یمن بحران، پاکستان کو جو موقع ملا ہے اسے گنوانا نہیں چاہیے 

یمن بحران، پاکستان کو جو موقع ملا ہے اسے گنوانا نہیں چاہیے 
تجزیہ :سعید چودھری 
یمن بحران کے حوالے سے پارلیمنٹ کا مشترکہ مشاورتی اجلاس جاری ہے جس میں اس معاملہ کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان سے جس عسکری امداد کا مطالبہ کیا ہے کیا اسے من و عن تسلیم کرلیا جائے ؟ پارلیمنٹ کے اجلاس سے گزشتہ روز وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی خطاب کیا اور پارلیمنٹیرنزکی طرف سے اٹھائے جانے والے بعض نکات کا جواب بھی دیا ۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی عسکری مدد کے حوالے سے وزیر دفاع نے ایوان کے اندر جو وضاحت کردی ہے اس سے زیادہ وضاحت مناسب نہیں ہے ۔بند کمرے میں کل جماعتی کانفرنس کے دوران باہمی مشاورت میں تو بہت سی ایسی باتیں بھی ہوجاتی ہیں جنہیں سرعام بیان نہیں کیا جاسکتا ۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مینڈیٹ کی تلاش میں نہیں ہے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ ہماری راہنمائی کرے ۔
سعودی عرب کو پاکستان کی تینوں مسلح افواج کی مدد درکار ہے ۔یمن کی صورتحال سے پاکستان کو ایک ایسا موقع میسر آیا ہے جس کی بناءپر وہ اسلامی دنیا با الخصوص مشرق وسطیٰ میں ایک بڑا اور باعزت مقام حاصل کرسکتاہے ۔پاکستان اپنی عسکری قوت کی بناءپر اسلامی دنیا کی قیادت کرنے والے ممالک کی پہلی صف میں بھی جگہ حاصل کرسکتا ہے ۔وہ اپنے ممکنہ باعزت مقام کی وجہ سے اقتصادی اور معاشی فوائد حاصل کرنے کی پوزیشن میں بھی ہوگا ۔پاکستانی کوششوں سے ترکی بھی یمن بحران کے حل کے لئے سرگرم ہوگیا ہے ۔ترکی صدر نے ایران کے دورہ میں جو سفارتی کامیابی حاصل کی ہے اس کے نتیجہ میں جنگ بندی کی باتیں ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔آج 8اپریل کو ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ دورہ بھی یمن بحران کے حل کے لئے مثبت پیش رفت کاحامل ہوگا ۔یہاں تک پارلیمنٹ میں بحث کا تعلق ہے ،وزیر اعظم کی یہ بات آئینی طور پر درست ہے کہ حکومت کو سعودی عرب بھیجنے کے حوالے سے پارلیمنٹ کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔عوام حکومت کو منتخب کرکے اسے تمام داخلی اور خارجی امور کے بارے میں فیصلے کرنے کا مینڈیٹ دے چکے ہیں ۔پاکستان کا آئین دیگر ممالک سے تعلقات یا معاہدات کی پارلیمنٹ سے توثیق کا متقاضی نہیں ہے ۔حکومت اس سلسلے میں جو بھی اقدام کرتی ہے اسے مفاد عامہ کے حق میں اور پارلیمنٹ سے منظور شدہ تصور کیا جاتا ہے ۔اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لانے کے حوالے سے وزیر اعظم نے خود ہی وضاحت کردی ہے کہ اس کا مقصد راہنمائی حاصل کرنا ہے ۔انہوں نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرہ ہوا تو ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ میڈیاکے ایک حصہ نے یمن بحران کو پہلے تو مسالک یعنی شعیہ سنی جنگ سے تعبیر کیا اور پھر اسے عرب و عجم کی جنگ بنا دیا ۔میڈیا کے تجزیاتی پروگراموں میں خارجہ اور دفاعی امور کے ماہرین کی بجائے مختلف مسالک کے علماءکو مدعو کرکے ان سے رائے لی گئی ۔اس سلسلے میں تاریخی حقائق کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ۔یہ نہیں بتایا گیا کہ حوثی قبائل ایران کی بجائے عربوں کے زیادہ قریب رہے ہیں کیوں کہ وہ خود عرب ہیں ۔