اف یہ بیٹے !

اف یہ بیٹے !
اف یہ بیٹے !

  

مصطفے کانجو نامی شخص دہشت گردی کی عدالت میں قتل کا مقدمہ بھگت رہا ہے۔ قاتل پر سر راہ ایک نوجوان کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ لاہور میں سر عام گولی چلادی۔ طالب علم زین گولی کی زد میں آگیا اور ہلاک ہو گیا۔ پہلے تو یہ سنیں کہ یہ حضرت سابق وزیر مملکت صدیق کانجو کے بیٹے ہیں۔ رکن قومی اسمبلی عبدالرحمان کانجو کے بھائی ہیں۔ لندن میں رہائش رکھتے ہیں۔ انہیں پروگرام کے مطابق واپس لندن جانا تھا لیکن ان کا زعم انہیں جیل لے گیا۔ مقدمہ چلے گا۔ دیکھیں وکلاء حضرات عدالتوں کو کس طرح قائل کرتے ہیں۔ با اثر پاکستانی لوگوں کے بیٹوں کا معاملہ بھی عجیب ہی ہوتا ہے ۔ ان کے بڑے پہلے مرحلے پر ہی اگر ان کی سرزنش کردیں تو بچے کا بچاؤ ہوجاتا ہے وگر نہ بچے کا بچنا مشکل ہوتا ہے۔ ان کی عمر 35 برس کے لگ بھگ ہے۔ یہ بچہ نہیں ہے ۔ انہیں سورج کی تپش اور چاند کی ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔ لیکن ان کے جسم میں موجود با اختیار اور با اثر ہونے کی گرمی ان جیسے لوگوں کے ذہنوں کو مفلوج کرنے کا سبب بن گئی ہے۔ کراچی میں ایک دولت مند ٹھیکیدار، صنعتکار اور زمیندارسکندر جتوئی کے بیٹے شاہ رخ نے بھی اسی طرح اپنے پڑوسی نوجوان شاہ زیب کا سر عام قتل کر دیا تھا۔ اک ذرا سی بات پر صاحب زادے آپے سے اس قدر باہر ہو گئے تھے کہ پڑوسی کا پیچھا کر کے اسے گولی مار دی تھی۔ ان کا ملازم شاہ زیب کی بہن کو تنگ کر رہا تھا جس پر شاہ زیب نے اس ملازم کی سر زنش کر دی تھی۔

شاہ زیب کی ایک اور بہن کی اسی رات شادی بھی تھی۔ معاملات عدالت میں چلے گئے ، باپ چوں کہ دولت مند ہیں انہوں نے اپنے لاڈے کو دوسرے کا لاڈلا ہلاک کرنے کی سزا سے بچانے کے لئے عدالت کے تیور دیکھتے ہوئے پڑوسی کو ان کے جوان سال بیٹے کے قتل کے جرم کو معاف کرنے کے لئے بھاری رقم قصاص میں دینے کی پیشکش کر دی ۔ اخبارات نے لکھا کہ معاملہ طے ہو گیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے ان ہی دنوں میں قصاص کے ایک اور مقدمے میں ایسا فیصلہ سنا دیا کہ شاہ رخ جتوئی جیل ہی میں پڑے ہیں۔ دولت مند باپ کے بیٹے ہیں اس لئے والد جیل میں بھی اپنے لاڈلے بیٹے کی دل جوئی کے لئے ہر سہولت خرید نے کا انتظام کر تے ہیں۔ یہ صاحب زادے بھی آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ آپے سے باہر ہوجانے والے ان لوگوں کو ان ممالک کا معاشرہ اور تعلیم اور قانون یہ نہیں سمجھا سکا کہ دنیا میں سب سے بھیانک جرم کسی انسان کی جان لینا ہے۔ اپنے ملک میں انہوں نے لوگوں کی جان لے لی۔ دولت مند گھرانوں کے نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ خناس بھرا ہوتا ہے کہ پاکستان میں قانون، پولس اور انصاف خریدے جا سکتے ہیں سو ا سے خرید لیں گے۔

