سستے موبائلز کے بعد چین کی ایک اور ”فخریہ“ پیشکش

سستے موبائلز کے بعد چین کی ایک اور ”فخریہ“ پیشکش
سستے موبائلز کے بعد چین کی ایک اور ”فخریہ“ پیشکش

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) یوں تو چین پر ہر چیز کی نقل تیار کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے اور یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ جیسے ہی کوئی موبائل کمپنی اپنا نیا موبائل مارکیٹ میں لاتی ہے تو حیرت انگیز طور پر دوسرے روز ہی چین میں اس کی ہو بہو نقل تیار کر لی جاتی ہے۔ بات صرف یہاں ہی ختم نہیں ہوتی کیونکہ اب چین نے جعلی ڈگریاں بھی بنانا شروع کر دی ہیں اور صرف 500 پاﺅنڈ کے عوض کسی بھی برطانوی ادارے کی ڈگری کو خریدا جا سکتا ہے۔

برطانیہ کے ایک سرکاری ادارہ ایک چینی ویب سائٹ کے بارے میں تحقیقات کر رہا ہے جو بہت سی برطانوی یونیورسٹیوں کی جعلی ڈگریاں بیچ رہی ہے۔گاہکوں کا روپ بدل کر جب مقامی ریڈیو سے وابستہ صحافیوں نے سائٹ سے جعلی ڈگری خریدنے کی کوشش کی تو یہ انکشاف ہوا کہ یہ ویب سائٹ یونیورسٹی آف کینٹ اور سرے کے علاوہ اور بہت سے برطانوی تعلمی اداروں کی جعلی ڈگریاں بیچنے میں ملوث ہے تاہم برطانیہ میں تعلیمی اسناد کی تصدیق کرنے وال ادارے ہائیر ایجوکیشن ڈگری ڈیچٹ (ایچ ای ڈی ڈی) کو امید ہے کہ چینی حکام اس ویب سائٹ کو بند کر دیں گے۔

دوسر جانب جعلی ڈگریاں بیچنے والی سائٹ کا موقف ہے کہ جعلی ڈگریاں محض نمائش کیلئے یا ان لوگوں کو بیچی جاتی ہیں جن کی اصل ڈگری گم ہوگئی ہولیکن یونیورسٹی آف کینٹ کا کہنا ہے کہ ہمارے طالب علم بہت محنت کر کے ڈگری حاصل کرتے ہیں اس طرح ڈگری بیچنا غلط اور پریشان کن ہے۔ایچ ای ڈی ڈی کی ترجمان جین رولی کا کہنا ہے کہ ’چینی ویب سائٹ برطانوی اور امریکی یونیورسٹیوں کی جعلی ڈگریاں بیچ کر بہت سے ممالک میں قانون شکنی کی مرتکب ہو رہی ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر چین کی وزارت تعلیم سے رابطہ کر لیا گیا ہے اور امید ہے کہ اس ویب سائٹ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ برطانیہ کے مقامی ریڈیو نے رپورٹ کیا تھا کہ یہ سائٹ 500 پاو¿نڈ میں جعلی ڈگریاں بیچ رہی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس