یمن بحران ، سعودی عرب نے فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے والوں کو بے نقاب کرنے کا عندیہ دے دیا

یمن بحران ، سعودی عرب نے فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے والوں کو بے نقاب کرنے کا ...

جدہ (بیورورپورٹ) سعودی سفارتکار فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے والوں کو بے نقاب کریں گے، دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن موقف برقرار رکھا جائے گا۔ سعودی سفارتکاروں نے ان عزائم کا اظہار بعض ابلاغی قوتوں کی جانب سے ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ آپریشن کو غلط رنگ دینے کی پے درپے کوشش سامنے آنے کے بعد کیا ہے۔بعض عرب اور خارجی قوتیں یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہیں کہ یمن میں جو آپریشن ہورہا ہے وہ بنیادی طور پر شیعہ سنی جنگ ہے۔ا س سلسلے میں بعض جوشیلے لوگوں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور خطبات کو بنیاد بنایا جارہا ہے۔ اس قسم کی غلط فہمی پیدا کرنیوالے جان بوجھ کر ان تمام ابلاغی وسائل کو نظر انداز کررہے ہیں جو اول روز سے لے کر اب تک باغی حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کو حقیقی تناظر میں پیش کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اس قسم کے عناصر کو ننگا کرنے کے لئے واضح کیا تھا کہ دہشتگردوں اور فرقہ وارانہ جھگڑوں کے علمبرداروں نے آپس میں اتحاد قائم کرلیا ہے۔

انہوں نے فوجی مداخلت کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ علاقائی قوتوں کی جانب سے حالات کو دھماکا خیز بنادئیے جانے کی وجہ سے ہی مملکت کو یمنی عوام کی مدد کے لئے مداخلت کرنی پڑی۔ سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے اس کی تائید میں یہ کہا تھا کہ ہم جنگ کے علمبردار نہیں تاہم اگر طبل جنگ بجادیا جائے تو ہم دفاع کے لئے پوری طرح سے تیار ہیں۔ سعودی سفارتکار واضح کررہے ہیں کہ یمن کے بحران کو دھماکا خیز بنانے میں ایران نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس سے قبل وہ عراق، بحرین اور شام کے حالات بگاڑنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے چکا ہے۔ ایران کے ساتھ سعودی عرب کے فرقہ وارانہ مسائل نہیں، بعض لوگ اسکے برعکس سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ ایسا تصور دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ سعودی عرب نیا یران میں انقلاب آنے پر اچھے جذبات کا اظہر کیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ انقلاب اسلامی اتحاد کی تقویت کا باعث بنیں گے لیکن وہ انقلاب کو برآمد کرنے، امن و سلامتی کو تزلزل کرنے خطے کے ممالک کے امور میں کھلی مداخلت کرنے اور امت کے فرزندوں میں تفرقہ و انتشار پیدا کرنے میں لگ گئے۔

مزید : علاقائی