ڈی فارمیسی کے طلبہ کو خارج کرنے کیخلاف درخواست پر انتظامیہ سے جواب طلب

ڈی فارمیسی کے طلبہ کو خارج کرنے کیخلاف درخواست پر انتظامیہ سے جواب طلب

 لاہور (نامہ نگار خصوصی)اہور ہائیکورٹ نے یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیاء کے ڈی فارمیسی کے درجنوں طلبا اور طالبات کو یونیورسٹی سے خارج کرنے اور کلاسز کی اجازت نہ دینے کے خلاف دائر درخواست پر یونیورسٹی انتظامیہ اور فارمیسی کونسل آف پاکستان سے 16 اپریل تک جواب طلب کر لیا۔مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن نے میاں ابوبکر سمیت درجنوں طلباء اور طالبات کی درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزاروں کی طرف سے افتخار شاہد ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیاء کی انتظامیہ نے بلاوجہ درجنوں طلباء اور طالبات کے نام خارج کردیئے ہیں اور جو طلباء اور طالبات زیر تعلیم ہیں انہیں کلاسز میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ، انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی نے سینکڑوں طلباء کی ڈی فارمیسی میں رجسٹریشن کی تھی تاہم اب فارمیسی کونسل آف پاکستان نے یونیورسٹی کا چارٹر ختم کر دیا ہے جس کی بنیاد پر یونیورسٹی لاکھوں روپے فیس بٹورنے کے بعد اب طلباء و طالبات کو فارغ کر رہی ہے اور انہیں کلاسز میں بیٹھنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی جو طلباء کا مستقبل تباہ کرنے کے برابر ہے، انہوں نے استدعا کی کہ یونیورسٹی کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے اور طلباء وطالبات کو ڈگریاں جاری کرنے کا حکم دیا جائے، انہوں نے مزید استدعا کی کہ زیر تعلیم طلباء کو کلاسز لینے کی اجازت دی جائے، سماعت کے بعد عدالت نے فارمیسی کونسل آف پاکستان اور یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیاء کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 16اپریل تک جواب طلب کر لیا۔ یو ایس اے

مزید : صفحہ آخر