وزیر اعظم سچ بتائیں سعودی عرب سے کیا معاہدے ہوئے ،عمران خان

وزیر اعظم سچ بتائیں سعودی عرب سے کیا معاہدے ہوئے ،عمران خان
وزیر اعظم سچ بتائیں سعودی عرب سے کیا معاہدے ہوئے ،عمران خان

  

 اسلام آباد (آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو یمن اور سعودی عرب کے معاملے پر ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے نہ فریق کا ، وزیراعظم نواز شریف سچ بتائیں کہ سعودی عرب کے ساتھ کیا معاہدے ہوئے ہیں، وہ قوم کے سامنے لائے جائیں، ذاتی مفادات اور کاروبار کی وجہ سے قوم کو مشکلات میں نہ ڈالیں، ہم پہلے دوبار جنگوں میں استعمال ہو چکے ہیں، جس میں ہمارے 50ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے ہیں اور 100ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، اگر تیسری بار پھر استعمال ہوئے تو پھر پاکستان کیلئے مشکلات پیدا ہو جائیں گی، قومی اسمبلی کے اجلاس میں جس طرح کی زبان وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے استعمال کی ہے پڑھا لکھا تو کیا کوئی تلنگا بھی استعمال نہیں کر سکتا، مجھے افسوس ہوا کہ وزیراعظم نواز شریف کی موجودگی میں اس طرح کی زبان استعمال کی گئی کیا یہ زبان ان کی اجازت کے بغیر استعمال ہوئی ہے، ایم کیو ایم کا واویلا چور مچائے شور والی بات ہے، ہم نے انہیں گالی نہیں دی بلکہ الطاف حسین نے دھرنے میں آنے والی خواتین کو ہیرا منڈی جیسی زبان استعمال کی۔ وہ پیر کی شام پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اسمبلی میں اس لئے واپس آئے تھے، ڈیڑھ سال سے ہمارا جو مطالبہ تھا کہ 2013کے عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی، ہمارے علاوہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے بھی اعتراض کیا تھا کہ الیکشن نے دھاندلی ہوئی ہے، ہمارا بھی یہی مطالبہ تھا، ہم 126دن دھرنا دیئے رکھا کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، اب چونکہ ہمارا مطالبہ پورا ہو چکا ہے ،واپسی کا راستہ بن گیا، اس لئے واپس اسمبلی میں آئے ہیں، آج یمن سعودی عرب کی صورتحال پر مشترکہ اجلاس بلایا گیا تھا، اس میں اپنی رائے دینے اور سننے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دوران جو ڈرامہ رچایا گیا جس طرح کی زبان استعمال کی گئی اس سے مسلم لیگ(ن) کی اصلیت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ سے مجھے کوئی امید نہیں کہ وہ مسئلہ حل کرنے کیلئے کردار ادا کرسکے گی، پارلیمنٹ میں کونسے مسئلے پہلے حل کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ قوم کے سامنے سچ بولیں، سعودی عرب کے ساتھ کیا معاہدہ ہے جو سابق صدر پرویز مشرف نے سچ نہیں بولا تھا، امریکی جنگ کے حوالے سے جس میں پچاس ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے،100ارب ڈالر کا نقصان ہوا، دس کروڑ لوگ پاکستانی ایک وقت کا کھانا نہیں آج بے روزگاری، امن و امان کی صورتحال قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ اور مدینہ کی حفاظت کیلئے پوری قوم سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان کوثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے نہ کہ فریق کا۔ دونوں ممالک کے درمیان لگی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں کردار ادا کریں، اگر آگ پھیلی تو ہمارے لئے مشکلات پیدا کر دے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم والے چور مچائے شور والی بات کر رہے ہیں، ہم نے الطاف حسین کو کوئی گالی نہیں بلکہ الطاف حسین نے ہمارے دھرنے کے دوران ہماری خواتین کو گالیاں دیں یہاں تک کہ ہیرا منڈی تک کہا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پر 234سنگین مقدمات ہیں وہ27سال سے باہر بیٹھا ہوا ہے وہ واپس پاکستان میں آ کر سیاست کرے، ایم کیو ایم اپنی اوچھی حرکتوں سے خود ایکسپوز ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ (کل)بدھ کو کراچی کا دورہ کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم میں ضرب عضب جاری ہے، آپریشن سے 22لاکھ متاثرین خیبرپختونخواہ میں ہیں، جن کی بحالی واپسی کیلئے 100ارب روپے درکار ہیں،لہٰذا ہمیں کسی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہمارا بھائی ہے اور ایران ہمارا پڑوسی ہے، لہٰذا پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے

مزید : صفحہ اول