان نے ڈاکٹرز ایسوسی ایشن آف کشمیرکے صدر ڈاکٹر نثار الحسن کو نوکری سے مسلسل معطل رکھنے کی کارروائی کو ظالمانہ اور بے رحمانہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں اگر ڈاکٹر نثار الحسن بھی اس منہ بولتی حقیقت کا کبھی اظہار کرتے ہیں تو یہ کونسا جرم ہے؟ اس معاملے پر تو پھر پوری کشمیری قوم کے خلاف مقدمات درج کرنا ہوں گے کہ وہ بھارت کے فوجی قبضے کو دل سے تسلیم نہیں کرتے ہیں اور جب موقع مل جاتا ہے تو اس کے خلاف زبان کے ذریعے سے بھی احتجاج درج کراتے ہیں۔ ترجمان ایاز اکبر نے اپنے بیان میں کہا کہ نثار الحسن کے معاملے کو ایک سازش کے تحت سیاسی رنگت دی گئی ہے، کیونکہ ریاستی مشینری میں جو لوگ نقلی ادویات کے دھندے میں ملوث ہیں وہ اخلاقی حیثیت سے براہِ راست طور ڈاکٹر نثار کے ساتھ ٹکر نہیں لے سکتے تھے، لہذا انہوں نے ریاستی پاور کو استعمال کرکے ان پر ایک اوچھا وار کیا اور پہلے ان کے خلاف فرضی الزامات کے تحت ایک ایف آئی آردرج کرایا گیا اور پھر اس کو بنیاد بناکر انہیں نوکری سے ہی نکال دیا گیا۔ حریت نے ڈاکٹر نثار الحسن کی فوری بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے ڈاکٹر صاحبان کی اخلاقی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ اس حکومتی فیصلے کے خلاف آواز اٹھاتے اور اپنے ہم پیشہ بھائی کا ساتھ دے دیتے۔ البتہ انہوں نے خاموشی میں ہی عافیت سمجھی اور ڈاکٹر نثار کو حکومتی سطح کی سازش کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا۔ حریت ڈاکٹر نثار الحسن کی مسلسل معطلی کو انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی سمجھتی ہے کہ اس وجہ سے ان کی فیملی بھی مشکلات اٹھارہی ہے اور انہیں ناکردہ گناہوں کی سزا دی جارہی ہے۔

مزید : عالمی منظر