انہیں اگریہ علم ہوتا کہ لندن یا آسٹریلیا میں جس طرح قانون کی بالا دستی ہے اور مجرم کسی قیمت پر سزا سے فرار حاصل نہیں کر سکتا تو یقیناًیہ لوگ اس طرح کے بھیانک جرائم کا شکار نہیں ہوتے۔ انہیں کیوں ذہن میں یہ بات نہیں آئی کہ لندن میں تو وزیراعظم کے بیٹے سے اگر کوئی غلطی سر زد ہو جاتی ہے تو پولس وزیر اعظم کو تھانے طلب کر لیتی ہے۔ ٹونی بلیئر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو چکا تھا۔ پاکستان میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ وہ ماڈل گرل ایان علی جو بھاری غیر ملکی کرنسی ملک سے اسمگلنگ کر کے بیرون ملک جانا چاہتی تھی لیکن پکڑی گئی۔ اس کے سہولت کار جیل میں اسے ہر وہ سہولت فراہم کرانے پر کمر بستہ ہیں جو جیل کے باہر رہنے والے تصور نہیں کر سکتے۔یہ سب کچھ ملک کے دارالحکومت میں ہو رہا ہے، دیگر علاقوں میں تو نہ جانے کیا کچھ ہوتا ہوگا۔

بات تو ہے تربیت اور قانون کی بالا دستی کی۔ نواب ملک امیر محمد خان آف کالا باغ پاکستان کی انتظامی اور سیاسی تاریخ کا اہم نام ہی نہیں اہم حوالہ بھی ہیں۔ ملک صاحب مرحوم سابق مغربی پاکستان کے جو آج کا پاکستان ہے، گورنر تھے۔ ملک میں صدارتی نظام حکومت قائم تھا، اس لئے گورنر انتظامی سربراہ بھی ہوا کر تا تھا۔ ملک صاحب گورنر تھے۔ لاہور کے گورنر ہاؤس میں رہائش رکھتے تھے۔ بڑے بیٹے نواب مظفر خان نے گورنر ہاؤس کے اندر واقع پیٹرول پمپ سے اپنی کا ر میں پیٹرول ڈلوایا اور رسید دئے بغیر چلے گئے۔ بات ملک صاحب کے علم میں آئی، سزا کے طور پر اپنے بڑے بیٹے کا گونر ہاؤس میں داخلہ بند کر دیا ۔ چھوٹے بیٹے ملک اسد خان نے گورنر ہاؤ س کے بٹلر سے بد تمیزی کی، گورنر صاحب نے اس پر بھی گورنر ہاؤس کا دروازہ بند کر دیا۔ جہاں داد خان لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے رٹائر ہوئے تو انہوں نے اپنی یادداشتیں تحریر کیں۔

لکھتے ہیں کہ وہ گورنر کے اے ڈی سی تھے۔ ایوب خان لاہور آئے ہوئے تھے۔ کار میں گورنر بھی سوار تھے۔ اے ڈی سی کار کی آگے والی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے ملک امیر محمد خان کو ایوب خان سے کہتے سنا ۔ ’’ آپ اپنے بیٹوں کو سمجھائیں۔ یہ لوگ قانون شکنی کے مرتکب ہو رہے ہیں‘‘۔ جہاں داد خان لکھتے ہیں کہ ایوب خان کو ملک امیر محمد خان کی ان کے بیٹوں کے بارے میں شکایت پسند نہیں آئی۔ جواب میں گورنر سے کہا کہ کیا ان کے بیٹوں کے اس ملک میں رہنے پر پابندی ہے۔ اس جواب کے بعد گورنر خاموش ہوگئے۔ اایوب خان کے ایک بیٹے گوہر ایوب ہی ان کی حکومت کو کمزور کرنے کا سبب اس طرح بنے کہ کراچی میں انہوں نے مادر ملت فاطمہ جناح کے مقابلے میں اپنے والد کا کامیابی کا جشن منایا جس کا حکومت کو کمزور کرنے کا پہلو یہ بنا کہ لیاقت آباد میں عوام کے ساتھ تصادم کیا گیا۔

