عراقی شہر تکریت میں 1700 افراد کی اجتماعی قبریں دریافت

عراقی شہر تکریت میں 1700 افراد کی اجتماعی قبریں دریافت
عراقی شہر تکریت میں 1700 افراد کی اجتماعی قبریں دریافت

  

 تکریت(مانیٹرنگ ڈیسک)عراق کے شہر تکریت میں تقریبا 1700 افراد کی اجتماعی قبریں ملی ہیں جو مبینہ طور پر داعش کے ہاتھوں مارے جانیوالے فوجیوں کی قبریں ہیں ۔یہ قبریں سابق امریکی فوجی ٹھکانے سپائچر کے قریب ملی ہیں۔

داعش سے تکریت کو آزاد کرانے کے بعد عراق کی فورنسک ٹیم نے 12 قبروں کی کھدائی کا کام شروع کر دیا ہے جبکہ جنگجو تنظیم سوشل میڈیا پر قتل، پھانسی اور ہلاکتوں کی ویڈیوز اور تصاویر جاری کرچکی ہے اور مارے جانے والے عراقی فوجیوں میں اکثریت شعیہ کی تھی۔اس واقعے میں بچ جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ قتل کرنے سے قبل وہ پوچھتے تھے کہ آیا وہ شیعہ تو نہیں۔

میڈیارپورٹ کے مطابق تکریت کو داعش سے آزاد کرالیاگیاہے اور قبر کشائی کے بعد لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کیے جائیں گے کیونکہ بعض خاندان اس بات سے نا واقف ہیں کہ آیا ان کے لواحقین مر چکے ہیں۔اتوار کو خالد العتبی نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ ہم نے آج پہلی قبر کو کھولا ہے اور ابھی تک ہمیں اس میں 20 لاشیں ملی ہیں، ابتدائی علامتیں بتاتی ہیں کہ یہ بلاشبہہ سپائچر واقعے کے شکار افراد کی لاشیں ہیں،’یہ ایک دلدوز منظر تھا اور ہم خود کو پھوٹ پھوٹ کر رونے سے نہ روک پائے جبکہ بعض قبریں سابق عراقی صدر صدام حسین کے صدارتی احاطے سے ملی ہیں جو گذشتہ سال شہر پر قابض ہونے کے بعد دولت اسلامیہ کا ہیڈکوارٹر بنا تھا۔

مزید : بین الاقوامی