عدن میں لڑائی شدت اختیار کرگئی ، کم ازکم 193شہری جاں بحق

عدن میں لڑائی شدت اختیار کرگئی ، کم ازکم 193شہری جاں بحق
عدن میں لڑائی شدت اختیار کرگئی ، کم ازکم 193شہری جاں بحق

  

صنعاء( مانیٹرنگ ڈیسک)یمن کے جنوبی شہر عدن میں اہل تشیع مسلک کے حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حامی ملیشیا کے حملوں میں کم سے کم 193 عام شہری ہلاک اور 1000 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔عدن کے طبی ذرائع نے بتایا کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران شہر میں لڑائی کے نتیجے میں 34 افراد مارے گئے جن میں سے انیسحوثی اور دیگر عام شہری شامل ہیں۔

حوثیوںنے ریڈ کراس کی ایمبولینسوں کو بھی نہ بخشا اور گولے داغے جس کے نتیجے میں تین افراد مارے گئے۔ اس کے علاوہ حوثی ملیشیا نے عدن کی المعلا، التواھی اور القلوعہ کالونیوں کی پائپ لائنوں کو بھی تباہ کردیا ہے۔

 حوثی ملیشیا اور سابق صدر کے حامی عسکری گروپوں کی گولہ باری میں شہر کی کئی مارکیٹوں کو تباہ کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کو مزید مشکلات کا سامناکرنا پڑا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حوثی شدت پسند ٹینکوں، بکتربند گاڑیوں اور دیگر اسلحہ کے ساتھ الحدیدہ شہر میں الفازہ کے مقام پر دوبارہ اپنی قوت مجتمع کررہے ہیں تاکہ عدن پر ایک بار پھر چڑھائی کی جاسکے۔

مزید : بین الاقوامی