صدرمملکت کی مہمان صدر سے ملاقات، دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے خواہاں ہیں:ممنون حسین

صدرمملکت کی مہمان صدر سے ملاقات، دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید ...
صدرمملکت کی مہمان صدر سے ملاقات، دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے خواہاں ہیں:ممنون حسین

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور سری لنکا باہمی تعاون سے سارک کو علاقائی تعاون اور ترقی کی ماڈل تنظیم بنا سکتے ہیں‘دونوں ملک خطے میں امن و استحکام اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔

 سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا سے بات چیت کرتے ہوئے مملکت ممنون حسین نے کاکہناتھاکہ پاکستان سری لنکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور سیاسی، معاشی، اقتصادی اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ صدر مملکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ملک ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھیں گے۔

سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا نے کہا کہ پاکستان مخلص ترین ملک اور مضبوط بھائی ہے۔ پوری سری لنکا کی قوم پاکستان کا بہت احترام کرتی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے فورم پر پاکستان کی جانب سے حمایت پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر صدر مملکت ممنون حسین نے سری لنکا میں نادرا کے شناختی کارڈ بنانے کے منصوبے کی تکمیل پر اطیمنان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ سری لنکا مستقبل میں بھی نادرا کی خدمات سے استفادہ کرے گا۔

 صدر ممنون حسین نے کہا کہ لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والا حملہ افسوس ناک واقعہ تھا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انھوں نے کہا کہ سری لنکن ٹیم پاکستان کا دورہ کرے، آئندہ اس طرح کا واقعہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا نے یقین دہانی کرائی کہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم جلد پاکستان کا دورہ کرے گی۔ اس موقع پر صدر مملکت نے سری لنکا کے بلے باز کمار سنگاکارا کی جانب سے ورلڈ کپ کرکٹ میں چار سنچریوں کا ورلڈ ریکارڈ بنانے پر سری لنکن ہم منصب کو مبارکباد بھی دی۔

 صدر مملکت نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم صلاحیت سے کم ہے جس میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سارک کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ علاقائی تعاون، امن کے فروغ اور استحکام کے لیے سارک ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیحہ طلب معاملات پر تعمیری اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتا ہے۔ صدر ممنون حسین نے اس امید کا اظہار کیا کہ بھارت ایک دن اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر آمادہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے، پاکستان بدھ مت تہذیب اور ورثہ کا گھر ہے جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان سیاحت کے شعبے کو فروغ حاصل ہوسکتا ہے۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں