اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی، ایک سال میں 560 فلسطینی بچے شہید کردیئے

اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی، ایک سال میں 560 فلسطینی بچے شہید کردیئے

 رام اللہ (این این آئی) فلسطین میں اسرائیلی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں پچھلے ایک سال کے دوران کم سے کم560 کم عمرفلسطینی شہید اور سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا۔ شہداء میں سے بیشتر کا تعلق غزہ کی پٹی سے تھا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ 550 فلسطینی بچے پچھلے سال جولائی اور اگست میں غزہ کی پٹی پر مسلط 51روزہ جنگ کے دوران وحشیانہ بمباری کے دوران شہید کئے گئے ،بمباری میں ہزاروں کی تعداد میں بچے زخمی بھی ہوئے۔رپورٹ کے مطابق 10بچے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی روز مرہ کی بنیاد پر جاری ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہوئے۔ پچھلے ایک سال کے دوران کم سے کم 800 فلسطینی بچوں کو حراست میں لیکرعقوبت خانوں میں ڈالا گیا۔رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی اسرائیلی جیلوں میں 200 سے زائد فلسطینی بچے زیرحراست ہیں۔ جنہیں جنگی جرائم کے تحت قید خانوں میں رکھا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کم عمرفلسطینی بچوں کی گرفتاریوں کو روز کا معمول بنا لیا ہے۔ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں فلسطینی شہریوں کے بچوں کو آئے روز کی پابندیوں کا سامنا ہے۔ قابض فوجی سکولوں اور گھروں پر چھاپے مار کر نام نہاد الزامات کے تحت بچوں کو گرفتار کرتے اور انہیں جیلوں میں ڈال دیتے ہیں۔

مزید : عالمی منظر