سعودی عرب نے بری ،بحری اور فضائی فوج مانگی،خواجہ آصف

سعودی عرب نے بری ،بحری اور فضائی فوج مانگی،خواجہ آصف

اسلام آباد(اے این این/آن لائن /مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے بری، بحری اور فضائی مدد مانگی ہے،ہم نے سعودی قیادت کو بتایا ہے کہ ان کے ملک کی سالمیت کے دفاع میں تعاون کیا جائے گا،سعودی عرب کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اس کے ساتھ کھڑے ہونگے،مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر پاکستان کے کردار سے متعلق حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کی منظوری اور سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق پیر کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 45منٹ تاخیر سے پونے بارہ بجے تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا ، سپیکر سردار ایاز صادق نے صدارت کی ، عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی میں اجلاس میں شریک ہوئے ، سپیکر سردار ایاز صادق نے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کو واپس آنے پر مبارکباد دی اور خوش آمدید کہا اور قرار دیا کہ وہ اس طرح ان کی عزت کریں گے جیسے پہلے کرتے تھے، میں نے قواعد و ضوابط کے مطابق تحریک انصاف کے استعفے منظور نہیں کیے ، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم نوازشریف خود ایوان میں آ ئیں ، نوازشریف کی غیر موجودگی میں پارلیمنٹ اجلاس کا فائدہ نہیں ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے وضاحت کی کہ سری لنکا کے صدر کے دورے کی وجہ سے وزیراعظم مصروف ہیں ، سری لنکن صدر سے ان کے مذاکرات چل رہے ہیں ، نوازشریف جلد ایوان میں آئیں گے ۔خورشید شاہ نے کہاکہ سری لنکا ہمارا برادر ملک ہے ، ہمیں ان کے صدر کا احترام ہے مگر نوازشریف کے آنے تک اجلاس مؤخر کردیا جائے ، وزیردفاع نے کہا کہ وزیراعظم نے سری لنکا کے صدر کو ظہرانہ دینا ہے وہ مصروف ہیں ابھی نہیں آسکتے، وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہاکہ وزیراعظم ریاستی سطح کی مصروفیات میں بیٹھے ہیں ، یہ مشترکہ اجلاس ایک دن کا نہیں ہے کہ روک دیا جائے ، یہ اجلاس پورا ہفتہ بھی چل سکتا ہے ، چھوٹی سی بات کو بتنگڑ نہ بنایا جائے ، خورشید شاہ نے کہا کہ ابھی وزیر دفاع خواجہ آصف بیان دے دیں پھر اجلاس ملتوی کردیا جائے ۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یمن کی بگڑتی صورتحال سے ہمیں تشویش ہے ، وزیراعظم نے مسئلے کی سنگینی پر پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا ہے تاکہ اتفاق رائے سے مسئلہ کا حل نکالا جائے ، محصور پاکستانیوں کی واپسی پہلی ترجیح ہے ، وزیراعظم خود مانیٹرنگ کررہے ہیں ، وزارت خارجہ میں خصوصی سیل قائم ہیں ، 29مارچ کو 503 پاکستانیوں کو طیارے سے اور 186 پاکستانیوں کو عدن سے بحری جہاز سے نکالا ہے ، پاک بحریہ کا جہاز اصلت کارروائی میں شریک ہے ، 174 پاکستانی خود الحدیدہ نہیں آئے تھے ، تاہم گزشتہ رات ان میں 134واپس لے آئے ہیں ، آج بقیہ 34 پاکستانیوں کو بحری کشتی لیکر آئے گی ، پاک بحریہ نے 11بھارتیوں کو بھی نکالا ہے ، محصور پاکستانیوں کی واپسی پر سعودی عرب کا اہم کردار ہے ، ہم دوست ملک چین کے بھی شکر گزار ہیں جن کے جہاز پر بعض پاکستانی جبوتی گئے ، اقوام متحدہ نے منصورہادی کو یمن کا صدر تسلیم کررکھا ہے ، منصور ہادی نے خود سعودی عرب اور خلیج ممالک کو حوثی قبائل کیخلاف کارروائی کی اجازت دی ہے ، پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کو ترجیح دیتا ہے ،سعودی عرب کو خطرہ پاکستان کیلئے باعث تشویش ہے ، پاکستان میں اس معاملے پر سخت رد عمل ہو گا، ہم سعودی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ،میری قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد خود ریاض گیا اور سعودی وزیر دفاع سے بات کی ، وزیراعظم نوازشریف سعودی سلامتی کو انتہائی اہم ترجیح دیتے ہیں ، سعودی عرب مسلمانوں کا مرکز ہے ،ہم یمن کے مسئلے کا سیاسی مذاکراتی حل چاہتے ہیں ،پاکستان اور ترکی کے موقف میں مماثلت پائی جاتی ہے ، آٹھ اپریل کو ایرانی وزیرخارجہ اسلام آباد آرہے ہیں ، وزیراعظم خود خلیجی ممالک کا دورہ کریں گے ، یمن کے حالات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں ، پاکستان اور ترکی ملکر حالات کنٹرول کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، حجاز مقدس کی سکیورٹی اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ، پاکستان منصور ہادی کی حکومت کا تختہ الٹنے کی مذمت کرتا ہے ، طاقت سے حکومت گرانے سے خلیجی کی صورتحال خراب ہو گئی ہے ۔خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں فیصلے کرتے ہیں ، ایٹمی دھماکے بھی عوامی فیصلہ تھا ، ہماری حکومت جمہوری ہے حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی ، ہم کوئی بالا بالا فیصلہ نہیں کرینگے ،ہم دہشت گردی کیخلاف براہ راست جنگ لڑ رہے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ پاک فوج کے ایک لاکھ بہتر ہزار جوان دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑ رہے ہیں مگر ہماری مدد کو کوئی نہیں آیا ، ہم پچاس ہزار جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں ، سو ارب ڈالر سے زیادہ سے زیادہ کا معاشی نقصان ہو چکا ہے ،سعودی عرب کی سلامتی کا وعدہ ایفاء کریں گے، سعودی قیادت نے ہم سے لڑاکا طیارے ، بحری جہاز اور زمینی افواج بھی مانگی ہیں ، بعد ازاں سپیکر نے اپوزیشن کی درخواست پر پارلیمنٹ کا اجلاس شام پانچ بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔جمعیت علماء اسلام (ف ) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یمن کی جنگ فرقہ وارانہ نہیں ہمارے فوجیوں کا خون کیوں بہے ؟ ہر سطح پر جنگ سے اجتناب کرنا چاہیے ان کا کہنا تھا کہ حکومت جو بھی فیصلہ کرے قوم کو پشت پر کھڑا ہونا ہو گا یمن کے معاملے پر حکومت کو صاف گوئی کیساتھ اپنی پالیسی واضح کر نی چاہیے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سعودی عرب کی مدد جائز ہے لیکن اس کی حد کیا ہو گی ؟ ہمیں صلح کی طرف جا کر عالم اسلام کو بچانا ہو گا ہمیں آ گ کو بجھانا ہو گا ورنہ آ گ پوری دنیا میں پھیل سکتی ہے ان کا کہنا تھا کہ یمن میں فرقہ وارانہ جنگ نہیں ہے ۔ہمارے فوجیوں کا خون کیوں بہے۔ہر سطح پر جنگ سے اجتناب کر نا چاہیے پیپلز پارٹی کے رہنماء4 سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ ایوان کو بتایا جائے کہ سعودی عرب کے مطالبے پر حکومت کا ردعمل کیا تھا؟کہ مشترکہ ایوان ایک سپریم ادارہ ہے لیکن یمن جنگ پر اجلاس ''گونگلوؤں'' سے مٹی جھاڑنے کے برابر ہے۔ حکومت گول مول باتیں کرکے مینڈیٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ چودھری اعتزاز نے کہا کہ وزیراعظم کو پوری اْمت مسلمہ میں جانا چاہیے تھا لیکن افسوس وہ صرف ترکی ہی گئے۔ صرف ترکی اور ریاض وفد بھیجنے سے کام نہیں ہوگا۔ وزیراعظم سب کو اکٹھا کرکے اس اہم مسئلے کا حل تلاش کریں۔ کوشش کریں کہ یہ ا?گ جنگ کی بجائے سفارتکاری سے بجھ جائے۔ پاکستان کو یمن کے معاملے پر فریق نہیں بلکہ ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اعتزاز احسن نے مطالبہ کیا کہ ایوان کو بتایا جائے کہ سعودی عرب کی جغرافیائی سرحدوں کو کس صورت خطرہ ہے؟۔ حکومت سعودی عرب کے معاملے پر اپنی واضع ترجیحات، ارادے اور کمٹمنٹس بتائے؟ یہ بھی بتایا جائے کہ پاکستانی فوج سعودی عرب بھیجنے کے اخراجات کون برداشت کرے گا اور پاکستانی فوجی دستوں کی سعودی عرب میں کمانڈ کون کرے گا ۔ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس وقت یمن کی صورتحال انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے یمن کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی بجائے نجی معاملات کو ترجیح دی جو افسوسناک ہے۔ یمن کی صورتحال پر ہمیں یک زبان ہو کر بات کرنا چاہیے۔ ا?ج بحیثیت قوم ہمیں یکجا ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹس ا? رہی ہیں کہ حکومت سعودی عرب کے معاملے پر فیصلہ کر چکی ہے۔ سعودی میڈیا تاثر دے رہا ہے کہ پاکستان نے یمن کے معاملے پر ٹھوس کمٹمنٹس کر لی ہیں۔ سعودی میڈیا کی باتوں میں کتنی صداقت ہے اس کے بارے میں وزیر دفاع خواجہ ا?صف ہی بتا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع نے یمن کی صورتحال کو واضح نہیں کیا۔ وزیر دفاع ایوان کو سعودی مذاکرات کے بارے میں بھی بتاتے۔ واضح کیا جائے کہ سعودی عرب کی جانب سے ہم سے کیا توقعات وابستہ کی گئی ہیں۔ وائس چیئرمین پی ٹی ا?ئی نے کہا کہ یمن کی صورتحال سے امن مخالف قوتوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ او ا?ئی سی پورے معاملے پر کیوں خاموش ہے؟۔ کیا او ا?ئی سی کے پلیٹ فارم کو کسی نے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم قتل و غارت گری میں فریق بننے جا رہے ہیں۔ ہمیں احتیاط سے ا?گے بڑھنا ہوگا کیونکہ یہ چنگاری پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے

اسلام آباد(اے این این) وزیراعظم نواز شریف کے زیر صدارت اجلاس میں قومی سلامتی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پرغورکیا گیا ۔ترجمان وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان خان اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکاء اللہ نے شرکت کی۔

مزید : صفحہ اول