ماہ مارچ میں 50 ڈکیت اور چور گروہوں کے 13 ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا

ماہ مارچ میں 50 ڈکیت اور چور گروہوں کے 13 ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا

لاہور(کرائم سیل)انویسٹی گیشن پولیس نے ماہ مارچ میں دوران واردات مزاحمت پر شہری کو قتل کرنے اور ڈکیتی، راہزنی، ہاؤس رابری سمیت اڑھائی سو کے قریب سنگین وارداتوں میں ملوث 50ڈکیت اور چور گروہوں کے درجنوں ملزموں کو گرفتار کر کے ان سے اڑھائی کروڑ روپے سے زائدمالیت کا مسروقہ مال ، نقدی اور ناجائز اسلحہ برآمدکرلیا ہے۔یہ بات ایس ایس پی انویسٹی گیشن رانا ایاز سلیم نے میڈیا کو جاری کئے گئے ایک بیان میں بتائی۔ اُنہوں نے کہا کہ انویسٹی گیشن پولیس نے ڈاکوؤں ،راہزنوں اور چوروں کے جن گینگز کو گرفتار کیا ان ملزمان میں سے 50ملزمان سابقہ ریکارڈ یافتہ ہیں جو متعدد سنگین مقدمات میں اشتہاری بھی تھے۔ اُنہوں نے بتایا کہ پولیس نے ان گروہوں کے کل 131ملزموں کو گرفتار کیاجنہوں نے دوران تفتیش لاہور کے مختلف علاقوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران ڈکیتی، راہزنی، ہاؤس رابری، قتل اور نقب زنی کی اڑھائی سو وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔پولیس نے گرفتار ملزموں کی نشاندہی پراڑھائی کروڑ روپے سے زائد مالیت کا مال مسروقہ برآمد کر لیا ہے جس میں 22لاکھ10ہزار5سو روپے نقدی،لاکھوں روپے مالیت کے طلائی زیورات،کاریں، کیری ڈبے، رکشے، پک اپ، موٹر سائیکلیں، موبائل فونز،لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، دیگر قیمتی سامان اور ناجائز اسلحہ شامل ہے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈان موبائل سنیچر اور سونی پرس سنیچر گینگ کے ملزمان اس قدر سفاک اور ماہر نشانہ باز ہیں کہ وہ دوران واردات مزاحمت پر شہریوں کو فائرنگ کرکے قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے جبکہ ان کا ایک ساتھی دوران واردات تھوڑا فاصلے پر رہتا اور کسی مزاحمت کی صورت میں دور سے فائرنگ کر دیتا تھا۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے کہا شہریوں کے جان و مال اور عزت کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے ہم سب کو اپنے فرائض خلوص نیت اور لگن سے ادا کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ سی سی پی او لاہور کیپٹن(ر) محمدامین وینس کی سربراہی میں لاہور پولیس ڈاکوؤں، راہزنوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف دن رات سر گرم عمل ہے اور ان 50ڈکیت گروہوں کی گرفتاری اس بات کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو پویس اہلکار اپنے فرائض خلوص نیت اور لگن سے ادا کریں گے ان کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ کام چور،نالائق اور بددیانت اہلکاروں کے خلاف نہ صرف سخت قانونی بلکہ محکمانہ کاروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید : علاقائی