تحریک انصاف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ،غیر حاضری کا جواز؟

تحریک انصاف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ،غیر حاضری کا جواز؟

تجزیہ:۔ چودھری خادم حسین

آٹھ ماہ کی مسلسل غیر حاضری کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمانی اداروں کا بائیکاٹ ختم کر دیا گزشتہ روز استعفیٰ دینے والے اراکین قومی اسمبلی اور نومنتخب سینیٹرپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شریک ہوئے اور یمن کے مسئلہ پر بحث میں حصہ بھی لیا۔ تحریک انصاف کے وہ اراکین جنہوں نے استعفے دیئے ان کا موقف یہ ہے کہ استعفے منظور نہیں ہوئے تھے جبکہ چالیس نشستوں میں مسلسل غیر حاضر رہنے والے رکنیت کا استحقاق کھو بیٹھتے ہیں توقع کے مطابق پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی نے خیر مقدم کیا ۔ جمعیت علماء اسلام (ف) نے آنے والوں کو اجنبی قرار دیا اور اے این پی والوں نے پوچھا کس منہ سے آئے ہیں۔

ان سطور میں یہ گذارش کر دی تھی کہ تحریک انصاف بائیکاٹ ختم کر دے گی اور اس کے لئے سرکار کی طرف سے انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمشن کے قیام کا معاہدہ کر کے اس بارے میں آرڈی ننس جاری کر کے جواز مہیا کیا گیا اور دھرنے کے بعد یہ بحران بھی ختم ہو گیا ہے۔ اگرچہ اسے اتنا طویل نہیں ہونا چاہئے تھا اور بہت پہلے یہ معاملہ حل ہو جاتا لیکن بوجوہ ایسا نہ ہوا کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے مطابق حکومت ہی ختم ہونے والی تھی لیکن یہ خواہش پوری نہ ہوئی اور جوڈیشل کمشن پر اکتفا کرنا پڑا ۔

اب جہاں تک جوڈیشل کمشن کا سوال ہے تو اول تو اس آر ڈی ننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے جس کے مطابق دھاندلی یا انتخابی قواعد کی خلاف ورزی کی جانچ پڑتال کے لئے الیکشن ٹربیونل کا نظام موجود ہے۔ درخواست دہندہ کے مطابق ایک پورے مربوط انتخابی نظام کی موجودگی کے باوجود ایسے کمشن کا قیام غیر آئینی اور آئینی آرٹیکلز سے متصادم ہے۔تحریک انصاف نے کمشن کو جو سپریم کورٹ کے فاضل جج حضرات پر مشتمل ہو گا دھاندلی کے مکمل ثبوت بہم پہنچانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کمشن حکومت کی طرف سے خط لکھنے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے قائم کرنا ہے۔ حکومت خط لکھے گی تو چیف جسٹس فیصلہ کریں گے۔

دلچسپ صورتحال یوں بھی پید اہو چکی۔ چیف جسٹس نے پہلے ہی فوجی عدالتوں کے خلاف درخواست اور 18ویں اور 21ویں ترامیم کے بارے میں اعتراضات والی تمام درخواستوں کو یکجا کر کے 17فاضل جج حضرات پر مشتمل فل کورٹ کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ فل کورٹ ان تمام درخواستوں کا جائیزہ لے گا۔ دوسری طرف صورتحال یہ بھی ہے کہ عمران خان کی طرف سے کھلے بندوں سابق چیف جسٹس ، افتخار چوہدری اور فاضل جج(ر) خلیل رمدے کے خلاف دھاندلی میں ملوث ہونے کے الزام لگا رکھے ہیں۔ جسٹس (ر) افتخار چوہدری مقابلے کے لئے تیار ہیں وہ فریق بنیں گے اور ان کا کہنا ہے کہ عمران کو جھوٹا ثابت کیا جائے گا۔

تحریک انصاف نے از خود فیصلہ اور مطالبہ کیا جس کے بعد کمشن بنانے کا معاہدہ اور آر ڈی ننس جاری ہوا اب تمام کا تمام معاملہ عدالت عظمیٰ کے پاس چلا گیا۔ جسے فیصلے کرنا ہیں اور جن امور کو زیر سماعت آنا ہے ان کی نوعیت بہت تاریخی ہے اور ہو گی۔فل کورٹ جب فوجی عدالتوں اور 18ویں، 21ویں ترامیم کے حوالے سے سماعت کرے گی تو امکانی طور پر متاثرہ فریق بھی اس میں فریق بننے کے لئے تیار ہوں گے۔ پیپلزپارٹی تو پہلے ہی اعلان کر چکی ہے جبکہ امکان ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی طرف سے بھی وکیل پیش ہوں، ایسی صورت میں دائرہ پھیلے گا اور فیصلہ پاکستان کی آئینی تاریخ کا بھی رخ متعین کر دے گا۔ آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کے ساتھ عدلیہ کے روبرو بھی اہم ترین امور ہوں گے۔

جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو اس کی طرف سے اسمبلیوں میں حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے کہ پیپلزپارٹی کو اے این بی سمیت فرینڈلی اپوزیشن کہا جاتا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن حلیف ہیں، اور ایم کیو ایم چوراہے میں ہے۔ تحریک انصاف نے کراچی کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے ماحول اتنا گرما دیا ہے کہ اس مفروضے کی گنجائش ختم ہو گئی کہ ایم کیو ایم تحریک انصاف کے ساتھ مل کر قومی اسمبلی سے پیپلزپارٹی کا قائدحزب اختلاف کا منصب چھین سکتی ہے اور تحریک انصاف ہی اپوزیشن رہ جائے گی،لیکن اے این پی اور ایم کیو ایم سے محاذ آرائی کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے کردار کو فوری خطرہ نہیں ہے۔

غیر حاضری کا جواز؟

مزید : تجزیہ