پارلیمنٹ کا اجلاس۔ نئی صف بندی

پارلیمنٹ کا اجلاس۔ نئی صف بندی
 پارلیمنٹ کا اجلاس۔ نئی صف بندی

  

 ایم کیو ایم اور جے یو آئی (ف) نے قومی اسمبلی کا ماحول گرما دیا ۔اور خواجہ آصف نے ایٹم بم ما ر دیا۔ اعتزاز احسن نے انہیں پورس کا ہاتھی قرار دیا ہے۔ لیکن ایک تجزیہ یہ ہے کہ خواجہ آصف نے ٹھیک کیا ہے۔ تجزیہ نگار کی رائے میں خواجہ آصف نے جو کیا ہے نواز شریف کی آشیر باد سے کیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تحریک انصاف کے استعفے بھی وزیر اعظم میاں نواز شریف کی مرضی سے مسترد کئے ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جب تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں شرکت کی دعوت دی ۔ یا یہ کہا جائے کہ تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں آنے کی درخواست کی تو وہ بھی میاں نواز شریف کی مرضی سے کی تھی۔ حتیٰ کہ مولانا فضل الرحمٰن بھی جو کر رہے ہیں۔اس میں بھی میاں نواز شریف کی بالواسطہ حمایت حاصل ہے۔ ایم کیو ایم بھی جو کر رہی ہے۔ اس سے میاں نواز شریف کو ناراضگی نہیں ہے۔ تحریک انصاف کو سمجھنا چاہئے کہ اس کی حالت بالکل’’ رضیہ غنڈوں میں گھر گئی‘‘ جیسی ہے۔ تحریک انصاف کو اس بات کا اندازہ ہو نا چاہئے کہ قومی اسمبلی میں ان کے لئے ماحول سازگارنہیں ہو گا۔ تحریک انصاف کو پتہ ہو گا کہ جن جماعتوں کے رہنماؤں کو وہ کنٹینر سے برا بھلا کہتے رہے ہیں اگر اب ان کو باری ملی ہے تو وہ کیوں معافی دیں گے۔ سیاست ایک بے رحم کھیل ہے جس میں کوئی کسی کو معاف نہیں کرتا۔ عمران خان نے کیسے یہ سوچ لیا کہ وہ کوئی یوٹرن لیں گے اور ان کے سیاسی مخالفین اس کا فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔ اگر ایسا تھا تو یہ بچگانہ سوچ تھی۔ پیپلز پارٹی نے بلا شبہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تحریک انصاف کا ساتھ دیا ہے۔ پہلے قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے تحریک انصاف کا مقدمہ لڑا اور بعد میں سینٹ کے قائد حزب اختلاف اعتزا ز احسن نے بھی تحریک انصاف کا مقدمہ لڑا۔ پیپلز پارٹی کی یہ پالیسی بھی ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے۔ پیپلز پارٹی کو پتہ ہے کہ تحریک انصاف اس کی اپوزیشن کی حیثیت کو خراب کرتی ہے۔ اسے فرینڈلی اپوزیشن قرار دیکر اس کی ساکھ خراب کرتی ہے۔ لہذا پیپلز پارٹی کو اپنی ساکھ بطور اپوزیشن بہتر کرنے کے لئے تحریک انصاف کو ساتھ لیکر چلنا ہے۔ اسی لئے خورشید شاہ اور اعتزاز احسن نے کمال مہارت سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے پہلے ہی روز تحریک انصاف کو اپنے ساتھ کر لیا۔ تحریک انصاف نے اگر اب پارلیمنٹ میں بیٹھنا ہے تو اس کی سیاسی تنہائی پیپلز پارٹی ہی ختم کر سکتی ہے۔ جے یو آئی (ف) ایم کیو ایم ۔ اے این پی۔ اور بلوچ قوم پرست جماعتیں تو تحریک انصاف کے خلاف ہیں۔اس لئے تحریک انصاف کے پاس بھی فی الحال پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کرنے کے سواکوئی آپشن نہیں ہے ۔ اس طرح یہ کہاجائے کہ تحریک انصاف کے پارلیمنٹ میں آنے سے جہاں میاں نواز شریف کو فائدہ ہوا ہے وہاں پیپلز پارٹی کو بھی بہت فائد ہ ہوا ہے۔ اسی لئے عمران خان اور شاہ محمود قریشی اعتزاز احسن کی تعریف کرتے نہیں تھک رہے تھے۔ شاہ محمود قریشی نے اسی لئے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں خورشید شاہ اور اعتزاز احسن کی بار بار تعریف کی۔ حالانکہ یہ وہی خورشید شاہ ہیں جن کے بارے میں عمران خان کنٹینر سے کہتے رہے کہ وہ میاں نواز شریف کے چپراسی ہیں ۔ اس لئے ان سے بات نہیں ہو سکتی۔ لیکن آج وہی خورشید شاہ قابل تعریف ہیں۔ یہی سیاست ہے۔ اور تحریک انصاف نے بالاخر سیاست سیکھ لی ہے۔ جب خواجہ آصف پارلیمنٹ میں تحریک انصاف کو للکار رہے تھے۔ ایوان میں گو عمران گو عمران کے نعرے لگ رہے تھے۔ تو میرے ایک دوست نے کہا کہ عمران خان جذباتی آدمی ہیں کہیں دوبارہ بائیکاٹ نہ کر دیں۔ لیکن اس کا اندازہ غلط ثابت ہوا اور عمران خان نے باہر آکر ایسانہیں کیا۔ شائد میرا دوست کرکٹ کے دور کے عمران خان کو جانتا تھا۔ اور یہ سیاست کے دور کا عمران خان ہے۔ عمران خان نے وقت کے ساتھ کڑوی گولی کھانے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔اور پارلیمنٹ میں واپسی عمران خان کے لئے ایک کڑوی گولی تھی جو انہوں نے کھا لی ہے۔ اس کی کڑواہٹ انہیں تھوڑے عرصہ تک محسوس ہوتی رہے گی۔ لیکن یہ گولی ان کے لئے فائدہ مند بھی ہو گی۔ اس سے ان کی بہت سے بیماریوں کا علاج بھی ہو گا۔ میرے خیال میں پوری ن لیگ ویلڈن خواجہ آصف کہہ رہی ہو گی۔کیونکہ تمام سیاسی مصلحتوں کے ساتھ ساتھ آخر کسی کو تو حکمران جماعت کے جذبات کی ترجمانی کرنی تھی۔ اور اگر یہ بات پہلے دن نہ کی جاتی تو بعد میں کرنا اس قدر قابل قدر نہ ہو تا۔ خواجہ آصف کے للکارنے سے ن لیگ نے اپنا کیس بھی ریکا ر ڈ پر رکھ لیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کی واپسی کو کس طرح دیکھتی ہے۔ جب تحریک انصاف کا وقت تھا تو انہوں نے ن لیگ کے ساتھ کوئی رعایت کی تھی اور نہ ہی اب ان سے کوئی رعایت کی جائے گی۔ اگر گو نواز گو کے نعرے لگوائے گئے ہیں تو گو عمران گو عمران کے نعرے بھی لگیں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن کو بھی علم ہے کہ میاں نواز شریف ان سے خوش ہیں ۔ اس لئے وہ بھی ویلڈن کر رہے ہیں۔

مزید : کالم