مہنگا پیاز اور اتوار بازار!

مہنگا پیاز اور اتوار بازار!

عوام ایک پریشانی سے نجات پاتے ہیں تو کوئی نیا دکھ مل جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتے پٹرولیم کے نرخوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹروں نے کرائے بڑھائے۔ حکومتی نمائندوں نے ٹرانسپورٹر نمائندوں سے بات کرنے کا اعلان کیا اور بھول گئے۔ اب تک کرائے اسی طرح وصول کئے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف یکایک ان اشیاء ضرورت اور خوردنی پر اثر پڑا جن کے نرخ پہلے ہی کم نہیں ہوئے تھے اب صورت حال یہ ہے کہ پیاز کی قلت پیدا کرکے نرخوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ہفتہ رفتہ میں پندرہ روپے فی کلو بکنے والا پیاز یکایک 45روپے فی کلو ہو گیا اور یہ تیس روپے فی کلو اضافہ بلا جواز ہے۔ حکومتی مشینری خاموش ہے۔خبر یہ ہے کہ اتوار بازاروں میں پیاز سرے سے پہنچا ہی نہیں۔ دکان داروں کا عذر تھا کہ یکایک تین گنا اضافے پر فروخت مشکل ہے۔ یہ اتوار بازار وزیراعلیٰ کی ہدایت پر لگائے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کو اشیاء خوردونوش سستی مل سکیں لیکن تاحال یہ بازار اس معیار پرنہیں پہنچ سکے جہاں وزیراعلیٰ ان کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ان بازاروں میں بھی وہی دکان دار ہوتے ہیں جو معمول کے دنوں میں ٹھیلوں، ریڑھیوں پر سودا فروخت کرتے ہیں، چنانچہ ان بازاروں میں غیر معیاری اشیاء فروخت کی جاتی ہیں اور نرخوں میں بھی کوئی فرق نہیں ہوتا۔ گزشتہ روز صوبائی وزیر بلال یاسین نے ان بازاروں کا دورہ کرکے خود حالات کا جائزہ لیا ہے اور حکام کو حالات کی درستی کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ کی خواہش اور ہدایت اپنی جگہ لیکن لوگوں کو تو اس وقت ریلیف ملے گا، جب ان کو معیاری اور سستی اشیا ملیں گی، لیکن ایسا نہیں ہورہا۔ بہتر تو یہ ہے کہ اس سارے نظام کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ مارکیٹ میں کھپت اور آمد کا توازن برقرار رکھنے کے ساتھ قیمتوں پر گہری نگاہ کی ضرورت ہے۔ تبھی بہتری آ سکے گی۔

مزید : اداریہ