کراچی میں ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے بیٹے میر مرتضی بھٹو اور اکبر بگٹی کے بیٹے سلیم بگٹی کا مسلح تصادم بھی کئی روز تک گونجا تھا۔ بھٹو اور بگٹی کو رفع دفع کے لئے بیچ میں مداخلت کرنا پڑی تھی۔ اور بھی بیٹوں کے بہت سارے قصے لوگوں کے علم میں ہیں۔ یہ بیٹے اپنے والدین کے لئے مشکل پیدا کرنے اور ہزیمت کا سامان کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ مصطفے کانجو تو ایک بار لاہور میں ہی لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج کے بیٹے سے بھی الجھ پڑے تھے جس پر صدیق کانجو کو اپنے بیٹے کی جان خلاصی کے لئے عدالت میں معافی نامہ درج کرانا پڑا تھا۔

پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم ملک فیروز خان نون نے اپنی سر گزشت میں ایک واقعہ لکھا ہے جسے یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔ واقعہ کسی اور نوعیت کا ہے لیکن بیٹوں کے معاملات سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ مٹھاں والا کے ایک ملک صاحب نے اپنے دونوں بیٹوں کو قانون کی تعلیم دلائی۔ اس علاقے میں کاشت کا انحصار بارش پر ہے۔ بارش ہوئی تو کھیت پانی سے لب ریز ہو گئے۔ اس موقع پر ہم سائے کے ایک ملک کا ان پڑھ لڑکا ان کے کھیت کے پشتے میں شگاف کر کے سارا پانی اپنے کھیت میں لے گیا۔ دونوں تعلیم یافتہ نوجوان یہ منظر دیکھتے رہے اور پھر بولے کہ آؤ گھر چلیں اور والد صاحب سے کہیں کہ وہ اس نوجوان کے خلاف تعزیرات کی فلاں فلاں دفعات کے تحت مقدمہ چلائیں، اسے یقیناًسزا ہو جائے گی۔

جب وہ گھر پہنچے اور باپ کو معاملے کی تفصیلات بتائیں تو وہ (باپ) گاؤں کی مسجد کی چھت پر چڑھ گیا اور زور سے بولا ’’ گاؤں میں کوئی بھلا مانس ایسا ہے جو یہ میرے دونوں گریجویٹ بیٹے لے لے اور ان کے بدلے ایک ان پڑھ بیٹا مجھے دے دے ‘‘۔ یہ واقعہ یوں لکھ دیا ہے کہ شہر کے لوگوں کو علم ہو کہ دیہاتوں میں لوگوں کے سو چنے کا کیا پیمانہ ہے۔ لیکن اس تماش گاہ میں ان نام نہاد با اثر ، دولت مند والدین کو مساجد میں جا کر یہ آ واز تو ضرور لگانا چاہئے کہ کوئی ہے جو ان کے بیٹوں کو سمجھائے کہ انسانی زندگی کی قدر کرنا سیکھیں ۔ شائد اس کی ضرورت اس لئے نہ پڑے کہ اگر اس ملک میں قانون کی عمل داری ہو جائے ، بالا دستی قائم ہو جائے ۔ حکمران، حکام ، پولس ، وکلاء، عدالتیں ، سیاست داں اور معاشرے کے وہ تمام لوگ جنہیں ہم تعلیم یافتہ سمجھتے ہیں، اسی وقت ایسا سمجھ سکتے ہیں جب قانون بھی چیخ چیخ کر کہہ رہا ہو کہ میں موجود ہوں، ہر امیر و غریب، با اثر اور بے اثر، زمیندار اور کسان، سرمایہ دار اور محنت کش کی مرضی میری مرضی کے تابع ہے۔ کسی نے سرتابی کی تو سر خم کرنا پڑے گا۔

مزید : کالم