ایران اور آزادیء نسواں

ایران اور آزادیء نسواں
ایران اور آزادیء نسواں

  

آج کے پرنٹ میڈیا میں چھپی دو خبریں میرے لئے عجیب و غریب تھیں۔ ایک پاکستان کے بارے میں تھی اور دوسری ایران کے متعلق۔۔۔ دونوں کا تعلق کسی نہ کسی طور مذہبی مسلک سے جوڑا جا سکتا ہے۔۔۔ وضاحت کرنے کا موقع دیجئے۔پاکستان کے انتہائی دائیں بازو (Far Right) کی ایک معروف سیاسی جماعت جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن کا یہ بیان بیک وقت بڑا حیران کن لیکن خوشگوار بھی ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب کی مدد کے لئے اپنی افواج یمن میں نہیں بھیجنی چاہئیں۔ ہاں اگر سعودی ریاست کی سلامتی کو کوئی خطرہ ہو تو پھر پاکستان کی عسکری فورسز کو وہاں جانے میں دیر نہیں لگانی چاہیے۔۔۔ کون نہیں جانتا کہ مولانا اور سعودی حکومت کے باہمی تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟

مولانا کا کہنا بھی یہ تھا کہ وہ سوموار،6اپریل 2015ء کو ،پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں ہونے والی بحث کے نتیجے کا انتظار کریں گے اور اس کے بعد کوئی حتمی رائے دیں گے۔ یہ بحث یمن کے تنازعہ میں پاکستانی افواج کے بھیجنے یا نہ بھیجنے کے سلسلے میں ہو رہی ہے، جس میں عمران خان کی تحریک انصاف بھی دھرنوں کے بعد، شریک ہو رہی ہے۔ ویسے تو تحریک انصاف اور جے یو آئی (ف) ایک دوسرے کی شدید مخالف سیاسی جماعتیں شمار ہوتی ہیں، لیکن یمن میں فوج بھیجنے کے بارے میں ان دونوں کے موقف میں یہ یکسانی باعثِ تعجب ہے۔ تحریک انصاف کا موقف بھی یہی ہے کہ پاکستان کو پرائے پھڈے میں ٹانگ نہیں اڑانی چاہیے۔ مولانا کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک سعودی عرب کی امداد کا سوال ہے تو پاکستان کو اپنے اس اتحادی کی سلامتی اور خود مختاری کی حفاظت میں کسی تساہل سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ ہم سعودی بھائیوں کی مدد کے لئے غیر جانبدار رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے، لیکن یمن کی یہ جنگ جو تیسرے ملک میں لڑی جا رہی ہے، اس میں کودنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ سعودی عرب کو اگر اپنی سلامتی کا خطرہ لاحق نہ ہوتا تو اسے کیا مصیبت پڑی تھی کہ وہ اپنے نو عرب اتحادیوں کے ساتھ یمن پر اچانک فضائی چڑھائی کر دیتا ۔سعودیوں کا تو موقف یہی ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں سے ہماری قومی سرحدوں کو خطرہ ہے۔مولانا فضل الرحمن اس سعودی استدلال کو تقویت دے سکتے تھے کہ ان کو اس نوع کے ’’تقویتی بیانات‘‘ دینے کی دیرینہ عادت بھی ہے اور تجربہ بھی۔ مزید برآں ان کو حکومتِ پاکستان کی برسراقتدار قیادت کے موقف کے سلسلے میں بھی کوئی غلط فہمی نہیں۔ آلِ سعود اور مولانا کی آلِ سیاسیات اب تک ایک دوسرے کا جزولاینفک بن رہی ہیں۔ یہ اچانک تغیرِ خیال اور تبدیلیء موقف کم از کم میرے لئے معنی خیز ہے۔ یاشائد مولانا کی سیماب صفتی کا مظہر ہو۔۔۔ خدا جانے آنے والی آندھیوں کا رخ وہ کیسے پہچان لیتے ہیں! دوسری خبر ایران کے بارے میں ہے کہ وہاں کی کھیلوں کی وزارت نے سپورٹس سٹڈیموں میں عورتوں کے داخلے پر لگی پابندیاں اٹھا لی ہیں۔ اب مستورات بلاروک ٹوک مردانہ کھیلوں کا تماشا کر سکیں گی۔۔۔۔

جدید اسلامی ایران میں (1979ء کے بعد) آزادیء نسواں کا مسئلہ بڑا پیچیدہ بلکہ گھمبیر رہا ہے۔ مردانہ کھیلوں میں فٹ بال اور وال بال کے میچ بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کھیلوں میں مرد کھلاڑیوں نے جو یونیفارم پہنی ہوتی ہے، اس میں نیکر پہن کر پنڈلیاں برہنہ کرنے میں نجانے ایسی کیا قباحت ہوتی ہے، جسے بیہودگی کا نام دے کر ایرانی عورتوں کو یہ میچ نہیں دکھائے جاتے۔ دوسری طرف وہ گھروں میں بیٹھ کر ٹیلی ویژن پر یہ ’’ساراکچھ‘‘ دیکھ سکتی ہیں اور ان پر کوئی قدغن نہیں۔ماضی میں ایران کی برسراقتدار قیادت نے کھیلوں کے میدان میں والی بال، فٹ بال اور دیگر اتھلیٹکس مقابلوں کے کسی سٹیڈیم میں جا کر دیکھنے پر اس لئے پابندی لگا دی تھی کہ خواتین تماشائی کھیل کے دوران جو شور و غل مچاتی اور داد کے نام پر ’’بے دادیاں‘‘ کرتی پائی جاتی ہیں، وہ خلافِ شرع حرکات ہیں۔

ماضی میں خواتین تماشائیوں کے سٹیڈیم میں داخلے پر ان پابندیوں کے خلاف بین الاقوامی سپورٹس فیڈریشنوں کی طرف سے فلک شگاف ہاوہو کے مظاہرے بھی کئے گئے۔ خود ایران میں حقوقِ نسواں کی کئی فعال اور جارح (Pro-active) تنظیموں کی طرف سے ایک عرصے سے مظاہرے ہو رہے تھے اور احتجاجات کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ان پابندیوں کو اٹھا لینے کی ایک وجہ وہ ایران۔ امریکہ معاہدہ بھی بتایا جا رہا ہے جس پر باقاعدہ طور پر تو 30 جون 2015ء کو دستخط ہوں گے لیکن معاہدے کے نمایاں خدوخال ،تمام کے تمام ،منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ایرانی عوام بظاہر اس معاہدے کے شرائط کو قومی امنگوں کے منافی سمجھ رہے ہیں اور خواتین پر سپورٹس سٹیڈیم میں داخلے کی اس اجازت کو اپنی قیادت کی خفت کم کرنے کا ایک اقدام تصور کر رہے ہیں۔حال ہی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں ہونے والے ایران۔ امریکہ مذاکرات کو 2اپریل 2015ء کے دو طرفہ اعلان میں دونوں فریقوں کی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی کے جو نمائندے ان مذاکرات میں شریک بحث رہے تھے، ان سب نے اپنی اس کامیابی پر سکھ کا سانس لیا تھا اور اسرائیلی وزیراعظم کے واویلے کو مسترد کر دیا تھا۔ ایران نے بھی اس معاہدے کو اپنی کامیابی قرار دیا تھا۔

اس معاہدے کی رو سے ایران نے آنے والے دس برسوں میں یورینیم کی افزودگی کی وہ حد کراس نہ کرنے کا اقرار کر لیا ہے کہ جو جوہری ہتھیار بنانے کے کام آ سکتی ہے۔ ایران نے پلوٹینیم تیار کرنے والے ایک پلانٹ کو بھی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور یہ بھی تسلیم کرلیا ہے کہ وہ سنٹری فیوجوں کی موجودہ تعداد 19000سے کم کرکے 5060تک لے آئے گا۔ سنٹری فیوجوں کی اس تعداد (5060) سے جو یورینیم افزودہ ہوگی اس سے ایٹم بم بنانے میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ درکار ہوگا جبکہ اگر موجودہ 19000سنٹری فیوج چلتے رہیں تو ان سے تیار ہونے والی افزودہ یورنیم کا بریک اپ ٹائم صرف دو ماہ سے تین ماہ تک ہو سکتا ہے۔د وسرے لفظوں میں ایران کہ جو آج ایٹم بم بنانے میں تین ماہ لگا سکتا ہے، وہ اب دس برس کے بعد بھی مزید ایک برس تک ایسا نہیں کر سکے گا۔۔۔ اور سب سے اہم خبر یہ ہے کہ ایران کی تمام جوہری تنصیبات ہر وقت بین الاقوامی جوہری انسپکٹروں کے معائنے کے لئے کھلی رہیں گی۔۔۔ ان سب ’’مراعات‘‘ کے بدلے میں مغربی ممالک، ایران پر لگائی گئی ،پابندیاں اٹھا لیں گے۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

