بند کراچی اب کھل رہا ہے

بند کراچی اب کھل رہا ہے
بند کراچی اب کھل رہا ہے

  

کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ 246 میں ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران خاصی کشیدگی دکھائی دے رہی ہے۔ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے کارکن ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ جاتے ہیں، پُر تشدد کارروائیاں ہوتی ہیں، بینر اُتارے اور کیمپ اُکھاڑے جا رہے ہیں۔ اس قسم کی صورتِ حال کراچی میں شاید برسوں بعد دیکھنے میں آئی ہے ۔کسی اور کو اس پر تشویش ہو تو ہو، مجھے کوئی تشویش نہیں، بلکہ اُلٹا مَیں اسے کراچی کے حوالے سے ایک مثبت تبدیلی سمجھتا ہوں۔ کراچی ایک بند شہر تھا، جو اب کھل رہا ہے، پی ٹی آئی نے ہمت کی ہے اور ایم کیو ایم کے گڑھ میں اپنی انتخابی مہم پورے زور شور سے شروع کر رکھی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کراچی میں جمہوریت کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں ،وگرنہ یہ وہ شہر ہے جس میں انتخابات تو ہوتے تھے ،مگرجمہوری انداز میں مقابلہ نہیں ہوتا تھا۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے حلقے بانٹ رکھے تھے۔ ایک دوسرے کے حلقے میں انتخابی مہم تک نہیں چلائی جاتی تھی۔ جمہوریت اس انداز سے کیسے چل سکتی ہے کہ آپ پہلے ہی ووٹروں کو یہ پیغام دیدیں کہ اُن کا حلقہ کسی پارٹی کے لئے مختص ہے، اب وہ اُس پارٹی کے سوا کسے ووٹ دیں گے۔ اُن کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں ہوگا تو وہ اپنی آزادانہ رائے کیسے استعمال کر سکیں گے؟

اس صورتِ حال کو ایم کیو ایم ابھی کھلے دل سے قبول نہیں کر رہی، حالانکہ اُسے کر لینا چاہئے۔ اس کا اُسے بھی فائدہ ہوگا اور ایک جاندار مقابلے کے بعد جب وہ جیتیں گے تو اُن کی سیاسی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہو جائے گی۔آج کل تو ایم کیوایم کو اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ عوام اُسے ایک جمہوریت پسند جماعت سمجھیں اور اُس پر دہشت گردوں کی جماعت کا جو لیبل لگایا جا رہا ہے، وہ اُتر سکے۔ مبصرین اب بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ اس حلقے سے ایم کیو ایم ہی کامیابی حاصل کرے گی، البتہ اُس کے ووٹ اُتنے نہیں ہوں گے، جتنے گزشتہ انتخابات میں ہوتے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کو اس قسم کی نمبر گیم میں نہیں پڑنا چاہئے۔ ایک کھلے اور سخت مقابلے کے بعد کم ووٹوں سے جیتنا اُس جیت سے کہیں بہتر ہے، جو لاکھ ڈیڑھ لاکھ کی برتری سے ہوئی ہو، لیکن اس کی شفافیت پر اُنگلیاں اُٹھیں۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ رفتہ رفتہ ایم کیو ایم زمینی حقیقتوں کو سمجھ رہی ہے۔ مثلاً کل ہی کنور نوید نے جو اس حلقے سے ایم کیو ایم کے امیدوار ہیں ،یہ کہا ہے کہ انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں یا رینجرز کی اُنہیں کوئی اعتراض نہیں، وہ تو بس شفاف انتخابات چاہتے ہیں۔

میرا خیال ہے متحدہ کے رہنماؤں کی یہی سوچ ہونی چاہئے، اس سے اُن کے قد کاٹھ میں اضافہ ہوگا، کمی نہیں آئے گی۔ رہی بات سیاسی مہم کے دوران متشدد کارروائیوں کی تو اس پر بھی متحدہ کو غور کرنا چاہئے۔ وہ جب پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ریلیاں روکتے ہیں تو درحقیقت اس سے تحریک انصاف کی اہمیت اور مقبولیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر وہ اُسے فری ہینڈ دے دیں اور اپنی مہم بھرپور طریقے سے جاری رکھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایم کیو ایم اپنا دیرینہ حلقہ حاصل نہ کر سکے۔دوسری طرف پی ٹی آئی کو بھی یہ تاثر نہیں دینا چاہئے کہ وہ کراچی کو فتح کرنے جا رہی ہے۔ کوئی ایک حلقہ کراچی کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اس کے لئے تو پورے کراچی کی نمائندگی ضروری ہے۔ یہ درست ہے کہ حلقہ246 سیاسی طور پر متحدہ قومی موومنٹ کا مرکز ہے، اُن کی مقبولیت کا گڑھ رہا ہے۔ پی ٹی آئی نے بڑے صحیح وقت پر کراچی میں اپنی انٹری ڈالی ہے۔

