تاریخ کاپرُ اسرار ترین وقت جب شہری ناچنے کی بیماری میں مبتلا ہو گئےاور یہ'خونی رقص'کئی معصوم جانیں نگل گیا

تاریخ کاپرُ اسرار ترین وقت جب شہری ناچنے کی بیماری میں مبتلا ہو گئےاور ...
تاریخ کاپرُ اسرار ترین وقت جب شہری ناچنے کی بیماری میں مبتلا ہو گئےاور یہ'خونی رقص'کئی معصوم جانیں نگل گیا

  

پیرس (نیوز ڈیسک) دنیا میں طاعون کی وبا متعدد دفعہ حملہ آور ہوچکی ہے لیکن16ویں صدی کے آغاز میں فرانسیسی علاقے السیس میں رقاص طاعون کا حملہ اپنی نوعیت کی واحد مثال ہے۔

اس طاعون کا آغاز 1518ءمیں سٹراسبرگ شہر میں اس وقت ہوا جب فراﺅ تروفیا نامی خاتون اچانک وحشیانہ رقص کرتی ہوئی بازار میں نکل آئی۔ اس خاتون پر رقص کا ایسا دورہ پڑا کہ تقریباً ایک ہفتے تک یہ اسی حالت میں رہی۔ اسی ہفتے کے دوران 34 مزید افراد پر بھی رقص کا دورہ پڑگیا جبکہ ایک ماہ کے دوران شہر کی گلیوں میں سینکڑوں لوگ بے قابو رقص کرتے پھرتے تھے۔ یہ افراد مسلسل رقص کی وجہ سے فالج، دماغ کی خرابی اور ہارٹ اٹیک جیسے مسائل کا شکار ہوکرمررہے تھے۔

مزیدپڑھیں:لباس مختصر ترین لیکن قیمت کروڑوں میں کیونکہ۔۔۔

شہر کے ستارہ شناسوں میں بتایا کہ مافوق الفطرت قوتیں لوگوں کو رقص کی بیماری میں مبتلا کررہی تھیں اور انہوں نے یہ علاج تجویز کیا کہ ان لوگوں کو زیادہ سے زیادہ رقص کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ شہر کی انتظامیہ نے علاج بالرقص کو مزید کارگر بنانے کے لئے سازندوں کا بندوبست بھی کیا لیکن سب بے سود رہا اور سینکڑوں لوگ رقص کرتے کرتے موت کے منہ میں چلے گئے۔ آج کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ انوکھی بیماری دراصل طاعون کی ایک شکل تھی لیکن اس وقت کے فرانس میں اس کے بارے میں درست معلومات موجود نہ تھیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس