اربوں روپے کا مالک ہونے کے باوجودبیوی سے جیب خرچ لینے پر مجبور

اربوں روپے کا مالک ہونے کے باوجودبیوی سے جیب خرچ لینے پر مجبور
 اربوں روپے کا مالک ہونے کے باوجودبیوی سے جیب خرچ لینے پر مجبور

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 لندن (نیوز ڈیسک) برطانیہ کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہونے والے سٹیو سمتھ ارب پتی ہونے کے باوجود اپنے روزمرہ اخراجات کے لئے اپنی بیوی کی شفقت کے منتظر رہتے ہیں کیونکہ وہ انہیں باقاعدگی سے جیب خرچ دیتی ہیں اور اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کی ہدایت بھی کرتی ہیں۔52 سالہ سمتھ بچپن میں اپنے والد کے ساتھ بلسٹن مارکیٹ میں ایک چھوٹا سا سٹال لگایا کرتے تھے لیکن جب اٹھارہ سال کی عمر میں انہوں نے اپنے والد سے قرض لے کر کاروبار کا آغاز کیا تو محض ایک دہائی میں وہ ارب پتی بن گئے۔ جب انہوں نے اپنی کمپنی پانچ کروڑ برطانوی پاؤنڈ (تقریباً ساڑھے 7 ارب پاکستانی روپے) میں بیچی تو اس میں سے نصف رقم اپنے والدین کو دے دی جبکہ باقی نصف سرمایہ کاری میں استعمال کردی۔ سٹیو کی اہلیہ ان کی فضول خرچی سے تنگ تھیں اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے پاس کچھ بھی نہیں رکھ سکتے بلکہ وہ خود انہیں روزانہ استعمال کے لئے اخراجات دیں گی۔ اب انہیں روزانہ 10 پاؤنڈ (تقریباً 1500پاکستانی روپے) دئیے جاتے ہیں اور اگر کبھی ان کی بیوی کا موڈ اچھا ہو تو 20 پاؤنڈ بھی مل جاتے ہیں۔ وہ اس رقم کو انتہائی احتیاط کے ساتھ استعمال کرتے ہیں کیونکہ دیے گئے جیب خرچ سے تجاوز کرنے پر انہیں بیگم کی ناراضی کے علاوہ مزید رقم کے لئے صبر آزما انتظار بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ سٹیو نے یہ دلچسپ انکشافات برطانوی اخبار ’’دی ٹیلیگراف‘‘ کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ قارئین کے لئے یہ مزاحیہ بات ہوسکتی ہے لیکن ان کے لئے یہ زندگی کے سنجیدہ حقائق ہیں جو ان کیلئے خوشی اور غم کا باعث بھی بنتے ہیں۔ جیب خرچ

مزید : صفحہ آخر