قدم

قدم
قدم

  

پاکستان کی روح کراچی کے جسم میں ہے۔خدا نخواستہ اگر یہ مر گئی تو پھر کچھ بھی باقی نہ بچے گا۔ اب چار دہائیاں بیتتی ہیں ،یہ روح زخمی ہے۔دنیا کے تمام بڑے شہروں میں یہ سب سے سستا شہر نہایت بیش قیمت ہے۔ اس کی معاشرت ، خاندانی نظام کا تارپود، متوسط اور زیریں متوسط طبقے کی جدوجہد ، نظریۂ پاکستان سے براہِ راست وابستگی کا خاندانی ورثہ اور ملک کی تمام لسانی اکائیوں کا خوب صورت اور جامع اکٹھ اگر کہیں پورے وفور سے دکھائی دیتا ہے تو وہ صرف کراچی ہے۔یہاں زندگی پاکستان کے لئے رقص کرتی ہے۔ مگر یہیں پر اسے موت کا رقص بنا دیا گیا۔ مفاد تو بہت چھوٹا تھا مگر داؤ پر بہت کچھ لگ گیا۔

چھوٹے مفاد کے عارضی منصب داروں نے کبھی نہ سوچا ہوگا کہ وہ اس شہر میں پاکستان کی روح کو کیسے آہستہ آہستہ مار رہے ہیں۔مقصد صرف اتنا تھا کہ اس شہر کی نمائندگی کو قومی سیاست پر اثر انداز ہونے کے لئے رہن رکھ لیا جائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ سونے کا انڈا دینے والی اس چڑیا کے جتنے انڈے قابو میں آئیں بھر لئے جائیں۔کوئی تحقیق کرے گا کہ یہاں پر تعینات ہونے والے سرکاری افسران اب اربوں روپے میں کیسے کھیلتے ہیں؟ظاہر ہے کہ جعلی نمائندگی کا جال بچھانے والوں نے اس شہر کو جو جعلساز قیادت دی وہ بھی بدعنوانیوں کی اسی گنگا میں اشنان کرتی ہے۔ ففٹی پہ گھومنے والا منی لانڈرنگ کے مقدمے میں مطلوب ہے۔ ایک ہوٹل کا بیرہ اب کراچی کے بڑے بڑے تعمیراتی منصوبوں کا سب سے بڑا حصہ دار ہے۔لندن میں ٹیکسی چلانے والا سپر ہائی وے پر زمینوں کا خاموش مالک ہے۔ ایک ٹیلی فون آپریٹر اربوں کی جائیداد کے ساتھ شہر سے اڑن چھو ہو گیا۔ وہ قوم جو محنت سے عظمت کی راہ تراشتی تھی۔ اُسے ذلت سے دولت بٹورنے کے کام پر لگا دیا گیا۔ اس شہر میں احترام کی بنیاد کبھی بھی دولت نہ تھی۔ سماجی رتبے کا اندازا چمک سے نہ ہوتا تھا۔ یہاں بڑے لوگ واقعی بڑے ہوتے تھے۔ کرتے پاجامے، شیروانی اور شلوار قمیض میں گھومنے والے نہایت معمولی لوگ اپنے علم و فضل کی بنیاد پر فضیلت ماب تھے۔ مگر پھر اچانک اس شہر کے زمین وآسمان بدل گئے۔ یہاں حرص وہوس نے ڈیڑے ڈالے اور بدنصیب شہر کا کوئی مکان اس سے بچ نہ سکا۔

اس شہر سے اُس کی نمائندگی چھین لی گئی۔ اور طاقت کے کھیل میں یہاں کی ہر قدر کے ساتھ کھلواڑ ہوا۔ ایم کیوا یم آج بھی خود کو کراچی کی اصل نمائندہ طاقت سمجھتی ہے۔ مگر اس شہر میں ہر بات اتنی سادہ نہیں جتنی دکھائی دیتی ہے۔ ایم کیو ایم کی سیاسی طاقت کی سب سے زیادہ حفاظت اُسی ’’قوت‘‘ نے کی ہے جو آج اُس کی جراحت (آپریشن) کر رہی ہے۔ کسی اور سے نہیں خود ایم کیو ایم سے پہلی بغاوت کرنے والی مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کی قیادت سے پوچھئے۔ اُسے کس طرح ایک ہاتھ کی جنبش سے چاک وگردش دی گئی۔ اس کے دروبست کو طے کرنے میں پہلے دن سے یہ اہتمام رکھا گیا کہ وہ واقعی کوئی حقیقی قوت نہ بن سکے۔ چنانچہ اُسے صرف اس کردار تک محدود رکھا گیا کہ وہ ایم کیوایم کے لئے بس ایک خطرے کے طور پر زندہ رہے۔ اُس کی متبادل نہ بن سکے۔

ایم کیو ایم سے پہلے اس شہر کی سب سے بڑی قوت جماعتِ اسلامی تھی۔ اس جماعت کے گرد ایک ایسا جال بُنا گیا کہ یہ شہر کی نمائندگی کے لئے خود کو موثر بنانے سے عاری رہے۔ کسی بھی دوسری جماعت سے زیادہ اِسی جماعت کے پاس وہ افرادی قوت تھی جو اس شہر کی لسانی شناخت کی حامل ہونے کے ساتھ پاکستان کے مقاصد سے بھی ہم آہنگ تھی۔ مگر اِسے الزامات کے ایک خاص ماحول کے اندر جواب دہ حالت میں رکھا گیا اوراُس کی پیش قدمی کے امکانات کو مسلسل معدوم کیا جاتا رہا۔

شہر کراچی کی ایک اور قوت جمعیت علمائے پاکستان بھی تھی۔ اِسے کچھ تو خود اسی کے مکتبِ فکر کے بونوں نے چاٹ لیا۔ آخری آنچ مقتدر حلقوں کی گِھسی پٹی ذہنیت نے دی۔اس جماعت میں مولانا شاہ احمد نورانی ایسے زبردست عالم اور جرأت مند سیاسی رہنما تھے۔ جن کے موقف پر کبھی خوف غالب نہیں آیا۔ متحدہ مجلسِ عمل کی صدارت کے دوران ایک مقتدرادارے کے سربراہ کو اُن سے شکایت ہوئی اور اُنہیں مختلف اخبارات میں کردار کُش خبروں کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ مولانا نے اُس ادارے کے سربراہ کی دورانِ ملاقات انگریزی کے ایک فقرے سے تواضع کی کہ ’’جنرل! آپ اپنی حدود سے باہر نکل رہے ہیں۔‘‘ اندر سے کھوکھلے لوگ ایسے فقرے آمنے سامنے نہیں بول سکتے۔ افسوس ایسے تمام لوگ سیاست کے میدان کے نامطلوب کردار بن گئے۔ جن کے خلاف خود اُن کے ہی درمیان سے لوگوں کو اُٹھایا گیا۔ ایم کیو ایم سے ذرا پہلے یہاں ہر فرقے کے لوگ انتخابات میں حصہ لیتے تھے۔ مگر کبھی کوئی فرقہ وارانہ رنگ نہ اُبھرتا تھا۔یہ سوئے اتفاق تھا یا حُسنِ انتظام کہ جب ایم کیو ایم کسی کی مستعار کوکھ (بے بی ٹیوب ) سے وجود میں آئی تو اس کے ذریعے تمام مذہبی جماعتوں کو گوشۂ گمنامی میں دھکیل دیا گیا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہاں پر فرقہ وارانہ کشیدگی کا جن ایم کیو ایم کی سیاسی بالادستی کے ایام میں بے قابو ہوا۔ مذہبی جماعتوں کی غیر فعالیت کے عرصے میں اس نے انڈے بچے دیئے۔ افسوس ملک کے مذہب بیزار، آزاد رواور جدیدیت پسند اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں۔

کراچی ایک بار پھر اپنی جائز نمائندگی کے مسئلے سے دوچار ہے۔ جہاں پر عسکری حلقوں کا ایک مستقل نوعیت کا خاکہ روبہ عمل رہتا ہے۔ ملک کے کسی بھی دوسرے حصے کے برعکس یہی وہ بدنصیب شہر ہے جہاں قومی سیاسی جماعتوں کا کردار بہت ہی محدود کیا جاچکا ہے۔ اور اُنہیں نفسیاتی طور پر ایک ایسی کیفیت میں دھکیل دیا گیا ہے کہ وہ یہاں ہنرآزمائی کا خیال تک دل میں نہیں لاتیں۔ کسی کو اس پر کوئی حیرت کیوں نہیں ہوتی کہ کراچی کے انتخابات میں بڑی سیاسی اور قومی جماعتیں لاتعلق کیوں رہتی ہیں؟

ایک بار پھر مسئلہ وہی درپیش ہے کہ شہر کو کسی بھی دباؤ کے بغیر اُس کے نمائندے چُننے دیئے جائیں۔ کراچی کے حلقہ 246 کا ضمنی انتخاب ایک دروازہ ہے جہاں سے محبوس شہر کھلی فضا میں سانس لینے کے قابل ہو سکتا ہے۔ خواہ اس میں ایم کیو ایم فتح مند ہی کیوں نہ ہوجائے۔ عسکری حلقوں کو اب اپنے نئے نقشے میں ایم کیو ایم کو منہا کرنے کی سرکاری کوششوں سے دور رہنا چاہئے اور ایم کیو ایم کی بتدریج سرپرستی کے پُرانے مرض کو کسی نئی جماعت کی سرپرستی سے تازہ نہیں کرنا چاہئے۔ وگرنہ یہ ایک بار پھر دائرے کا لاحاصل سفر بن جائے گا۔ ایم کیو ایم جیتے یا کوئی اور شہر کو اُس کے اصل نمائندے بلاخوف وخطر اور بلاروک ٹوک منتخب کرنے کی آزادی ملنی چاہئے۔ سرکاری اداروں کا کام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ جرائم کی بیخ کنی کریں ،دہشت گردی کی فصل کو اُکھاڑ پھینکیں ۔ اس خوب صورت شہر کو قاتلوں سے آزاد کریں۔ اور یہاں منظم دھاندلی کے ذریعے سیاسی نمائندگی چوری کرنے والوں کے ہاتھ پاؤں کو حرکت کرنے سے روکیں۔ اس کے بعد یہ شہر جس کو بھی اپنی نمائندگی دیں ، اُسے کُھلے دل سے قبول کریں۔ چاہے وہ جماعتِ اسلامی ہو یا پھر ایم کیو ایم۔ انتخابی عمل میں کسی کو منہا کرنے یا کسی کا اضافہ کرنے کا کام جب ریاستی ادارے کریں گے تو اس سے وہ اپنے اصل کام کی آبرو بھی کھو دیں گے۔ ریاستی ادارے کراچی میں اس وقت مقبولیت اور پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ مگر کراچی کاتجربہ کچھ ایسا ہے کہ یہاں دن کے رات ہونے تک سورما(ہیرو)، پاجی (ولن )میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔یوں بھی تاریخ کا سبق یہ ہے کہ سورما اور پاجی کے درمیان کا فرق بس ایک قدم کا ہوتا ہے اگر یہ درست اُٹھ گیا تو سورما اور غلط اُٹھ گیا تو پاجی ۔

مزید : کالم