پاناما لیکس پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان

پاناما لیکس پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان

وزیراعظم نوازشریف نے پانامہ لیکس کے حوالے سے اپنے خاندان کے افراد پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کچھ لوگ سیاسی مقاصد کے لئے انہیں اور ان کے خاندان کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ ہم نے وہ قرض بھی اتارے ہیں جو ہم پر واجب بھی نہیں تھے۔ میں الزامات کی تازہ لہر کے مقاصد خوب سمجھتا ہوں لیکن اپنی توانائیاں اس کی نذر نہیں کرنا چاہتا۔ حکومت کے اندر یا حکومت سے باہر رہتے ہوئے میں نے یا میرے خاندان کے کسی فرد نے رَتی بھر خیانت نہیں کی اور کبھی اقتدار کو کاروبار سے منسلک نہیں کیا، عدالتی کمیشن تحقیقات کے بعد فیصلہ دے گا کہ اصل حقیقت کیا ہے اور الزامات میں کتنا وزن ہے، گھسے پٹے الزامات دوہرانے اور روز تماشا لگانے والوں سے کہتا ہوں کہ وہ اس کمیشن کے سامنے جائیں اور اپنے الزامات ثابت کریں۔

وزیراعظم کی تقریر کے فوراً بعد پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے جوڈیشل کمیشن کو مسترد کر دیا تاہم متحدہ قومی موومنٹ نے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے، یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ کمیشن حاضر سروس جج پر مشتمل ہونا چاہیے اور اس کی نامزدگی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کریں۔ یہ تجویز معقول ہے اور کمیشن کی تشکیل سے پہلے وزیراعظم کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے اور انہیں اس امر پر قائل کیا جا سکتا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ کو زیادہ معتبر بنانے کے لئے اگر کسی حاضر سروس جج کا تقرر کر دیا جائے تو مناسب رہے گا۔ پانامہ لیکس میں تقریباً دو سو پاکستانیوں کے نام آئے ہیں جنہوں نے آف شور کمپنیاں قائم کر رکھی ہیں،ان کے بارے میں تحقیقات کے حوالے سے وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کچھ نہیں کہا۔ گویا باقی اُن پاکستانیوں سے فی الحال تعرض کرنے کا کوئی پروگرام سامنے نہیں آیا جن کے نام لیکس میں شامل ہیں۔ دنیا بھر میں متعلقہ اداروں نے اپنے اپنے قوانین کے مطابق ان معلومات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے جو فراہم کی گئی ہیں آئس لینڈ کے وزیراعظم کی کمپنی کا نام بھی سامنے آیا تھاجن پر ان کے ملک میں عوامی دباؤ اتنا بڑھا دیا گیا کہ وہ مستعفی ہو گئے، البتہ اس فہرست میں جن دوسرے بادشاہوں، صدور اور وزرائے اعظم کے نام آئے ہیں، انہوں نے اس حوالے سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے۔

پاناما لیکس کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ان میں صرف یہ معلومات ملتی ہیں کہ فلاں فلاں شخص نے آف شور کمپنی (یا کمپنیاں) بنائی ہوئی ہیں اور ان کمپنیوں کی مالیت کتنی ہے، یہ لیکس اس بارے میں بالکل خاموش ہیں کہ دنیا کے جن حکمرانوں یا سرمایہ کاروں نے یہ کمپنیاں قائم کیں ان کی یہ دولت جائز تھی یا ناجائز۔ اس پر پورا ٹیکس دیا گیا تھا یا کم دیا گیا تھا یا سرے سے دیا ہی نہیں گیا تھا۔ پاناما لیکس کی معلومات میں جہاں جہاں خلا ہیں وہ ہر کسی نے اپنی اپنی سہولت کے مطابق خود ہی پُر کر لئے ہیں یہ بھی فرض کر لیا گیا ہے کہ جو لوگ بھی آف شور کمپنیاں بناتے ہیں وہ لازماً ناجائز دولت اور کالے دھن ہی سے بناتے ہیں، لیکن یہ الزامات لیکس کے اندر نہ کسی پر لگائے گئے ہیں اور نہ اس موضوع پر کوئی تبصرہ کیا گیا ہے، البتہ جو فرم لوگوں کو ایسی کمپنیاں بنانے میں قانونی معاونت فراہم کرتی ہے یہ معلومات بھی اسی کے تعاون سے افشاء ہوئی ہیں اس لئے یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اس افشاء کا مقصد کیا تھا اور کیا یہ قانونی فرم اس ضمن میں اپنے کلائنٹس کے اعتماد کو مجروح کرنے کی مرتکب تو نہیں ہوئی؟