دو روز پہلے ایرانی خواتین پر سے ان پابندیوں کو اٹھا لینے کا جو اعلان ، ایران کی وزارتِ ’’جوانان و بازی ہا‘ کی طرف سے کیا گیا اس کے مطابق دو کھیل اب بھی خواتین کے لئے Taboo ڈکلیئر کئے گئے ہیں۔ ان میں ایک کشتی اور دوسرے تیراکی کے مقابلے ہیں۔۔۔۔ وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ان مقابلوں میں مردوں کے بدن کا 97فیصد برہنہ رہتا ہے جوخواتین کو نہیں دیکھنا چاہیے۔ مزید اس اعلان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خواتین کو کوئی بھی میچ دیکھنے کے لئے الگ سٹالوں میں بیٹھنا ہوگا۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ بھی آ سکتی ہیں جس میں ان کے شوہر، بیٹے، بھائی اور باپ وغیرہ شامل ہوں گے لیکن ان کے لئے بھی الگ نشستوں کا انتظام کیا جائے گا۔ ایران کے ڈپٹی سپورٹس منسٹر ،جناب عبدالحامد احمد نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ بعض کھیل خواتین کے دیکھنے کے نہیں ہوتے۔۔۔مجھے خبر نہیں ایرانی بھائیوں کو غالب کے اس شعر کا فارسی متبادل کیا سناؤں کہ جس میں غالب کہتا ہے:

تھیں بنات النعشِ گردوں دن کو پردے میں نہاں

شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں

ایران میں گزشتہ برس جون میں ایک ایرانی۔ برطانوی خاتون مس غنچہ غوامی کو اس لئے گرفتار کرلیا گیا تھا کہ اس نے مردوں کے ایک والی بال میچ دیکھنے کے لئے ایک سٹیڈیم میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔ وہ 5ماہ تک جیل میں رہیں اور آج کل ضمانت پر رہا ہیں۔ایک اور ایرانی خاتون مسز منیر داوری نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں سپورٹس کے بین الاقوامی مقابلے منعقد ہونے چاہئیں جن میں بلا امتیازِ مرد و زن، سب کو شریک ہونے اور دیکھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ایک طویل عرصے سے ایران کی فٹ بال اور والی بال کی ٹیمیں دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار ہوتی رہی ہیں۔

1960ء کی دہائی میں پاکستان کی قومی والی بال ٹیم میں میرے شہر (پاک پتن) کے بہت سے کھلاڑی شامل تھے جو ایران میں جا کر میچ کھیلتے اور جیت ہار کر آتے رہے۔ایرانی ٹیم بھی کئی بار پاکستان آئی۔ میں خود اگرچہ پاکستان کلر حاصل نہ کر سکا لیکن والی بال کے کھیل سے شیفتگی کا عالم یہ تھا کہ ہم جون جولائی کی کڑی دھوپ میں ننگے پاؤں پہروں تک گراؤنڈ میں رہتے تھے اور احساس نہیں ہوتا تھا کہ زمین بھٹی کی طرح تپ رہی ہے یا پاؤں جل رہے ہیں۔چودھری شفیع، استاد امیر ، رب نواز خان ، شاہنواز خاں، میاں نذر فرید مانیکا، عادل بودلہ، ولی داد بودلہ اور سب سے بڑھ کر فیض بودلہ کہ جو پاکستان کی قومی ٹیم کے کپتان رہے، سب کے سب پاک پتن ہی کے فرزندانِ زمین تھے!

آج نصف صدی کے بعد کھیلوں کی دنیا بدل گئی ہے، ضابطے اور قوانین بدل گئے ہیں، تماشائیوں کی داد کے انداز بدل گئے ہیں اور سب کچھ ایک گلوبل کلچر میں ڈھل چکا ہے۔ہمارے ہاں جب پچھلے برس عمران خان کے دھرنوں کی شبانہ محفلیں لگتی تھیں تو خواتین کی داد کے انداز دیدنی ہوتے تھے جو ہمارے اکثر مولانا حضرات کی جلی کٹی اور گلی سڑی تنقید اور بے جا سبّ دشتم کا ہدف بنتے تھے۔ لیکن کیا پاکستان کے سوادِاعظم نے اس اندازِ تنقید کو قبول کیا؟۔۔۔ ایران نے بھی اگر گلوبل ولیج کا محلہ بننا ہے تو اسے ’’جیسا دیس ویسا بھیس ‘‘والا مقولہ یاد رکھنا پڑے گا۔

مزید : کالم