کراچی آپریشن کی وجہ سے ایم کیو ایم خاصے دباؤ میں ہے۔ پچھلے چند ہفتوں میں جو پے در پے واقعات پیش آئے۔ اُن کی وجہ سے ایم کیو ایم اپنی وہ چال بھول گئی ہے جو کراچی کے حوالے سے اُس کا خاصا رہی ہے۔ نائن زیرو پر رینجرز کا چھاپہ میرے نزدیک ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا، جس نے کراچی کے حالات کو بدل کر رکھ دیا، بڑے بڑے ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری کے بعد جہاں کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کم ہو گئی ہے، وہیں عوام کے دلوں میں خوف و ہراس بھی کم ہوا ہے، ایسے موقع پر تحریک انصاف نے ضمنی انتخاب میں بھرپور طریقے سے حصہ لینے کا اعلان کر کے اُن لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کر لی ہیں، جو ایم کیو ایم سے خوش نہیں۔ پھر جس طرح اُنہوں نے اپنی مخصوص مہم کو اس حلقے میں شروع کیا، اُس نے لوگوں کو ایک تحریک دی ہے۔ اُنہیں ایک حوصلہ ملا ہے اور وہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ سیاسی و انتخابی مہم کے موقع پر حد درجہ کشیدہ فضا کے باوجود کہیں فائرنگ کا ایک واقعہ بھی پیش نہیں آیا۔ کوئی شدید زخمی ہوا اور نہ کوئی لاش گری، وگرنہ یہ وہی شہر ہے، جہاں عام حالات میں موٹر سائیکل سوار دہشت گرد آتے اور بندے مار کر سکون سے واپس چلے جاتے۔ اب ہزاروں کے جلوس میں بھی کوئی ایسا سانحہ پیش نہیں آیا۔ یہ بڑی خوش آئند بات ہے، خاص طور پر اہل کراچی کے لئے یہ ایک خوشی کا لمحہ ہے کہ اُنہیں پُر امن طریقے سے انتخابی مہم دیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ وہ مناظر تھے جو وہ کبھی لاہور یا اسلام آباد میں ٹی وی پر دیکھتے اور حیرت کا اظہار کرتے کہ لوگ کس طرح آزادی سے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اب یہ موقع کراچی کے عوام کو بھی مل گیا ہے۔ میرے نزدیک یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں جسے آسانی کے ساتھ نظر انداز کر دیا جائے۔ یہ کراچی میں آنے والی تبدیلی کا ایک عکس ہے، جسے خوش آئند حقیقت قرار دیا جانا چاہئے۔

کراچی کے حالات کو بہتر کرنے کے لئے پہلے بھی بہت کوششیں ہوتی رہی ہیں، لیکن اُن کوششوں کو کبھی بھی سیاسی بنیاد فراہم نہیں کی جا سکی۔ کسی سیاسی جماعت کا اگر سیاسی مقابلہ کرنے والی کوئی دوسری پارٹی نہ ہو تو اُس میں وہی بگاڑ پیدا ہوتا ہے جو ایم کیو ایم میں پیدا ہوا۔ ایم کیو ایم نے خودکو سیاسی کی بجائے خوف کے ذریعے ایک ایسی جماعت میں ڈھال لیا یا کم از کم اُس کا تاثر ایسا بن گیا کہ لوگ اُس سے ڈرنے لگے۔ پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی اور اے این پی، ایم کیو ایم کا مقابلہ نہیں کرتی تھیں، بلکہ اُسے تنہا کر کے آگے بڑھا دیتی تھیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کراچی رفتہ رفتہ محبوس شہر بنتا چلا گیا۔ جس کی سیاسی آواز معدوم ہو گئی اور عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے اس کا چہرہ ایک متشدد شہر جیسا بن گیا۔

بدقسمتی سے جو سیاسی جماعتیں کراچی میں آئیں، اُنہوں نے وہی کیا جو متحدہ قومی موومنٹ کر رہی تھی، یعنی انہوں نے اپنے عسکری ونگ بنا لئے اور اپنے حامیوں کو اسلحے سے لیس کر دیا، مثلا اے این پی اور متحدہ قومی موومنٹ میں ہمیشہ ٹھنی رہی اور دونوں طرف کے سینکڑوں افراد موت کی نیند سلا دیئے گئے۔ اس خون ریزی سے کراچی کے عوام مزید سہم گئے اور اُنہوں نے جبر کے نظام کو قبول کر لیا۔ سپریم کورٹ کہتی رہی کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کرو، لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی، بلکہ عسکری ونگ مزید فعال ہوتے چلے گئے۔ اصل میں ایسے ونگز کا خاتمہ صرف سیاست سے ممکن ہے بھی نہیں اُس کے لئے سیاسی و جمہوری سرگرمیوں کا ہونا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی نے اسی خلاء کو پورا کیا ہے اور اُس کی تقلید ایم کیو ایم کو بھی کرنی پڑ رہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ بند کراچی اب کھل رہا ہے، اُس کی حالت بدل رہی ہے، اور مجھے یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں کراچی پُر امن جمہوری شہر ہوگا، جہاں لوگ آزادی سے سانس لے رہے ہوں گے۔

مزید : کالم