پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی طرف سے کوالٹی اسیسمنٹ کے بغیر 200سکولوں کی رجسٹریشن کیخلاف دائر درخواست خارج

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی طرف سے کوالٹی اسیسمنٹ کے بغیر 200سکولوں کی ...

 لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی طرف سے کوالٹی اسیسمنٹ ٹیسٹ کرائے بغیر ہی 200سکولوں کی رجسٹریشن کے خلاف دائر درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سکولوں کی رجسٹریشن کے لئے ہونے والے پہلے ٹیسٹ کی بے ضابطگیوں کو دیکھنا آڈٹ حکام کی ذمہ داری ہے۔مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے چودھری شعیب سلیم ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے کوالٹی اسیسمنٹ ٹیسٹ کئے بغیر ہی سکولوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا ہے جو غیرقانونی ہے، درخواست گزار کے مطابق فاؤنڈیشن نے 2014میں کوالٹی اسیسمنٹ ٹیسٹ کیلئے اخبار اشتہار دیا اور ایک نجی فرم کو تقریباً 1500سکولوں کے ٹیسٹ کا رزلٹ تیارکرنے کا ٹھیکہ بھی دیا جس پر سرکاری خزانے سے تقریباً ایک کروڑ نوے روپے کی لاگت آئی تاہم پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے رزلٹ کااعلان کئے بغیر ہی معاہدہ منسوخ کر دیا اور سکولوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا اور رجسٹریشن کی مد میں لاکھوں روپے کا ٹی اے ڈی ہڑپ کرنے کی دوبارہ منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، درخواست گزار کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اعلیٰ حکام گھوسٹ سکولوں کی رجسٹریشن کرنا چاہتے ہیں اور اسی لئے کوالٹی اسیسمنٹ ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان نہیں کیا جا رہا ، درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق کوالٹی اسیسمنٹ ٹیسٹ کے نتائج کے بغیر سکولوں کی رجسٹریشن نہیں کی جا سکتی ، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو کوالٹی اسیسمنٹ ٹیسٹ کے نتائج کے بغیر سکولوں کی رجسٹریشن کرنے سے روکا جائے اور کوالٹی اسیسمنٹ ٹیسٹ پر سرکاری خزانے سے خرچ کئے جانے والے پیسے کی انکوائری کرائی جائے، عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ سکولوں کی رجسٹریشن کرنا پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا اندرونی معاملہ ہے، اگر کوالٹی اسیسمنٹ ٹیسٹ میں کوئی بے ضابطگی پائی گئی ہے تو اسے دیکھنا آڈٹ حکام کی ذمہ داری ہے۔ ایجوکیشن فاؤنڈیشن

مزید : صفحہ آخر