واپڈادریائے چناب پر چنیوٹ ڈیم کی فزیبلٹی سٹڈی شروع کریگا

واپڈادریائے چناب پر چنیوٹ ڈیم کی فزیبلٹی سٹڈی شروع کریگا

 لاہور(کامرس رپورٹر)واپڈا دریائے چناب پر چنیوٹ ڈیم کی تعمیر کیلئے منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی شروع کر رہا ہے۔ واپڈا نے فزیبلٹی سٹڈی کے لئے اپنے وسائل سے 8 کروڑ 67 لاکھ روپے کا بندوبست کر نے کا فیصلہ کیا ہے ، جبکہ وفاقی حکومت مذکورہ مقصد کے لئے 5 کروڑ روپے مہیا کرے گی ۔ چنیوٹ ڈیم دریائے چناب کے سیلاب کو کنٹرول کرنے کے لئے نہایت اہم منصوبہ ہے ۔ سیلاب کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیم میں زرعی مقاصد کے لئے پانی ذخیرہ ہوگا اور اِس منصوبے سے سستی پن بجلی بھی حاصل ہوگی ۔ چنیوٹ کے نواحی علاقے میں لوہے ، تانبے اور سونے کے ذخائر دریافت ہونے کے بعدممکنہ طورپر مستقبل میں وہاں قائم ہونے والی صنعت کے لئے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے پیشِ نظر بھی اِس ڈیم کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے ۔پلاننگ کمیشن آف پاکستان میں سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی ( سی ڈی ڈبلیو پی) نے حال ہی میں چنیوٹ ڈیم کی فزیبلٹی سٹڈی کے لئے 13 کروڑ 67 لاکھ روپے پر مبنی پی سی2-منظور کیا ہے ۔ پی سی2-کی منظوری کے وقت سی ڈی ڈبلیو پی نے کہا کہ فزیبلٹی سٹڈی کے لئے وفاقی حکو مت 5کروڑ روپے فراہم کرے گی جبکہ باقی 8 کروڑ 67 لاکھ روپے واپڈا کو اپنے وسائل سے مہیا کرنا ہوں گے۔ منصوبے کی اہمیت کے پیشِ نظر واپڈا نے اِس تجویز سے اتفاق کیا ہے اور منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی جلد از جلد شروع کرنے کافیصلہ کیا ہے ۔ فزیبلٹی سٹڈی ڈیڑھ سال کی مدت میں مکمل ہوگی ۔ سٹڈی کی تکمیل اور تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن کی تیاری کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ڈیم چار سال کی مدت میں تعمیر ہوگا ۔پنجاب کا بیشتر حصہ میدانی علاقے پر مشتمل ہے اور یہاں سیلاب کے دوران پانی ذخیرہ کرنے کے لئے سائٹس نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ دریائے جہلم پر پانی ذخیرہ کرنے کی ایک ہی سائٹ ہے ، جسے منگلا ڈیم کی صورت میں بروئے کار لایا جاچکا ہے ۔ 1967 ء میں اپنی تکمیل کے بعد منگلا ڈیم سیلاب کو کنٹرول کرنے میں اپنی افادیت بارہا ثابت کر چکا ہے ۔  اِسی طرح دریائے چناب پر بھی پانی ذخیرہ کرنے کی صرف ایک ہی سائٹ ہے، جو چنیوٹ شہر سے بالائی جانب 5 کلو میٹر کی مسافت پر ہے ۔ اِس سائٹ پر 10 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ 69 میگاواٹ سستی پن بجلی بھی پیدا کی جا سکتی ہے ۔ چنیوٹ ڈیم کے بڑے مقاصد میں پانی ذخیرہ کرنے ، زیریں جانب نہری نظام میں پانی کو ضرورت کے مطابق چھوڑنے ، بجلی کی پیداوار اور سب سے بڑھ کر سیلاب کو کنٹرول کرنا شامل ہیں ۔ 2014 ء میں دریائے جہلم اور دریائے چناب میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے صوبہ پنجاب میں زبردست تباہی پھیلا ئی ۔ اِس دوران اگرچہ منگلا ڈیم نے دریائے جہلم میں آنے والے پانی کے ریلے کی بہت بڑی مقدار کو اپنے اندر ذخیرہ کیا ، تاہم اِس کے برعکس دریائے چناب پر پانی ذخیرہ کرنے کے لئے کوئی ڈیم نہیں تھا ۔ مذکورہ صورتِ حال چنیوٹ ڈیم کو بلا تاخیر تعمیر کرنے کی متقاضی ہے چنیوٹ میں لوہے ، تانبے ، اور سونے کے ذخائرکی دریافت سے علاقے میں قائم ہونے والی صنعت کی پانی سے متعلق ضروریات بھی اِس ڈیم کی بدولت پوری کی جاسکیں گی ۔

مزید : کامرس