نظریاتی انتشار کے بھنور سے نکالنے کیلئے حکمیانہ اقدامات کئے جائیں‘ اعظم انقلابی

نظریاتی انتشار کے بھنور سے نکالنے کیلئے حکمیانہ اقدامات کئے جائیں‘ اعظم ...

 سری نگر (کے پی آئی)محاذ آزادی سرپرست اعظم انقلابی نے کہا ہے کہ ملت اسلامیہ کو داخلی فکری اور نظریاتی انتشار کے بھنور سے نکالنے کیلئے حکمیانہ اقدامات کئے جائیں۔ یمن کی صورتحال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے اعظم انقلابی نے کہاکہ اغیار سیاروں اور ستاروں پر کمند یں ڈال رہے ہیں اور امت مسلمہ مسلکی، نسلی، گروہی اور ذاتی تعصبات کی دلدل میں پھنسے رہنے میں ہی قلبی راحت اور اطمینان محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے ملتِ اسلامیہ کے علمادین اور دانشوروں سے اپیل کی کہ وہ صمیم قلب سے حی ال4155ی4162م اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوے غور کریں۔ اعظم انقلابی نے کہاکہ ملتِ اسلامیہ کا داخلی فکری انتشار گردوپیش کی طاغوتی طاقتوں کیلے4 سرمہ4 چشم ہے، ہم تو خود ہی غلبہ4 طاغوت کیلئے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملتِ اسلامیہ کو داخلی فکری اور نظریاتی انتشار سے بچانے کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم اجتہاد اور درایت پسندی (eclecticism) کو بنیاد بنا کر موثر عملی استدلال اور تفہم کے ذریعے ہمہ گیر دعوتی تحریک شروع کریں، اس مقدس دعوتی تحریک کے ذریعے ہی اسلامی نشا ثانیہ (Islamic Renaissance) کا خواب شرمندہ4 تعبیر ہوسکتا ہے اور پاکستان اِس قسم کی تحریک کا مرکز اور محور بن سکتا ہے۔ اعظم انقلابی نے کہاکہ میں مسلم حکمرانوں سے دردمندانہ اپیل کررہا ہوں کہ آپ اپنے مکان کی ذاتی لائبریری کو چند گھنٹوں کیلئے بند کرکے صرف قرآن مجید اور قلم کاغذ لے کر دوسرے کمرے میں مطالعہ قرآن اور مراقبہ میں مصروف رہیں توحید عقیدہ آخرت جزبہ اخوت و ایثار دعوتِ دین اور مِلی مزاحمت کے موضوعات سے متعلق قرآنی آیات کو قلمبند کرتے رہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ کیفیت یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ آج ملتِ اسلامیہ کو داخلی فکری اور نظریاتی انتشار کے بھنور سے نکالنے کیلئے کیا حکیمانہ اقدامات کئے جائیں، اگر آپ اتنا بھی نہیں کرسکتے تو ہم عرض کریں گے کہ "رہ گئی رسمِ اذان روحِ بلال نہ رہی"۔ انہوں نے کہاکہ میں ملتِ اسلامیہ کے علمادین اور دانشوروں سے اپیل کررہا ہوں کہ وہ صمیم قلب سے حی ال4155ی4162م اللہ کی طرف رجوں کرتے ہوے ہماری گزارشات پر غور فرمائیں۔ انہوں نے کہاکہ ملتِ اسلامیہ فکری اور نظریاتی status-quo کی کیفیت پر قالغ رہی تو ہم طاغوتی طاقتوں کی اجتماعیت کے مقابلے میں عملا non-entity بن جائیں گے۔

مزید : عالمی منظر