یمن کا بحران اور پاکستان کا کردار

یمن کا بحران اور پاکستان کا کردار
یمن کا بحران اور پاکستان کا کردار

  

یمن میں کم و بیش ایک عشرے سے کشمکش جاری ہے ۔ سب سے خطرناک پیش رفت یہ تھی کہ سول کشمکش میں علاقائی طاقتوں کا تصادم جن میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان رقابت سب سے شدید ہے اور یہ رقابت جلتی پر تیل کا کام تھا ان دونوں ممالک کی مداخلت درمداخلت کی پالیسی نے ان کے ہم خیال گروہوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر دیا ہے ۔خطے کی موجودہ کشمکش میں سعودی عرب کی قیادت میں الائنس نسبتا طاقتور ہے اور اسے امریکہ اور مغربی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے ۔ یہ خطے پر جارحانہ انداز میں اثر انداز ہو کر اپنی مرضی سے معاملات کو نمٹانا چاہتا ہے ۔یمن میں اقتدار کی شدید ترین رسہ کشی نے مکمل جنگ کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ اس جنگ کا اختتام جو بھی ہو اس جنگی حکمت عملی کے ہمارے خطے میں دوررس اثرات ہوں گے ۔یمن بہت اہم مقام آبنائے باب المندب پر واقع ہے اور دنیا بھر کو برآمد ہونے والا تیل اسی مقام سے گزرتا ہے ۔2012ء میں یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کی برطرفی کے بعد ان کے نائب صدر عبدالربہ منصور ہادی نے حکومت اور اپوزیشن گروپوں کے مابین مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے معاہدے کے تحت اقتدار سنبھالا اور ملک کو سیاسی اعتبار سے متحد کرنے کی کوشش کی ۔

حوثی جنگجو 2014ء میں دارالحکومت صنعا میں داخل ہوگئے اور انہوں نے منصور ہادی کو مجبور کیا کہ وہ دوسرے سیاسی دھڑوں کے ساتھ مل کر ایک متحدہ حکومت تشکیل دیں ۔واضح رہے کہ سعودی عرب اور یمن کی طویل سرحد مشترک ہے ۔خلیج کی عرب ریاستوں نے ایران پر حوثیوں کو مالی اور فوجی حمایت فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ایران اس کی تردید کرتا ہے ۔بظاہر منصور ہادی حکومت کر رہے ہیں ۔مارچ کے آخری ایام میں باغی افواج عدن میں صدر ہادی کے محفوظ ٹھکانے تک پہنچ گئی ہیں تو سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد نے ان کی درخواست پر حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کر دیئے ۔

اس خطے میں کچھ خطرنا ک عوامل سر اٹھا رہے ہیں ۔ ان میں سب سے تشویش ناک داعش ہے ۔ جس نے شام اور عراق میں اپنی جڑیں پھیلا رکھی ہیں جب کہ اس کے ہم خیال بہت سے انتہا پسند گروہ دیگر ریاستوں میں بھی فعال ہیں اس طرح یہ خطہ بھی شدید قسم کی کشمکش کا شکار ہے اس کشمکش کا ایندھن بننے کیلئے ہر گروہ اپنی صفوں کو مضبوط کرنے کیلئے نوجوانوں کو بھرتی کر رہا ہے ۔ اس بھرتی کے عمل میں بہت سی تنظیمیں معاونین کا کردار ادا کر رہی ہیں ۔ اسی تنظیمی نظریات کی آڑ میں برین واشنگ کر کے نوجوانوں کو اس کشمکش میں جھونک رہی ہیں ۔بیروزگاری اور تعلیمی سہولیات کے فقدان کے ساتھ پاکستان ایسی تنظیموں کیلئے ایک زرخیز زمین ہے ۔ پاکستان کئی عشروں سے مشرق وسطیٰ میں بننے والے پاور بلاک کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے ۔کیونکہ اس کے سیکورٹی اپریٹس کا دارومدار انہی مغربی ممالک پر ہے ۔جو ایسے بلاکس کے حامی ہیں ۔ہمارے بعض حکمرانوں کے عرب ریاستوں کے حکمرانوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور ہماری افرادی قوت کی کھپت کی اہم ترین جگہ بھی یہی ممالک ہیں ۔ جس سے بہت زیادہ پیسہ آتا ہے ۔ پاکستان جیسے ملک کے لئے دونوں مخالف ممالک سعودی عرب اور ایران کے ساتھ تعلقات کا توازن برقرار رکھنا انتہائی دشوار ہے عرب کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا تقاضا ہے کہ ہم انتہائی ہوش مندی اور احتیاط سے کام لیں ۔

یمن جنگ لڑنے کے اعتبار سے ہر کسی کیلئے ایک مشکل ملک ہے کیونکہ جنگ کی حدود غیر واضح ہیں اور ماضی میں روس اور امریکہ جیسی سپر پاور کا حال ہم افغانستان میں دیکھ چکے ہیں ۔آج کے معروضی حالات میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستان مشرقی وسطیٰ میں ہونے والی کشمکش سے خود کو ہر ممکن حد تک دور رکھے تاہم یہ کام اتنا آسان نہیں ہو گا۔خاص طور پر اس وقت جب پاکستان کے موجودہ حکمرانو ں کے سعودی عرب کے حکمرانوں سے انتہائی قریبی تعلقات ہیں ۔ ہم کسی دوسرے کی پراکسی وار کا حصہ بننے کے متحمل نہیں ہو سکتے اسی لیے ہمیں اس تصادم میں کسی کا ساتھ دینے سے مکمل طور پر اجتناب کرنا ہو گا ۔ہماری مسلح افواج پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنے میں مصروف ہیں ۔اس سے توجہ ہٹانے سے آپریشن ضرب عضب پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔ ہم مزید شورشوں میں نہیں کود سکتے ۔قوم توقع رکھتی ہے کہ حکومت عربوں کے باہمی تصادم میں کوئی فوجی کردار قبول کرنے سے پہلے احتیاط اور ہوش مندی سے جائزہ لے گی ۔ مسلمانوں یا عربوں کی لڑائی میں اگر ہمارا کوئی کردار ہو سکتا ہے تو وہ کسی فریق کا حصہ بننے کا نہیں بلکہ امن قائم کرنے والے ملک کا ہونا چاہئے۔

مزید : کالم