کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کی حاصل محبت ۔۔ حقیقت سے قریب تر

کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کی حاصل محبت ۔۔ حقیقت سے قریب تر
کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کی حاصل محبت ۔۔ حقیقت سے قریب تر

  


کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کے ساتھ کئی سال پرانی شناسائی ہے۔ کئی سال پہلے جب وہ ایس پی تھے انصاف کی تلاش میں بھٹکتا ان کے پاس پہنچا تھا۔ بہت مشکل میں تھا۔ انصاف کا حصول ممکن نظر نہیں آرہا تھا۔ لیکن انہوں نے بغیر شناسائی و سفارش انصاف دے دیا۔میں بھی مطلبی ہوں۔ انصاف لیا اوررفو چکر ہو گیا۔ اور پھر کئی سال دوبارہ رابطہ نہ رہا۔ چند دن پہلے کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کی کتاب حاصل محبت ملی۔ کتاب پڑھ کر اندازہ ہوا کہ مجھے یہ کتاب بہت دیر سے ملی ہے۔ اہل دانش و قلم اس کتاب پر تفصیل سے اظہار خیال کر چکے ہیں جو اب اس کتاب کے ساتھ شامل ہیں۔

کتاب کے ابتدائی باب پڑھ کر مجھے کچھ ایسا لگا کہ یہ کتاب کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کی آب بیتی۔ گورنمنٹ کالج کے ایک ناکام عشق کی داستان۔ وہی روایتی کہانی لڑکی نے دھوکہ دے دیا۔لڑکا غریب اور اس کی غربت عشق کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ۔ لڑکی نے بھی ایک بہتر مستقبل کو عشق پر ترجیح دی۔ کتاب کے ابتدائی باب پڑھنے کے بعد میں نے کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کو ملنے کا فیصلہ کیا۔ ملتے ہی میں نے کہا کہ آپ نے پہلے عشق کی نا کامی کو کافی دل پر لگا لیا۔ لگتا ہے پہلا عشق ابھی تک دل سے نہیں نکلا۔ چوٹ کافی گہری ہے۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے یہ میری آپ بیتی نہیں ہے۔ میں تو گورنمنٹ کالج میں گریجوایشن تک پڑھا ہوں ۔ اور گریجو ا یشن تک مخلوط تعلیم نہیں ہے۔ میں نے کہا لکھا تو ایسے ہی ہے جیسے آپ کی اپنی آ ب بیتی ہے۔

کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کا کہنا تھا کہ ایسے لکھنے کا کیا فائدہ جو حقیقت کے قریب نہ ہو۔ آپ لکھیں کہ وہ سر پر مٹکا لئے آرہی تھی تو پڑھنے والو ں کوپتہ لگ جا تا ہے کہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ میرے خیال میں ایسی بات لکھنی چاہئے جو حقیقت کے قریب ہو۔ پڑھنے والا اس کو اپنی داستان یا اپنے ارد گردکی داستان سمجھے۔ اگر ایسا نہیں تو لکھنا فضول ہے۔ لکھنے کے بارے میں کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کا یہ فلسفہ جاندار ہے۔ ورنہ ہم اکثر آئیدیل کی تلاش میں ایسی انوکھی باتیں لکھتے ہیں ۔ جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔اسی لئے کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے اپنے ابتدائیہ میں ہی لکھا ہے کہ " میری سوچ فکر اور الفاظ کچھ بھی نہ اہل ادب کے لئے ہیں اور نہ ہی اہل ذوق اور ارباب علم و دانش کے لئے ہیں۔ یہ تو ان لوگوں کے لئے ہیں جو نوری تو دور کی بات خاکی بھی نہیں۔

ملاقات کے بعد میں نے کتاب پڑھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ کتاب کا سب سے خوبصورت باب مجھے ڈر لگتا ہے۔ یہ باب پڑھ کر اندازہ ہوا کہ لیاقت علی ملک کی یہ بات مکمل درست نہیں کہ یہ کتاب ان کی آب بیتی نہیں ہے۔ مجھے ڈر لگتا ہے میں وہ لکھتے ہیں

تو مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ جب لوگ میرے دفتر میں۔ میری وردی کے ڈر سے میرے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور جب میں ان کو کہتا ہوں۔۔ تشریف رکھیں۔۔ تو وہ زمین پر بیٹھ جاتے ہیں۔

تو مجھے ڈر لگتا ہے۔۔۔ جب میرے بہن بھائی بہن۔ اور ماں باپ مجھے ڈانٹتے نہیں۔ اور میری ناراضگی کے ڈر، پریشانی اور خوف سے مجھ سے سوچ کر بات کرتے ہیں۔ ایسی زندگی جس میں میری ماں اور باپ کو مجھ سے بات کرنے سے پہلے سوچنا پڑے ۔۔ مجھے ایسے زندگی سے ڈر لگتا ہے۔

محبت کے بارے میں لیاقت علی ملک کا فلسفہ بھی قابل غور اور حقیقت کے قریب تر ہے۔ وہ لکھتے ہیں

محبت کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ وقت کے ساتھ کم اور زیادہ ضرور ہوتی رہتی ہے۔ مگر اس کو کبھی موت نہیں آتی ۔ بلکہ یہ محبت کرنے والے کو دوام اور نروان عطا کرتی ہے۔

حیران کن بات تو یہ ہے کہ کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک جتنی خوبصورت نثر لکھتے ہیں۔ وہ شاعر بھی اتنے ہی خوبصورت ہیں۔ زندگی کے بارے میں اپنی ایک نظم میں انہوں نے کیا خوب کہا ہے ۔

زندگی کے پرچے کے

سب سوال الٹے تھے

سیاہ اس کے ورقے تھے

سب حروف ترچھے تھے

ہم نے جو گزاری تھی

رات وہ انوکھی

زندگی اکیلی تھی

تم نے بھی تو دیکھی تھی

ہاتھ میں زنجیریں اور

زبانوں پر جو تالے تھے

آزادیوں کے موسم میں

زندگی مقید تھی

کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کو اپنے قلم اور سوچ پر مکمل کنٹرول ہے۔ وہ کہیں بھی بے ربط نہیں ۔ انہیں علم ہے وہ کیا بات کہہ رہے ہیں۔ انہیں کتنی بات کہنی ہے۔ وہ ضمیر کی آواز کو بھی جانتے ہیں۔ دل کی آواز کو بھی جانتے ہیں۔ دماغ کی آواز کو بھی جانتے ہیں۔ لیکن لکھتے وقت کوشش کرتے ہیں کہ ا ن تمام آوازوں کا اتفاق رائے پیدا کر لیں۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ لیکن یہی ان کی تحریروں کا حسن ہے۔ ان کی اگلی کتاب اب آخری مراحل میں ہے۔ امید ہے وہ بھی حسب حال ہی ہو گی۔

مزید : کالم


loading...