پانامہ پیپرز کے انکشافات ،آف شور کمپنیوں کا بنیادی مقصد ٹیکس بچانا تھا

پانامہ پیپرز کے انکشافات ،آف شور کمپنیوں کا بنیادی مقصد ٹیکس بچانا تھا

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) پانامہ کی جن ’’آف شور کمپنیوں‘‘ کا تازہ دستاویزات میں جو انکشاف ہوا ہے ان کے بارے میں ایک بات یکساں اور طے شدہ ہے کہ ان میں لگے ہوئے سرمائے کو ہر قسم کے ٹیکس سے بچانا ہے۔ اگر آپ ان کمپنیوں کو ’’الاؤنس‘‘ دینا چاہتے ہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ممکن ہے یہ سرمایہ جائز طریقے سے کمایا گیا ہو، ممکن ہے ایسے جائز اور قانونی طریقے سے بنکوں کے ذریعے یہاں منتقل کیا گیا ہو۔ اگر آپ یہ الاؤنس دینا بھی چاہیں تو ٹیکس سے بچنے کے مقصد کی تردید کرنا مشکل ہے۔ جو سرمایہ بغیر کسی اعلان کے کسی خفیہ جگہ پر رکھا گیا ہو تو وہ پہلے مرحلے میں ہی مشکوک قرار دیا جائے گا۔ اگر معاملہ مشکوک نہ ہوتا تو آئس لینڈ کا وزیراعظم نام سامنے آنے پر استعفیٰ کیوں دیتا اور معاملہ اتنا گھمبیر نہ ہوتا تو پاکستان کے وزیراعظم ہنگامی طور پر قوم سے خطاب کیوں کرتے۔ یہ معاملہ اتنا سنگین تھا کہ صدر اوباما نے وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ کی بریفنگ شروع ہونے سے پہلے وہاں پہنچ کر میڈیا کو امریکی حوالے سے ’’پانامہ پیپرز‘‘ کے حوالے سے حقائق بتائے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پانامہ کی ان کمپنیوں کے پیچھے جو بڑے بڑے سرمایہ کار ہیں، ان کے پاس قانونی ماہرین کی ٹیمیں ہیں جو بھاری فیسوں کے عوض قانون میں موجود سوراخوں سے فائدہ اٹھا کر ٹیکس بچاتے ہیں۔ صدر اوباما نے انتظامیہ کے مالیاتی حکام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ مالیاتی ٹیکسوں کے نظام کا اس طرح ازسرنو جائزہ لیں کہ اس میں موجود سقم دور ہو جائیں گے۔ صدر اوباما کا کہنا تھا کہ متوسط طبقہ پورا ٹیکس ادا کرتا ہے جبکہ اعلیٰ سطح کے سرمایہ کار مختلف حربوں سے اپنا ٹیکس بچا لیتے ہیں جن میں پانامہ کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ ٹیکسوں کے بارے میں پاکستان کے معروف ماہر ڈاکٹر اکرام الحق ہمیشہ سے اس موقف کے حمایتی تھے کہ پاکستان کے سرمایہ داروں اور سیاست دانوں کے اثاثے ظاہر کرنے کے نظام میں بہت سے خلاء ہیں جسے درست کرکے انہیں صحیح طریقے سے اثاثے ظاہر کرنے کا پابند بنانا چاہئے۔ ’’پانامہ پیپرز‘‘ کے انکشافات کے بعد انہوں نے واضح کیا ہے کہ اثاثے ظاہر کرنے کا نظام درست ہوتا تو پانامہ کے اثاثے خفیہ نہیں رکھے جاسکتے تھے۔اس ساری ہلچل کا آغاز اتوار کے روز ہوا جب تحقیقاتی صحافت کی دو بین الاقوامی تنظیموں نے پانامہ کی ایک لاء فرم ’’موسیک فان سیکا‘‘ (Mossack Fonseca) کی گزشتہ چار عشروں کی ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد دستاویزات لیک کر دیں۔ اس فرم کا دھندہ یہ ہے کہ اس نے بحر ہند میں مشرقی افریقہ کے مشرق میں واقع ’’سے شیلز‘‘ (Seychelles) کے جزائر میں ایک ’’ٹیکسوں کی جنت‘‘ قائم کر رکھی ہے جہاں مختلف سرمایہ کار اپنے اصل یا فرضی ناموں سے خفیہ مالی اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں جنہیں وہ ٹیکس سے بچا سکتے ہیں۔ چونکہ یہ فرم پانامہ کی ہے اس لئے اس کی دستاویزات کو ’’پانامہ پیپرز‘‘ کہا گیا لیکن یہ سرمایہ کاری پانامہ میں نہیں ہوئی۔ پانامہ کی لاء فرم نے یہ مالیاتی سکینڈل سامنے آنے کے بعد سوموار کو ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کا دھندہ قانونی ہے۔ اس فرم کا ایسا دعویٰ اس حد تک درست ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی فیس وصول کرکے ان کمپنیوں کو اس جزیرے میں اکاؤنٹ کھولنے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم اپنے بیان میں ا س نے یہ نہیں واضح کیا کہ اصلی یا جعلی ناموں سے کھولے جانے والے یہ اکاؤنٹس بنیادی طور پر ٹیکس بچاتے ہیں۔یہ لاء فرم ذمہ دار نہیں ہے کہ اس کے کلائنٹ کا سرمایہ جائز کمائی ہے یا کرپشن کا مال ہے۔ وہ جائز طریقے سے بنکوں کے ٹرانسفر کے ذریعے آیا ہے (جس کا کوئی امکان نہیں ہے) یا پھر منی لانڈرنگ کے ذریعے آیا ہے، ہر اکاؤنٹ ہولڈر کو الگ الگ ثبوت فراہم کرنا پڑے گا کہ وہ یہ سرمایہ کن ذرائع سے حاصل ہوا اور کس طریقے سے یہاں پہنچا۔ یہ کسی کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کا بنیادی مقصد ٹیکس بچانا تھا۔ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن اگر یہ سرمایہ ان انکشافات سے پہلے ظاہر نہیں کیا گیا تو قابل اعتراض، غیر قانونی اور غیر اخلاقی تو اسی وقت ہوگیا۔ مزید تفتیش کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...