شیطان بزرگ ، نیوکلیرڈیل اور یمن گریٹ گیم

شیطان بزرگ ، نیوکلیرڈیل اور یمن گریٹ گیم
شیطان بزرگ ، نیوکلیرڈیل اور یمن گریٹ گیم

  

سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ چھ ملکوں کے مذاکرات اعلان کے مطابق نتیجہ خیز ثابت ہوئے ، میرے محترم ایڈیٹر صاحب نے اسے شیطان بزرگ سے ہاتھ ملانا قرار دیا ہے۔ لیکن ایران نے شیطان بزرگ سے پہلی بار ہاتھ نہیں ملایا ہے۔ ایران سے بادشاہت کے خاتمے کے بعد ایران امریکہ تعلقات میں سخت کشیدگی پیدا ہوگئی تھی ، عراق ایران جنگ میں بھی یہ کشیدگی موجود رہی لیکن اس میں ایسے وقفے بھی آتے رہے جب قربتیں نہیں بڑھیں تو زیادہ دوریاں بھی نہیں رہیں۔ امریکہ کا ایران کانتراسیکنڈل اس پر گواہ ہے کہ ایران اسرائیلی اسلحہ کسی دوسرے ذریعے خریدرہا تھا ، سی آئی اے نے جب دیکھا کہ کانترا کی مدد میں کانگریس نے رکاوٹ ڈال دی ہے تو سی آئی اے نے اس کا ایک رستہ نکال لیا کہ اس دوسرے ذریعے کے ساتھ مل کر اسرائیلی اسلحہ ایران کو بیچا جانے لگا اور حاصل ہونے والی رقم کانگریس سے بالا بالا کانترا کودے دی گئی۔

افغانستان پر امریکی حملے کے وقت بھی طالبان کے خلاف امریکہ اور ایران نے ہاتھ ملا لیا تھا ۔ یمن میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے۔ امریکہ نے یمن میں اپنی گریٹ گیم کے لئے حوثی باغیوں کی حمایت کی اور انہیں مسلح کیا ایران بوجوہ حوثی باغیوں کی عملی مدد کررہا ہے۔ اس معاملے پر ایران نے شیطان بزرگ سے ہاتھ ملایا یا نہیں دونوں کے مفادات ایک ہوگئے۔ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں غیرمتوقع مثبت پیش رفت بھی یمن کی صورت حال کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ بات بھی درست ہے کہ دونوں فریق اپنی اپنی فتح پر بغلیں بجارہے ہیں لیکن ڈیل میں بہت سے معاملات واضح نہیں ہیں اور اس پر اختلافات بھی سامنے آنے لگے ہیں اس سے میرے اس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ یمن کے سلسلے میں یک سو ہونے کی خاطر دونوں فریقوں نے جلدبازی میں ایک کچی پکی ڈیل پر اتفاق کرلیا ہے۔

سب سے پہلے تو شاید بہت کم لوگوں کو علم ہوگاکہ اس سلسلے میں ایران پر جو اقتصادی پابندیاں تھیں وہ انتہائی سخت تھیں۔ ان کی سختی کی انتہا یہ ہے کہ کوئی ایرانی کریڈٹ کارڈ تک استعمال نہیں کرسکتا تھا۔ ایسی شدید پابندیوں کے دوران یمن کا پنگا ایران کو بہت مہنگا پڑرہا تھا۔ ایران کا خیال یہ تھا کہ کسی ڈیل کی صورت بنتے ہی پابندیاں اٹھالی جائیں گی۔ ڈیل پر پہلا اختلاف جو سامنے آرہا ہے وہ یہی ہے کہ ایران کے مطابق ڈیل کے نفاذ کے ساتھ ہی پابندیاں اٹھالی جائیں گی۔ ایران نے یورپ سے مطالبہ بھی کیا ہے کہ پابندیوں کو معطل کرنے کی بجائے فوراً ختم کیا جائے۔ لیکن دوسری طرف امریکہ کا مؤقف یہ ہے کہ پابندیاں اسی رفتار سے قدم بقدم ہٹائی جائیں گی جس رفتار سے ’’ڈیل‘‘ پر عمل درآمد ہوگا۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ یہ اصل ڈیل نہیں ہے۔ یہ آخری ڈیل کے لئے ایک فریم ورک ہے، جس کے اندر رہتے ہوئے جون میں حتمی ڈیل یا معاہدہ ہوگا۔ حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ اس موقع پر مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ ایک بیان ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے جاری کیا جب کہ دوسرا بیان یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی کی طرف سے جاری کیا گیااور یہ بیانات سات پیراگرافس سے زیادہ نہیں ہیں۔ ان بیانات میں کوئی ایک درجن اوامرونواہی کی حدودوقیود بیان کی گئی ہیں ۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے جو تفصیلات بیان کی ہیں ان کے مطابق تو ایران کے ایٹمی پروگرام اور تنصیبات تک بین الاقوامی ایجنسی کے اہلکاروں کو ہروقت اور بلاروک ٹوک رسائی حاصل ہوگی۔ جو سینٹری فیوج ختم کئے جائیں گے وہ باقاعدہ ذمہ دار ہاتھوں میں دے دیئے جائیں گے، یعنی وہ ایران میں نہیں رہیں گے۔ کہا گیا ہے کہ دس سال کے عرصے میں ایران یورنیئم کی افزودگی نہیں کرسکے گا۔ افزودگی کی حد بہت معمولی یعنی 3.6ہوگی لیکن وہ ’’ریسرچ‘‘جاری رکھ سکے گا ۔ اس ریسرچ کے بارے میں ابہام ہے کہ آخر کس قسم کی ریسرچ ہوگی؟ اسی لئے آئی اے ای اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل اولی ہینونین نے کہا ہے کہ مستقبل میں بڑے چیلنجز درپیش ہوں گے۔

اوباما ایڈمنسٹریشن کو اصرار ہے کہ بنددروازوں کے پیچھے ہونے والی مفاہمت میں کوئی ابہام ہے نہ کوئی اختلاف ہے۔ لیکن ایسا ہے نہیں۔ ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے پر ڈیموکریٹس کو اصرار تھا۔ عراق افغانستان جنگ کی وجہ سے امریکیوں میں جوبیداری آئی ہے اس نے بھی کام دکھایا کہ لوگ ایک تیسری جنگ نہیں چاہتے ہیں۔ عراق افغان جنگوں سے امریکی فوج کے جانی نقصان کے علاوہ معاشی بدحالی اور دنیا میں امریکہ کی سبک سری نے کئی طبقتوں کو جنگ مخالف بنادیا ہے۔ اسرائیل فلسطین تنازعے میں دنیا بھر میں بالعموم اور امریکہ میں بالخصوص اسرائیل کی حمایت میں کمی آئی ہے اور عربوں اور فلسطینیوں کی حمایت بڑھی ہے۔ امریکی کانگریس سے نیتن یاہو کے خطاب پر عوامی سطح پر ای میلز اور مظاہروں کے ذریعے زبردست احتجاج کیا گیا اور اس موقع پر کسی ایک بھی ڈیموکریٹ رکن کا موجود نہ ہونا ماحول کی تبدیلی کا زبردست اشارہ ہے۔ بائیں بازو کے امریکی انتہائی دائیں بازو کے ایران کے خلاف معاندانہ رویے کی وجہ سے بھی ایران سے بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے پر زور دے رہے تھے۔ امریکی بایاں بازو بھی اب تک روس اور روسی نقطہ نظر کی پیروی کرتا ہے اور روس کا رویہ ایران کے حق میں تھا۔ ان تمام عوامل نے مل جل کر کام دکھایا۔ ایران کے خلاف پابندیاں تو نہ روکی جاسکیں لیکن کوئی سخت اقدام یا اسرائیلی خواہش بھی پوری نہ ہوسکی۔ ان عوامل کے علاوہ گاہے گاہے ایران امریکہ کے مفادات کی یک جائی بھی اس امر کا تقاضا کرتی تھی کہ اس معاملے کو اس نوبت تک نہ پہنچایا جائے جس کے بعد مشترکہ مفادات کے لئے عارضی اتحاد و تعاون کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

ری پبلیکنز اسرائیل کی حمایت میں بھی انتہائی حدتک جاسکتے ہیں اور باراک اوباما کو زچ کرنے کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ وہ اب بھی چین سے نہیں بیٹھنے والے ان کا اصرار ہے کہ ڈیل کو کانگریس میں پیش کیا جائے۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ مطالبہ کوئی نامناسب نہیں ہے لیکن اس سے ری پبلیکنز کے مقاصد کچھ اور ہیں ان اور مقاصد کو بامقصد یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ کانگریس میں اب بھی ری پبلیکنز کی اکثریت ہے اور اوباما کے دائیں بائیں لوگوں میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ری پبلیکنز کو ہموار کرکے اپنے حق میں ووٹ ڈلواسکیں۔ جن 47ری پبلیکنز نے ایران کو دھمکی آمیز خط لکھا تھا وہ اب بھی سرگرم ہیں اور نیتن یاہو نے اس ڈیل کو اسرائیل کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ یمن کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر بہت سے عرب ملکوں کو بھی تحفظات ہوں گے اور ہوسکتا ہے وہ امریکی ’’صفائیوں ‘‘ کو قبول کرنے کی بجائے ایران کے ’’جشن‘‘ کو زیادہ حقیقی قرار دیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں ڈیل کے بارے میں امریکی تفصیلات کو غلط قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تفصیلات ری پبلیکن ارکان اور اسرائیل کے دباؤ پر جاری کی گئی ہیں۔ تاہم دل چسپ بات یہ ہے کہ ایرانی وزیرخارجہ نے امریکی تفصیلات پر نکتہ چینی کی ہے ’’ڈیل‘‘ کی کسی شق پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ انسٹی ٹیوٹ برائے سائنس اور بین الاقوامی سلامتی کے صدر ڈیوڈ البرائیٹ کا کہنا ہے کہ ’’مسٹرظریف اور صدر روحانی ہوسکتا ہے ان معاملات کو کیموفلاج کرنے کی کوشش کررہے ہوں، جن پر انہیں جھکنا پڑا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران کو قابل ذکر حدتک جھکنا توپڑا ہے، جن معاملات پر انہوں نے سودے بازی کی ہے وہ انہیں اہل ایران پر رفتہ رفتہ افشا کریں گے‘‘۔

امریکی اور ایرانی بیانات میں تضادات ہیں۔ مثلاً امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے یورنیئم کے ذخائر تین سو کلو گرام تک محدود کردیئے جائیں گے۔ ایران کے بیان میں یہ مقداربیان نہیں کی گئی۔ ایرانی بیان میں کہا گیا کہ ڈیل میں شامل چھ یورپی ممالک اور ایران میں ایٹمی تعاون بڑھے گا یہ ممالک ایٹمی توانائی کے پلانٹس کی تعمیر، ریسرچ ری ایکٹرز اور طبی مقاصد کے لئے آئسو ٹوپ کی ریسرچ میں ایران سے تعاون کریں گے۔ امریکی بیان میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ امریکی دستاویز کہتی ہے کہ معاہدے کی مدت یعنی دس سال تک ایران محدود ریسرچ ، پر اکتفا کرے گا۔ ایرانی کہانی میں لفظ ’’محدود‘‘ نہیں ہے۔ یمن کی گریٹ گیم نہ تو ایران سعودی تنازعہ ہے نہ عرب عجم مسئلہ ہے، نہ شیعہ سنی اختلاف ہے، لیکن ہرگریٹ گیم میں وہ تمام عوامل کسی نہ کسی موقع پر شامل ہوجاتے ہیں جو کسی طرح اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہوں۔ یمن کی صورت حال کو سمجھنے کے لئے ایک امریکی ریئرایڈمرل الفریڈ تھے اس میہن کے اس قول پر غور فرمائیں۔

’۔جس کسی کو بحر ہندپر فوجی برتری حاصل ہوگی وہی عالمی سیاست (طاقت) میں نمایاں کھلاڑی ہوگا ‘‘۔ یمن کا ایک مجمع الجزائر سقطریٰ((Socorta/Soqotra کو بے حداہمیت حاصل ہے۔ یہ بحر ہند میں قرن افریقہ سے تین سو اسی کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور یمن کے جنوبی ساحل کے ساتھ لگتا ہے اگرچہ اس جزیرے کو قدیم تہذیبی آثار اور حیوانی حیات کے لئے بھی اہم سمجھا جاتا ہے لیکن اس کا محل وقوع بے حد اہم جنگی اہمیت کا حامل ہے اور امریکی فوج کے لئے اس کی اہمیت باقی ہر اہمیت سے کہیں زیادہ اور بڑھ کر ہے۔ امریکہ اہم بحری راستوں کو اپنے زیرتسلط رکھنے یا زیرتسلط لانے کے لئے ایک حکمت عملی پر کاربند ہے، وہ بحیرہ روم اور جنوبی ایشیا سے مشرق بعید سویز کینال کے ذریعے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والے راستوں پر اپنا اثر یا اپنی نگرانی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہا ہے۔ تیل کے ٹینکروں کے لئے یہ ایک بہت اہم بحری راستہ ہے۔ چین کی مغربی یورپ سے تجارت کا بڑا دارومدار اسی بحری راستے پر ہے۔ سقطریٰ میں امریکی بحری اڈا اسے اس راستے پر نگاہ رکھنے کی سہولت فراہم کرسکتا ہے۔

یمن کے سابق حکمران علی عبداللہ صالح سے 2010ء میں اس سلسلے میں امریکی جرنیل ڈیوڈ پیٹریاس کی ایک خفیہ ملاقات میں یہاں امریکی اڈے کے قیام کے لئے معاملات طے ہوگئے تھے۔ امریکی اخبارات نے یمن اور علی عبداللہ صالح کے بارے میں بڑے بڑے باتصویر مضامین چھاپے تھے علی عبداللہ صالح کو امریکہ کا بہترین دوست قرار دیا گیا تھا اور ملاقات کو دہشت گردی کے خلاف تعاون کے معاملات سے متعلق قرار دیا گیا تھا۔ یمن کی امداد ستر ملین سے ایک سو پچاس ملین کردی گئی تھی۔ اس جزیرے میں روس کو بھی دل چسپی تھی۔ یمن میں حکومت کی تبدیلی سے معاملات بگڑگئے اور پھر اس گیم میں دوسرے عناصر اصل گریٹ گیم سے زیادہ نمایاں ہونے لگے۔ یہ معاملہ خاصا تفصیل طلب ہے۔ اس پر پھر کبھی سہی۔

مزید : کالم