علاوہ ازیں وہ مسلک کے حوالے سے بھی ایرانی عوام کے ہم خیال نہیں ہیں اگرچہ وہ حضرت زید بن زین العابدین کے پیروکار کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں تاہم وہ بہت سے معاملات میں ایسی پابندیوں سے آزاد ہیں جو تاریخ سے ہوتی ہوئی ایرانیوں کے نقطہ نظر سے ان کے مذہبی مسلک کا حصہ بن چکی ہیں ۔حوثی طویل عرصہ تک سعودی عرب کے حلیف رہ چکے ہیں ۔یمن میں برسرپیکار فریقین نے ابھی تک اس جنگ کو مذہب یا عرب و عجم کی جنگ قرار نہیں دیا ۔حوثی اپنے ان حقوق کی بات کررہے ہیں جو ایک معاہدہ کے تحت سعودی حکومت کے حمایت یافتہ یمن کے حکمران نے انہیں تفویض کئے تھے ۔
بعض دانشور مختلف چیلنز پر بیٹھ کر کہہ رہے ہیں کہ یمن ایک چھوٹا یا غریب سا ملک ہے اس سے سعودی عرب کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے ۔اس تناظر میں ہم افغانستان کو بھی ایک چھوٹا سا غریب سا ملک کہہ سکتے ہیں لیکن وہاں بھارت کا اثر ورسوخ ہمیں کسی طور بھی منظور نہیں ہے کہ تاریخی اعتبار سے بھارت کے ہاتھوں ہمارا کبھی بھلا نہیں ہوا ۔سعودی عرب یمن میں ایک ایسے ملک کا اثر ورسوخ کیسے برداشت کرلے جو گزشتہ 15سال سے اس کے خلاف ہر فورم پر مخالف بن کر کھڑا ہوجاتا ہے جس کی دیواروں پر مرگ آل سعود کے نعرے تحریر ہیں ۔سعودی عرب افغان مسئلہ پر ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے ۔پاکستان نے بھی ماضی میں ہر موقع پر سعودی عرب کو ممکنہ عسکری امداد فراہم کی ہے ۔سعودی عرب کی مدد کے لئے فوج بھیجنے کا یہ پہلا موقع نہیں ہوگا ۔1970ءکی دہائی کے آخر میں مسجد الحرام پرقبضہ کرکے جھوٹے امام مہدی کی بیت کا تقاضہ کرنے والے گروہ سے نمٹنے کا معاملہ ہو ، پہلی گلف وارہویا1969ءمیں سعودی عرب اورجنوبی یمن کی جنگ ہو،پاکستانی افواج نے ہمیشہ سعودی عرب کی عملی طور پر مدد کی ۔سعودی عرب سے ہماری دوستی نواز شریف یا شریف خاندان کی وجہ سے نہیں ہے ۔سعودی عرب کا حکمران خاندان سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا بھی قریبی دوست تھا ۔شاہ فیصل شہید اور ذوالفقار علی بھٹو کی اسلامی بلاک کے قیام کے لئے کوششیں آج بھی تاریخ کے طلباءکوازبر ہیں ۔1974ءمیںبھارت کی طرف سے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کی طرف سے شروع کئے جانے والے ایٹمی پروگرام کی تکمیل کے لئے جس وقت سعودی عرب نے خفیہ مالی امداد کا آغاز کیا اس وقت میاں نواز شریف نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو ہی پاکستان کے وزیر اعظم تھے ۔اس سلسلے میں مغربی میڈیا کی طرف سے "اسلامی بم"بنائے جانے کا واویلا کیا گیا ۔ہم اس کی تردید کرتے آئے ہیں ۔اگر بی بی سی سمیت مغربی میڈیا کی خبروں کو درست مان لیا جائے تو پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں سب سے بڑی سرمایہ کاری سعودی عرب کی طرف سے کی گئی ۔یہ بات خارج از امکان نہیں کہ اس حوالے سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باقاعدہ تزویراتی مفاہمت(سٹریٹیجک انڈرسٹینڈنگ )موجود ہو ۔ایسی صورت حال پاکستان اپنے ایک سٹریٹیجک پارٹنر کی مدد سے کیوںکر انکار کرسکتا ہے ۔پاکستان سفارتی کوششوں کے علاوہ یمن جنگ میں شریک ہوئے بغیر بھی اپنی عسکری قوت کی دھاک بٹھا سکتا ہے ۔وہ اپنی فوجی قوت کو سفارتی کوششوں کی کامیابی کے لئے ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کرے تو اسے قابل اعتراض اقدام نہیں گردانا جانا چاہیے ۔پاکستان کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ یمن بحران کے حل کے لئے بھرپور اور مضبوط کردار ادا کرے ۔

مزید : تجزیہ