یمن تنازعے کا حل جنگ نہیں مذاکرات اور مصالحت میں ہے ،ملی یکجہتی کونسل

یمن تنازعے کا حل جنگ نہیں مذاکرات اور مصالحت میں ہے ،ملی یکجہتی کونسل

 لاہور( نمائندہ خصوصی) ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس پیرکومنصورہ میں ہوا جس میں طے کیا گیا کہ ممتاز قادری کو سزائے موت کا فیصلہ قرآن و سنت اور شریعت سے انحراف اور ملک کے مروجہ قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ملی یکجہتی کونسل اسے مسترد کرتی ہے ۔ سعود ی عرب اور یمن کے درمیان تنازعہ کا حل جنگ نہیں مذاکرات اور مصالحت میں ہے ۔ پاکستان عالم اسلام کا اہم ترین ملک ہے ، پاکستان اور ترکی مشرق وسطیٰ کے مسئلہ میں فریق بننے کی بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کریں ۔ ملی یکجہتی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں طے کیے گئے فیصلوں کا اعلان ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے منصورہ میں ایک پریس کانفرنس میں کیا ۔ پریس کانفرنس میں ان کے علاوہ علامہ ساجد علی نقوی ، ، علامہ امین مشہدی ، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر ، سردار محمد خان لغاری ، اسد اللہ بھٹو ، مولانا عبدالمالک و دیگر ارکان مرکزی مجلس عاملہ شریک تھے ۔ لیاقت بلوچ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اجلاس میں سب ممبران کی متفقہ رائے تھی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ شریعت اور مروجہ قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ہم اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے جارہے ہیں اس سلسلے میں جسٹس (ر)نذیر اختر کی سربراہی میں علما اور وکلا کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اس کیس کی قانون جنگ لڑے گی ۔ انہوں نے کہاکہ ملی یکجہتی کونسل تمام مکاتب فکر کے علما پر مشتمل ایک پینل بھی تشکیل دے گی ۔ سپریم کورٹ میں اس کیس کا حصہ بنے گی ۔ تحفظ ناموس رسالت ؐ کے بارے میں سیمینار منعقد کیے جائیں گے ۔ انہوں نے قومی پریس سے اپیل کی کہ یہ عشق رسول ؐ کامعاملہ ہے وہ اسے مثبت انداز میں پیش کرے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے بارے میں لیاقت بلوچ نے کہاکہ جنگ سے بربادی ہوگی امن کار استہ اختیار کیا جائے ،مشرق وسطیٰ کے بحران کو فرقہ واریت کا رنگ دیا جارہاہے ۔ صدر ملی یکجہتی کونسل صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ممتاز قادری کیس میں قرآن و سنت کو نظر انداز کیا گیاہے ۔ یہ ایک جذباتی مسئلہ ہے مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتاہے لیکن حضورؐ کی توہین برداشت نہیں کر سکتا ۔ ملی یکجہتی کونسل

مزید : صفحہ آخر