جرمن فضائی اتھارٹی مسائل کا شکار ہے، یورپی یونین

جرمن فضائی اتھارٹی مسائل کا شکار ہے، یورپی یونین

 بر سلز(آن لائن) یورپی یونین نے جرمن ایوی ایشن اتھارٹی کی کارکردگی میں مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ ’’ای اے ایس اے‘‘ کے مطابق جرمنی میں مسافر بردار جہازوں کے عملے کی صحت کی نگرانی کے معاملات پر موثر انداز میں نظر نہیں رکھی جا رہی۔امریکی اخبار ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے لکھا ہے کہ یورپی کمیشن نے گزشتہ برس نومبر میں ہی جرمن ایوی ایشن حکام سے کہا تھا کہ وہ پہلے سے جمع مسائل کا تدارک کرے۔ جہاز کے عملے کی صحت سے متعلق مسائل 24 مارچ کو جرمن ونگز کے طیارے کی تباہی کے بعد ایک مرتبہ پھر منظر عام پر آئے ہیں۔ لفتھانزا کی ضمنی ایئر لائن جرمن ونگز کے اس طیارے کو معاون پائلٹ آندریاس لوبٹس نے دانستہ طور پر گرایا تھا۔ طیارے کے فرانسیسی ایلپس کے پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو جانے کے نتیجے میں ایک سو پچاس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ، جن میں اکثریت جرمن اور ہسپانوی شہریوں کی تھی۔’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے اپنی رپورٹ میں دو ایسے اشخاص کا حوالہ دیا ہے جو کہ اس معاملے کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جرمن ایوی ایشن اتھارٹی کے پاس عملے کی کمی ہے، جس کے باعث اس کے جہازوں اور عملے کی جانچ پڑتال کے کام، بشمول عملے کے طبی معائنے جیسے کاموں میں رکاوٹ پڑتی ہے۔یورپی کمیشن کے ترجمان کے بیان کے مطابق: ’’ای اے ایس اے کی گزارشات کو سامنے رکھتے ہوئے کمیشن نے جرمن حکام سے بات کی ہے۔ اس ضمن میں جرمنی کے جو جوابات موصول ہوئے ہیں ان کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔کمیشن کا مزید کہنا ہے کہ ’’یہ ایک نارمل کارروائی ہے جس کے تحت تمام یورپی ممالک کی ایوی ایشن اتھارٹیز کو تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔امریکی جریدے کے مطابق یہ بات واضح نہیں ہے کہ جرمن ونگز کے طیارے کی تباہی اور یورپی یونین کی جانب سے بتائی گئی خامیوں کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا نہیں۔واضح رہے کہ جرمن ایوی ایشن اتھارٹی پر سوالات جرمن ونگز کے مسافر بردار طیارے کی تباہی کے بعد اٹھنا شروع ہوئے۔ گزشتہ ماہ ایئر بس A320 کے کریش ہوجانے کے بعد ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس جہاز کے اٹھائیس سالہ معاون پائلٹ نے مرکزی پائلٹ کے کاک پِٹ سے باہر نکلنے کے بعد مبینہ طور پر کاک پِٹ کو بند کر کے طیارے کو دانستہ پہاڑیوں سے ٹکرا دیا تھا۔ یہ جہاز ہسپانوی شہر بارسلونا سے جرمن شہر ڈسلڈورف کی جانب پرواز کر رہا تھا۔جرمن اخبار ’’بِلڈ‘‘ نے اس واقعے کے بعد انکشاف کیا تھا کہ لْوبِٹس شدید ڈپریشن کا شکار تھا۔ مغربی جرمن قصبے مونٹاباور سے تعلق رکھنے والے جرمن ونگز کے اس معاون پائلٹ کے بارے میں جرمن اخبار کے اس انکشاف سے کئی سوال کھڑے ہو گئے ہیں کہ اگر وہ شدید ڈپریشن کا مریض تھا تو اسے پائلٹ بننے کا اہل کیسے قرار دیا گیا۔

مزید : عالمی منظر