یمن کی جنگ میں اپنی فوج کو کرائے پر نہیں بھجوانا چاہیے ، عاصمہ جہانگیر

یمن کی جنگ میں اپنی فوج کو کرائے پر نہیں بھجوانا چاہیے ، عاصمہ جہانگیر

 لاہور (نامہ نگار خصوصی) سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ یمن کی جنگ میں ہمیں اپنی فوج کو کرائے پر نہیں بھجوانا چاہیے ، جوڈیشل کمیشن کی تشکیل فضول مشق ہے ، تحریک انصاف کو انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کرنا چاہئے تھا۔ لاہور ہائیکورٹ بار میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ہمارے ملک کے سیاست دانوں کی پشت پر ٹانگ ماری جاتی ہے تو وہ سعودی عرب یا یو اے ای ہی جا کر پناہ لیتے ہیں، ہمیں دوسرے ملک کی جنگ میں نہیں پڑنا چاہئے، تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی بادشاہت کو نہیں بچا سکا اگر بادشاہت بچ سکتی تو آج بھی اس خطے میں مغل بادشاہ حکومت کر رہے ہوتے ، ہمیں تاریخ کے سبق کو یاد رکھنا چاہئے ،ہم سب مل کر سعودی بادشاہت کو نہیں بچا سکتے۔ پاکستان عرب ملک نہیں ہے نہ ہی عرب ممالک اپنے فیصلے ہماری مشاورت سے کرتے ہیں۔ ہمیں سعودی جنگ میں فوج نہیں بھیجنی چاہئے اس بات کا فیصلہ پارلیمنٹ میں ہی ہونا چاہئے کہ فوج کس ملک میں کرائے پر بھیجنی ہے۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کو تھوک کر چاٹنے کی عادت ہے انتخابی دھاندلیوں کیلئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل فضول مشق ہے، انتخابی دھاندلیوں میں ایک پارٹی منہ چھپاناچاہتی تھی اور دوسری پارٹی کو جان چھڑانا مقصود تھا، جوڈیشل کمیشن ٹربیونل کی جگہ نہیں لے سکتا، عمران خان ٹربیونل میں انتخابی دھاندلیوں کا ثبوت فراہم نہیں کر سکے تو جوڈیشل کمیشن کے سامنے کیا پیش کریں گے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے ججزپرمشتمل کمیشن تشکیل ہونے سے مقدمات کی سماعت متاثرہوگی ، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو ڈراموں اور دھرنوں کی بجائے انتخابی اصلاحات کا ہی مطالبہ کرنا چاہئے تھا۔

مزید : صفحہ آخر