غیر رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولوں کیخلاف کاروائی کیلئے ترمیمی بل پیش کرینگے،رانا مشہود

غیر رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولوں کیخلاف کاروائی کیلئے ترمیمی بل پیش کرینگے،رانا ...

 لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب کے وزیر تعلیم رانا مشہود نے کہا ہے کہ پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز پروموشن اینڈ ریگولیشن) آرڈیننس رولز’’1984ء‘‘ کی موجودگی میں غیر رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کرسکتے مگر آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے نیا ترمیمی بل ایوان میں پیش کردیا جائے گا،پنجاب حکومت نے تعلیمی اداروں میں ’’مسنگ فیسلٹیز‘‘30ارب روپے اب تک خرچ کر دئیے،ایک لاکھ 40ہزار ٹیچرز بھرتی کئے جبکہ اے سے دو برس میں مزید40ہزار اساتزہ بھرتی کریں گے،۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ سکولز ایجوکیشن کے بارے میں ممبران کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت سے2گھنٹے20منٹ کی تاخیر سے 4بجکر20منٹ پر قائم مقام سپیکر سردارشیر علی گورچانی کی صدارت میں شروع ہوا اجلاس کے آغاز پر ایوان میں چند حکومتی ممبران جبکہ اپوزیشنکاایک رکن موجود تھا ۔صوبائی وزیر نے رکن اسمبلی امجد علی جاوید کے سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ ہم غیر رجسٹرد پرائیویٹ سکولوں کے خلاف موجودہ ایکٹ کے تحت ایکشن نہیں لے سکتے ، اس کے لئے ہم ایک سکول اتھارٹی بنانے جا رہے ہیں ، اور اس اتھارٹی کے قیام کے لئے بل ایوان میں جلد پیش کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اتھارٹی کے قیام کے بعد ہی ہم فیک تعلیمی اداروں کے خلاف کو ئی ایکشن لے سکتے ہیں۔ رکن اسمبلی احسن ریاض فتیانہ کے سوالے کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت آئندہ ایک سے دو سال تک محکمہ ایجوکیشن میں تمام خالی آسامیاں پر کر لے گی، تاہم تعلیمی اداروں میں ’’مسنگ فیسلٹیز‘‘ کی مد میں اب تک 30ارب روپے خرچ کر چکی ہے ۔اور ان’مسنگ فیسلٹیز‘‘ میں واش روم، بجلی کی سلائی پینے کا صاف پانی اور سکولوں کی چار دیواری شامل ہیں اور اگر کسی سکول میں ابھی تک کسی چیز کی کمی ہے تو رکن اسمبلی اس کی نشاندہی کریں، خامی کو دور کیا جائے گا۔احسن ریاض فتیا نہ نے سپیکر سے استفسار کیا کہ محکمہ کی طرف سے میرے سوال کا غلط جواب ہے لہٰذا اس پر رولنگ دی جائے، سپیکر نے کہا منسٹر آ پ کو اپ ڈیٹ جواب دے رہے ہیں رولنگ کی اس پر ضرورت نہیں ہے،احسن ریاض فتیانہ نے کہا کہ حکومت ہمیں بے شک فنڈز نہ دے لیکن ہمارے حلقوں کو تعلیمی اداروں کی حالت بھی بہتر بنائے۔رکن اسمبلی خدیجہ عمر کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے پنجاب میں اب تک ایک لاکھ40ہزار ٹیچرز میرٹ پر بھرتی کئے ہیں اور مزید40ہزار نئے ٹیچرز بھرتی کرنے جا رہے ہیں اور دو سال تک پنجاب ایجوکیشن میں تمام خالی آسامیاں پر کر لی جائیں گی۔نگہت شیخ کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن واؤچر سکیم کا آغاز پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے2006ء میں کیا۔ یہ سکیم اب پورے پنجاب میں بڑی کامیابی سے پھیل چکی ہے جس کے تحت رجسٹرڈ بچوں کی تعداد 43ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔شیخ علاؤالدین کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ سکول ایجوکیشن کی حالت کو مزید بہتر بنانے کے لئے 4ہزار ’’ ای ڈی اوز‘‘ ایجوکیشن بھرتی کرنے جارہے ہیں، جنہیں ٹیبلٹ بھی دی جائیں گی تاکہ روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے،انہوں نے کہا کہ سکولوں کی حالت کو ماڈل بنانے کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی ایک سکول’’Adopt‘‘ کیا ہے اور اسمبلی کے تمام ممبران کو بھی یہ ہدایت کی ہے کہ وہ بھی اپنے اپنے حلقوں میں ایک ایک سکول ’’Adopt‘‘ کریں ۔کیونکہ پنجاب حکومت پنجاب کے ہر بچے کو سکو ل لے کر جانا چاہتی ہے۔صوبائی وزیر تعلیم نے ایوان میں انکشاف کیا کہ محکمہ تعلیم کے7ای ڈی اوز کو بیڈ پرفارمنس کی وجہ سے شو کاز نوٹس جاری کئے ہیں جبکہ2اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کو معطل کیا ہے۔ اپوزیشن رکن فائزہ ملک کی جانب سے گزشتہ دنوں ڈینگی کے بارے میں اٹھائے گئے نکتہ اعتراض پر وزیراعلی کے مشیر برائے صحت خواجہ سلمان رفیق نے ایوان کو بتایا ہے کہ پنجاب سب سے بہتر انداز میں ڈینگی کو کنٹرول کررہاہے اور مارچ میں راولپنڈی اور لاہور میں بارشیں زیادہ ہوئی ہیں ،غیر معمولی بارشوں کو مدنظر رکھ کر حکومت ڈینگی کے سدباب کے لیے مزید بہتر اقدامات اٹھارہی ہے مگر اس سلسلہ میں عوام بھی حکومت کا ساتھ دیانہوں نے ایوان کو بتایا کہ راولپنڈی میں ڈینگی کے 1200مریضوں کی نشاندہی کی گئی ان کا علاج کیا گیا اور ان میں سے ایک بھی موت نہیں ہوئی تمام صحت یاب ہوکر گھروں کو واپس چلے گئے۔ پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ آخر