نئے قبرستانوں کی ضرورت اور تجویز!

نئے قبرستانوں کی ضرورت اور تجویز!

دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں، ان میں بعدازمرگ آخری رسومات مختلف ہیں، یہودی، عیسائی اور مسلمان تدفین کرتے ہیں جبکہ ہندو، بدھ اور بعض لامذہب مردہ جلاتے ہیں، اب تو بعض عیسائی بھی وصیت کرکے جلنے کے عمل میں شریک ہو جاتے ہیں، ایک اطلاع کے مطابق ہندوؤں کے لئے تو شمشان گھاٹ بنے ہوئے ہیں جبکہ دوسرے کسی نظریے والا ایٹمی بھٹی کا انتخاب کر لیتا ہے۔ بہرحال طریقہ مختلف ہوتو مقصد جلانا ہوتا ہے۔ عیسائی اپنے قبرستانوں کی بہتر حفاظت کرتے ہیں،چار دیواری اور قبروں کی ترتیب ہوتی ہے۔ ایسا ہی کچھ یہودی بھی کرتے ہیں۔یہ سب یوں یاد آیا کہ پاکستان میں قبرستان اور ان کے لئے زمین کم پڑ گئی ہے۔ اول تو فوجی قبرستانوں کے سوا کہیں کہیں بلکہ خال خال کوئی قبرستان ترتیب والا نظرآتا ہے جبکہ عام قبرستانوں میں کوئی لحاظ نہیں اور کجھ عرصہ بعد جب لواحقین مرنے والوں کو بھول کر گورکن کی مٹھی گرم کرنے نہیں آتے تو پہلے قبر کا نشان مٹ جاتا ہے اس کے بعد وہاں کسی اور کی تدفین بھی ہو جاتی ہے، اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ ایک ایک قبر سے ستر ستر مردے اٹھیں گے۔ہماری ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم زندہ ہیں تو ہمیں مرنا یاد نہیں، تبھی تو قبرستانوں کی زمینوں پر بھی قبضے ہوئے، لاہور کا قبرستان میانی صاحب اس کی مثال ہے جس کی اراضی پر مکانات بن گئے ہیں، اب تو حالت یہ ہے کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیاں متعارف کراتے وقت قبرستان کے لئے جگہ کی نشان دہی کی جاتی ہے لیکن بعدازاں یہ زمین بھی پلاٹ بنا کر بیچ دی جاتی ہے اور اب لاہور میں مردوں کی تدفین بہت بڑا مسئلہ ہے۔

حکومت پنجاب نے شہر سے باہر فیروز پور روڈ کے کنارے بہت بڑی اراضی حاصل کی جہاں جدید قبرستان بنانا تھا اور اسکی تشہیر بھی کی گئی لیکن رسمی اعلان کے بعد اب تک مزید کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اب ہمارے سٹاف رپورٹر کی خبرہے کہ حکومت نے شہر کے چاروں کونوں پر چار مختلف قبرستان بنانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لئے محکمہ جنگلات، اوقاف، ایل ڈی اے اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سے اراضی مانگی گئی ہے۔ شہر کے باہر یہ چار قبرستان پانچ پانچ سو کنال پر مشتمل ہوں گے۔ جہاں کفن دفن سے نماز تک تمام لوازمات موجود ہوں گے۔ یہ منصوبہ اس پہلے والے سے الگ ہے، اس سلسلے میں اگر تہران (ایران) کے قبرستان ’’بہشت زہرہ‘‘ ملاحظہ کر لیاجائے تو مفید ہوگا جس کا رقبہ بھی بہت زیادہ ہے قبروں کی ترتیب اور قبرستان میں الگ الگ بلاک اور سڑکیں تک تعمیر کی گئی ہیں، وہاں ہر نوع کا انتظام ہے، وفات پانے والے کو براہ راست وہاں لایا جاتا ہے جہاں غسل اور کفن کے بعد نماز بھی ادا کی جاتی ہے اور لوگ براہ راست وہاں پہنچتے ہیں۔خبر کے مطابق منصوبے کی نوک پلک کے لئے اجلاس ہو رہے ہیں، ہماری درخواست ہے کہ اس کام کو جلد مکمل کیا جائے اور موجودہ قبرستان سے تجاوزات ختم کراکے ان کی حالت بھی بہتر بنائی جائے کہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ توقع ہے کہ پہلے منصوبے کے ساتھ یہ چاروں کونوں کے قبرستانوں والا منصوبہ یا تجویز جلد ہی عملی شکل اختیار کرکے سامنے ہوگی۔

مزید : اداریہ


loading...