کرائے کے مکانوں پر قبضہ کرنے کے واقعات کی شرح میں اضافہ

کرائے کے مکانوں پر قبضہ کرنے کے واقعات کی شرح میں اضافہ

 لاہور(نامہ نگار)کرائے پرمکان حاصل کرکے قبضہ کرنے اور مالک مکان کو کرایہ ادا نہ کرنے کے کیس دائر کرنے کی شرح میں اضافہ ہونے لگا ہے ،رینٹ عدالتوں میں روزانہ تقریبا15کیس مالکان کی طرف سے دائر کئے جا رہے ہیں۔رینٹ کی عدالتوں میں مالک مکانوں کی طرف سے کرایہ ادا نہ کرنے اور مکان پر زبردستی قبضہ کرنے کے کیس دائر کرنے کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے۔روزانہ دس سے تقریبا15کیس عدالتوں میں دائر ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے صبح سے ہی عدالتوں کے باہرکرایہ داروں اور مالک مکانوں کا رش ہو جاتا ہے ۔اس حوالے سے قانونی ماہر ین جن میں مدثر چودھری، ارشاد گجر ، مرزا حسیب اسامہ ،ساگر علی ڈھلوں کا کہنا ہے کہ رینٹ کے قانون کے مطابق لازم ہے کہ مالک مکان کرایہ دار کو رجسٹرار کرائے لیکن رقم بچانے کی خاطر ایسا نہیں کرتے جس کی وجہ سے ان کو بعد میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے   رینٹ کا قانون 1959پھر 2007اور پھر2009 جس کے بعد 2011 میں قانون لایا گیا لیکن رینٹ کے قانون پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا یہی وجہ سے کہ رینٹ کی عدالتوں میں کیسوں کی تعداد بڑھ رہی ہے      اوردوسری جانب جلد فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے کرایہ دار کیسوں میں قانونی پیچیدگیاں کھڑی کرکے کیسوں کو التوا میں ڈال رہے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4