اسرائیل مکمل رقم ادا کرے ورنہ جرائم کی عالمی عدالت جائیں گے ‘ فلسطینی صدر

اسرائیل مکمل رقم ادا کرے ورنہ جرائم کی عالمی عدالت جائیں گے ‘ فلسطینی صدر

 غزہ(آن لائن)فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسرائیل کی جانب سے ملنے والی ٹیکس آمدن وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل نے فلسطین کے لیے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی ہزاروں ڈالر مالیت کی منجمد رقم دینے کا اعلان کیا تھا۔صدر محمود عباس نے ٹیکسوں آمدن میں کٹوتی کی وجہ سے ٹیکس سے حاصل آمدن وصول کرنے سے انکار کیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مکمل رقم فراہم نہ کرنے پر وہ جرائم کی عالمی عدالت سے رجوع کریں گے۔فلسطینی اتھارٹی کا ٹیکس اسرائیل وصول کرتا ہے لیکن رواں سال جنوری سے اسرئیل نے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن کی منتقلی روک دی تھی۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ جرائم کی عالمی عدالت میں فلسطین کی رکنیت کے بعد احتجاجاً رقم منجمد کی گئی۔جرائم کی عالمی عدالت کا رکن بننے کے بعد فلسطین اسرائیل کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے تحت قانونی چارہ جوئی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ اْس نے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن میں سے پانی، بجلی سمیت دیگر فراہم کی گئی خدمات کی کٹوتیاں کی ہیں۔اسرائیل نے فلسطین کو رقوم کی منتقلی دو ہفتے قبل شروع کی تھی۔اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ’مشرق وسطیٰ میں خراب ہوتی صورتحال‘ اور انتہا پسندی بڑھنے پر ’ذمہ درانہ اقدامات‘ کرنے کی ضرورت ہے۔ادھر راملہ میں ایک ریلی سے خطاب میں صدر محمود عباس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بغیر کٹوتی کے ٹیکس آمدن دے۔انھوں نے کہا کہ ’ہم رقم واپس کر رہے ہیں یا تو وہ ہمیں تمام رقم دیں، نہیں تو ہم ثالثی کے لیے جرائم کی عالمی عدالت کا رخ کریں گے، ہم کسی اور چیز پر متفق نہیں ہوں گے۔‘اسرائیل کے وزیراعظم ہاوس کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’اگر فلسطینی اتھارٹی کہے گی، تو وہ واپس کی گئی رقم کسی بھی وقت دوبارہ منتقل کرنے کو تیار ہیں۔‘اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اتھارتی کے ٹیکسوں سے حاصل رقوم کو منجمد کرنے کے فیصلے سے فلسطین کی دو تہائی آمدن ختم ہو گئی تھی اور حکومت کو ہزاروں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 40 فیصد تک کٹوتی کرنا پڑی تھی۔اسرائیل نے گزشتہ دہائی میں تین مرتبہ ٹیکس آمدن کی منتقلی روکی ہے۔ لیکن رواں سال جنوری میں ٹیکس آمدن مجنمد کرنے سے فلسطین کا اقتصادی خسارہ 15 فیصد تک پہنچ گیا ہے جبکہ بیروزگاری کی شرح 25 فیصد تک ہو گئی ہے۔

مزید : عالمی منظر