ڈاکٹر ذکری علوش کو بغداد کی پہلی خاتون میئرمقر کردیا گیا

ڈاکٹر ذکری علوش کو بغداد کی پہلی خاتون میئرمقر کردیا گیا

 بغداد ( آن لائن )عراق کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون ڈاکٹر ذکری محمد علوش کو بغداد کا میئر مقرر کیا گیا ہے۔ انہیں نہ صرف عراق بلکہ عرب دنیا کے کسی بھی دارلحکومت میں پہلی خاتون میئر ہونے کا اعزاز حاصل ہوگیا ہے۔ڈاکٹر ذکری کو ملنے ولے اس عہدے میں اختیارات کابینہ کے وزیر کے برابر ہیں۔ وہ براہ راست عراقی وزیر اعظم کی ماتحت بن کر کام کریں گیں۔ وزیر اعظم حیدر العبادی نے ذکری کو میئر بنانے کے بعد ایک بیان میں ان کی قائدانہ خوبیوں کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ جنگ سے تباہ حال شہر کی تعمیر نو کے لیے ڈاکٹر ذکری اپنی تمام صلاحیتوں کو استعمال کریں گی۔ ‘‘ڈاکٹر ذکری علوش ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے سول انجینئر ہیں، انہوں نے اس شعبے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔ وہ وزارت اعلیٰ تعلیم کی ڈائریکٹر جنرل بھی ہیں۔ ان کے اندر ایک باصلاحیت ٹیکنوکریٹ کی جھلک واضح طور پر دکھائی دیتی ہے، تاہم ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ذکری کی غیر جانب دارانہ تقرری نے ناقدین کے منہ بھی بند کر دیے ہیں۔ عراقی حکومت کی جانب سے کسی خاتون کو میئر کا عہدہ دیے جانے کا اقدام کافی سراہا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے لیے عراقی افسر انچارج ڈاکٹر سید صادق کے مطابق، بغداد میں خاتون میئر کی تعیناتی ایک خوش آیند بات ہے، انہیں ڈاکٹر ذکری پر بھرپور اعتماد اور ان کی صلاحیتوں پر پورا بھروسا ہے کہ وہ شہر کے مخدوش حالات میں بھی خواتین کے حقوق کی اور زیادہ پاس داری کو ممکن بنائیں گی اور صنفی تفاوت کا خاتمہ کرنے کے لیے راست قدم اٹھائیں گی۔ سید صادق نے اس امر پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ خاتون میئر وزیر اعظم کے زیر نگرانی کام کر رہی ہیں، اس طرح تمام معاملات پر عمل درآمد کروانے اور عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو گی۔حکومت نے یہ فیصلہ بہت صحیح وقت پر کیا، کیوں کہ عراق کو ان دنوں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس سے قبل انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے عراقی سرکار پر الزام عائد کیا کہ ملک میں خواتین کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کو روا رکھا گیا ہے، یہ فیصلہ ان حالات میں صنفی امتیاز کے خاتمے کی طرف ایک پیش رفت قرار دیا گیا۔عراق کے آئین میں خواتین کے لیے پارلیمان میں 25 فی صد نشستیں مخصوص کی گئی ہیں۔ تاہم ملک کے 29 وزرا میں سے صرف 2 ہی خواتین ہیں۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں عراقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بتایا گیا کہ ملک کی ایک چوتھائی خواتین ناخواندہ ہیں۔ انہیں تعلیم کی سہولیات حاصل نہیں اور 14 فی صد خواتین برسر روزگار ہیں۔ڈاکٹر ذکری کی تعیناتی سابق میئر نعیم عبعوب کی برطرفی کے بعدکی گئی۔ سابق میئر نے سماجی ذرایع اِبلاغ پر ایک مضحکہ خیز بیان دیا، جس کی وجہ سے وہ عتاب کا نشانہ بنے۔ عبعوب نے مارچ 2014ء4 میں یہ کہا تھا کہ ’’بغداد دبئی اور نیویارک سے زیادہ خوب صورت ہے۔‘‘ اس کے بعد سے ان پر الزامات کی بوچھاڑ ہوگئی اور انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔عبعوب کے ایسے زمینی حقائق کے متضاد بیان سے سرکاری سطح پر ہلچل مچ گئی، کیوں کہ عراق میں اس وقت خوں ریزی اور فسادات عروج پر ہے۔ سوشل میڈیا پر نعیم عبعواب کو ایک غیرسنجیدہ شخص قرار دیا گیا اور ان پر سخت نکتہ چینی کی گئی۔ بغداد کے شہریوں نے صاف کہا کہ وہ میئر کے عہدے کے قابل نہیں اور وزیراعظم حیدر العبادی کو اپنے دور حکومت کے شروع میں ہی اس میئر کو ہٹا دینا چاہیے تھا۔ایک ایسے حساس شہر کی میئر شپ ڈاکٹر ذکری کو ملنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے، پہلے انہیں اس عہدے سے وابستہ توقعات پوری کرنی ہیں، ثانیاً انہیں صنف نازک کے پامال حقوق کی بحالی کا بیڑہ اٹھانا ہے۔ صرف عراق ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی خواتین کی نظریں ڈاکٹر ذکری پر مرکوز ہیں۔

مزید : عالمی منظر