بھٹو نے کیا دیا؟

بھٹو نے کیا دیا؟
بھٹو نے کیا دیا؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بھٹو نے پاکستان کو چین جیسا عظیم دوست دیا، پاکستان اس ایک کارنامے پر بھٹو کا احسان مند رہے گا۔آج چینی سفارتکار کہتے ہیں کہ پاکستان چین کے لئے ایسے ہی ہے جیسے اسرائیل امریکہ کے لئے !

اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ اگر بھٹو کچھ عرصہ اور زندہ رہتے تو آج کئی پاکستانی چینی زبان بول اور پڑھ رہے ہوتے اور امریکی اور یورپی لٹریچر کی جگہ چینی لٹریچر پاکستان میں عام پڑھا جا رہا ہوتا اور کترینہ کیف ، کرینہ کپور اور مادھوری ڈکشٹ کی طرح پاکستانی نوجوانوں کو چینی اداکاراؤں کے نام بھی ازبر ہوتے۔ پاکستان اور چین کی دوستی میں اگر کوئی کمی ہے تو وہ ایک دوسرے کے کلچر سے عدم واقفیت ہے ۔بھٹو کے جلد چلے جانے کی وجہ سے ہم میں چینی کلچر اور فلموں سے وہ رغبت پیدا نہ ہوسکی جو بھارتی اور انگریزی فلموں کے حوالے سے ہم میں پیدا ہو چکی ہے!

چین اس سے بڑھ کر بھٹو کو کیا خراج تحسین پیش کر سکتا ہے کہ جب سابق صدر آصف علی زرداری چین کے سرکاری دورے پر گئے تو چینی حکومت نے کہا کہ ان کے حکام سے ملاقات کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری بھی اس موقع پر موجود ہوں۔ چنانچہ سابق جنرل سیکرٹری پیپلز پارٹی جہانگیر بدر کو آناً فاناً چین بلایا گیا تاکہ زرداری صاحب کی ملاقات کو موثر بنایا جا سکے۔ یہ بھٹو کی پیپلز پارٹی کی شان ہے کہ ان کے داماد کو اپنی شناخت بطور شریک چیئرمین پیپلز پارٹی کے لئے بھٹو کی پارٹی کے جنرل سیکرٹری کے تعارف کا سہارا لینا پڑا۔

بھٹو ایشیا کا لیڈر تھا، انہوں نے اپنے سیاسی وژن سے پورے خطے کو متاثر کیا۔ آج پاکستان چین کے ساتھ جو تعلقات انجوائے کر رہا ہے وہ بھٹو کی وجہ سے ہیں۔ یہی نہیں سعودی عرب سمیت پوری اسلامی دنیا میں اگر پاکستان کا مقام ہے تو اس کا سبب بھی بھٹو ہی ہے ، ان کی ڈپلومیسی ہے ۔

قائد اعظم نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے پاکستان بنایا تو بھٹو نے اپنی سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خطے میں پاکستان کی دوستیاں بنائیں، اس کے دوستوں کی تعداد میں اضافہ کیا،پاکستان کی تنہائی کو دور کیا۔آج پاکستان کی سیاست انہی خطوط پر استوار ہے جن کو بھٹو نے خطے میں کھینچا تھا۔بھٹو نے پاکستان کو نام بھی دیا اور مقام بھی !

بھٹونے جس زمانے میں پاکستان کی باگ ڈور سنبھالی وہ خطے میں قد آور لیڈروں کا دور تھا، ان میں سے ایک لی کوان یو ہیں جو حال ہی میں سنگاپور کے عظیم لیڈر کے طور پر فوت ہوئے ہیں، بھٹو کا امتیاز یہ تھا کہ وہ پاکستان کے وزیر اعظم بننے سے قبل ایک کامیاب سفارتکار کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے تھے، ان کے تعلقات بین الاقوامی تھے اور ان کے اس وسیع تعلقات کا براہ راست فائدہ پاکستان کو ہوا۔بھٹو خطے میں پاکستان کے بین الاقوامی لیڈر کے طور پر ابھرے، وہ کسی بھی طور پر مقامی نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی لیڈر تھے، دنیا بھر کے لئے وہ پاکستان کا بہترین تعارف تھے۔ دوسری جانب کیا ایشیا کیا مشرق وسطیٰ ، ایک دنیا نے پاکستان کی قدر کی ، اگر کسی نے نہیں کی تو ہم پاکستانیوں نے نہیں کی۔ ہم جمہوری روایات پر نہیں بلکہ آمرانہ اداؤں پر مر مٹنے والی قوم ہیں، ڈنڈا ہمارا پیر ہے۔

ہم یہ بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ بھٹو کے ایٹم بم نے اسلامی دنیا کو پاکستان کے پیچھے صف آرا کردیا تھاجو امریکہ سمیت یورپی ممالک کے لئے ایک چیلنج بن گیا تھا، افسوس یہ ہے کہ جن مقامی قوتوں نے بھٹو کو تختہ دار تک لے جانے میں غیر ملکی عزائم کی تکمیل کی وہ لمحے بھر کو یہ الزام اپنے سر لینے کے لئے تیار نہیں ہیں، انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر پاکستان پر ظلم عظیم کیاجس نے گزشتہ چالیس برسوں میں مسلسل کوشش کی ہے کہ بھٹو پاکستان میں ایک نامعلوم شخصیت بن جائیں، ان کے فلسفے اور سوچ کو ماردیا جائے ، یہی وجہ ہے کہ آج ہمالیہ رو رہا ہے اور سٹیٹس کو کی قوتیں پاکستان میں چوتھے مارشل لاء کے لئے مری جا رہی ہیں ، حالانکہ بھٹو کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں چوتھا مارشل لاء نہیں لگے گا!

سیاست میں مستقبل ہی نہیں تاریخ کی بھی اہمیت ہوتی ہے، مرجانے والے لیڈروں کا کردار اٹل ہوتا ہے، ان کے اقوال زریں سے ہی ریاست کے مستقبل کا پتہ ملتا ہے اور جہاں ایسا نہ ہو وہاں کھیل کود کرنے والے اور گانے بجانے والے قوم کے لیڈر بن جاتے ہیں...جیسا کہ پاکستان میں ہو رہا ہے !

مزید : کالم