امریکی صدر اوباما نے پاناما لیکس کو ایک اور پہلو سے دیکھا ہے اور کانگریس سے کہا ہے کہ وہ ایسی قانون سازی کرے جس کے ذریعے امریکیوں کو آف شور کمپنیاں بنانے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے ٹیکس چوری کو ایک عالمی مسئلہ قرار دیا۔ امریکی صدر کی اس ہدایت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس وقت امریکہ میں کوئی ایسا قانون نہیں جس کے ذریعے حکومت اپنے شہریوں کو آف شور کمپنیاں بنانے سے روک سکے، صرف امریکہ ہی کیا دنیا میں شائد ہی کوئی ملک ایسا ہو جہاں کوئی ایسا قانون موجود ہو، یہ عین ممکن ہے کہ اگر سرمایہ کار ٹیکس بچانے کے لئے اسی طرح آف شور کمپنیاں بناتے رہے تو دنیا کے دوسرے ممالک بھی شائد اس قسم کی قانون سازی کی ضرورت محسوس کریں، لیکن جب تک یہ نیا قانون نہیں بن جاتا اور معلوم نہیں یہ کب بنے گا، اس وقت تک تو معاملات کو موجودہ قوانین کے تابع ہی چلانا پڑے گا۔

وزیراعظم نوازشریف نے جس کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا ہے جب تک وہ بن نہیں جاتا اور باقاعدہ طور پر کام شروع نہیں کر دیتا اس وقت تک یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ اپنی حدود کار خود متعین کرے گا یا حکومت طے کرے گی۔ کمیشن کن کن امور کا جائزہ لے گا؟ کیا وہ اپنی تحقیقات وزیراعظم کے صاحبزادوں کی کمپنیوں تک محدود رکھے گا یا اس کا دائرہ وسیع کرے گا۔ حسین نواز اور حسن نواز کی کمپنیوں کے بارے میں بھی معلوم کرنے والی بنیادی بات یہ ہوگی کہ جس سرمائے سے یہ کمپنیاں قائم ہوئیں وہ انہوں نے کہاں سے حاصل کیا؟ کیا انہوں نے پاکستان سے یہ سرمایہ منتقل کیا یا پھر ملک سے باہر سے بندوبست کیا، وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بتایا کہ ان کے ایک صاحبزادے برطانیہ میں اور دوسرے سعودی عرب میں کاروبار کرتے ہیں اور ان پر ان ملکوں کے کاروباری قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر یہ بات سامنے آتی ہے کہ انہوں نے سرمایہ پاکستان سے قانونی طور پر باہر منتقل کیا تو سٹیٹ بینک کے قوانین کے مطابق جو سرمایہ باہر جاتا ہے وہ کوئی غیر قانونی کام نہیں۔ لیکن اگر سرمائے کا انتظام ملک سے باہر ہی ہوا اور وہیں سے منتقل ہو گیا تو پاکستانی قوانین کا اطلاق سرے سے اس معاملے پر نہیں ہوگا یہ تمام امور اس وقت سامنے آئیں گے جب کمیشن کے دائرہ اختیار اور ٹرمز آف ریفرنس کا اعلان ہوگا۔

وزیراعظم کے صاحبزادوں کے کاروبار کا جائزہ تو لے لیا جائے گا لیکن کیا ان 200افراد سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی، جن کے نام پاناما لیکس میں آئے ہیں ان میں بعض نامور اور کاروباری شخصیتیں ہیں، ان کی بھی اسی طرح آف شور کمپنیاں ہیں جس طرح دوسروں کی ہیں اس لئے ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ان سب معاملات کی تحقیقات کا بھی کوئی طریقِ کار وضع کیا جائے۔ اپوزیشن جماعتوں کو جوڈیشل کمیشن کا اعلان منظور نہیں تو انہیں کوئی متبادل طریقِ کار سامنے لانا چاہیے جس کے ذریعے یہ معلوم ہو سکے کہ آف شور کمپنیوں کا سرمایہ کہاں سے آیا۔ لیکن اس وقت سارا نزلہ وزیراعظم کے صاحبزادوں پر گرایاجا رہا ہے بصورت دیگر اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی خواتین و حضرات جو کچھ بھی کرتے رہیں اس کی انہیں کھلی چھٹی ہے، اگر ویسا ہی کام وزیراعظم کے صاحبزادے کریں تو ان کے حوالے سے وزیراعظم کو ہدف بنایا جائے گا۔ یہ طرزِ عمل تو مثبت نہیں ہے ملکی قوانین کا اطلاق ہر کسی پر یکساں ہونا چاہیے۔

مزید : اداریہ


loading...