طلاق کے امکانات کم کرنے کیلئے سعودی عرب نے نوبیاہتا جوڑوں کو انوکھی ترین سہولت دینے کا سوچ لیا

طلاق کے امکانات کم کرنے کیلئے سعودی عرب نے نوبیاہتا جوڑوں کو انوکھی ترین ...
طلاق کے امکانات کم کرنے کیلئے سعودی عرب نے نوبیاہتا جوڑوں کو انوکھی ترین سہولت دینے کا سوچ لیا

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں نوبیاہتا جوڑوں میں طلاق کی شرح کوکم کرنے کیلئے انہیں مالی مدد فراہم کرنے کے منصوبے پر غوروخوض شروع کردیاگیا ہے تاکہ مالی مشکلات کی وجہ سے رشتوں کو ٹوٹنے سے بچایاجاسکے۔

مزیدپڑھیں:تاریخ کا انوکھا ترین مقدمہ ،قیدی کو جیل ہوٹل کی طرح استعمال کرنے کی اجازت مل گئی

”عرب نیوز“ کے مطابق اس نئے منصوبے کے تحت بے روزگار افراد کی اعانت کیلئے جاری ”حافظ“ پروگرام کو فیملی اور سوشل اداروں کے ساتھ منسلک کیا جائے گا اور نئے جوڑوں کو مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ ادارے Weam کے چیئرمین ڈاکٹر محمد عبدالقادر کا کہنا تھا کہ نئے جوڑوں کو ہر تین ماہ بعد مالی مدد فراہم کرنے کیلئے ایک مطالعاتی پروگرام جاری ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”محافظ“ پروگرام کے تحت مراعات حاصل کرنے والی خواتین ایک خاص طرز زندگی کی عادی ہوجاتی ہے جو بعض خاوندوں کیلئے فراہم کرنامشکل ہوجاتاہے اوریہ بات اختلافات اور مسائل کا سبب بنتی ہے۔ ”حافظ“ پروگرام 2011ءمیں متعارف کروایا گیا تھا اور اس کے تحت بے روزگار سعودی شہریوں کو ماہانہ 2000 ریال (تقریباً 53000 پاکستانی روپے) کی رقم ایک سال کے عرصہ تک دی جاتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس