تحریک انصاف کی اسمبلیوں میں دوبارہ آمد

تحریک انصاف کی اسمبلیوں میں دوبارہ آمد
تحریک انصاف کی اسمبلیوں میں دوبارہ آمد

  

پیارے دوستو! میدان سیاست سے گرما گرم خبریں یہ ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف بالآخر آٹھ ماہ سے جاری جعلی اسمبلیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے بعد اسی ایوان کی زینت بننے کے لئے تیار ہو گئی ہے۔ گزشتہ سال اگست سے جاری عمران خان کا احتجاج جو14 اگست 2014ء سے جاری تھا اور جس کی وجہ سے عمران خان اسمبلیوں میں بیٹھنے کے لئے تیار نہیں تھے ، کہہ رہے تھے کہ ہم دھاندلی کی پیدوار جعلی اسمبلی میں نہیں بیٹھیں گے۔ عمران خان کی شرط تھی کہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے جو ڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے جاری عمران خان کا مطالبہ پورا ہوا اور حکومت اور تحریک انصاف کے مابین کامیاب مذاکرات ہوئے، جس کے نتیجے میں جوڈیشنل کمیشن کے لئے آرڈی ننس جاری ہو گیا۔ جوڈیشنل کمیشن کے قیام کے بعد عمران خان کے پاس اسمبلی میں بیٹھنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا ، اسی لئے عمرن خان نے اسمبلیوں میں واپسی کا اعلان کر دیا۔یہ اعلان عمران خان نے پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن بن گیا، اب ثابت کریں گے کہ ستر لاکھ ووٹ جعلی تھے ، ان کا ایمان ہے کہ 2015ء الیکشن کا سال ہے۔ بہت سے دوست تو یہ سوال کر رہے ہیں کہ یہ بات تو وہ پہلے بھی کر چکے کہ2014ء عام انتخابات کا سال ہو گا، لیکن ایسا نہیں ہو سکا ، شاید اسی لئے اب بھی بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ شائد 2015ء میں بھی انتخابات عمران کا خواب بن کر رہ جائیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ کراچی جائیں گے اور عمران اسماعیل کے جلسوں میں بھر پور شرکت کریں گے۔ عمران خان نے الطاف حسین کو بھی للکارا اور کہا کہ جو کر نا ہے کر لیں ۔ عمرن خان نے واضح کیا کہ وہ اب اسمبلی میں بیٹھ کر بھر پور اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ عمران خان کے اسمبلیوں میں بیٹھنے کے اعلان نے بھی مخصوص حلقوں میں ہلچل مچا دی ، بہت سے تو بر ملا کہہ رہے ہیں کہ موجودہ اسمبلیوں کو جعلی قرار دینے والے کس منہ سے دھاندلی کی پیداوار اسمبلیوں میں بیٹھیں گے ،

عمران خان اور ان کی جماعت نے اسمبلیوں میں بیٹھنے کا جو فیصلہ کیا ہے، بہت سے سیاسی ، صحافتی اور سماجی حلقے اسے سراہتے نظر آرہے ہیں۔ جمہوریت میں اپنی آواز بلند کرنے ، اعلیٰ حکام تک اپنی بات پہنچانے ، اور عوام کو اپنی بات سنانے کا مؤثر ترین ذریعہ ایوان ہی ہے، اب ایک بار پھر سیاسی حالات میں سدھار نظر آرہا ہے ،دیکھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی اسمبلیوں میں واپسی کیا رنگ لائے گی اور ایوان میں حکومت کے لئے کس قدر مشکلات پیدا ہوں گی۔ یہ بات بھی وقت ہی بتا سکتا ہے ،دیکھنا تو یہ بھی ہے کہ جو جوڈیشل کمیشن بنایا گیا ہے آیا وہ اپنا کام بآسانی مکمل کر سکے گا، اور جن مقاصد کے لئے جوڈیشنل کمیشن کا قیام وجود میں لایا گیا ہے ،وہ مقاصد بھی حاصل ہو سکیں گے یا نہیں؟ یہ بات بھی وقت ہی بتائے گا ، بہر حال امید تو یہی ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کا اسمبلی میں بیٹھنا حکومت اور ایوان کے لئے بھی نیک شگون ثابت ہوگا ، اجازت چاہتے ہیں، آپ سے ملتے ہیں جلد ایک بریک کے بعد، چلتے چلتے اللہ نگہبان، رب راکھا۔

مزید : کالم