انٹرفیرون انجکشن کی فروخت کیلئے درخواستوں کی سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

انٹرفیرون انجکشن کی فروخت کیلئے درخواستوں کی سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس خالد محمود خان نے ہیپاٹائٹس کے سستے علاج کے لئے انٹرفیرون انجکشن کی مقامی سطح پر تیاری اور فروخت کی اجازت کے لئے دائر درخواستوں کی سماعت مکمل کرلی تاہم اپنا فیصلہ محفوظ رکھا۔فاضل عدالت نے 13 مختلف درخواستوں پر سماعت کی۔ وفاق و صوبائی حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ اس انجکشن کی کوائلٹی ٹھیک نہیں اورمتعلقہ اداروں سے تصدیق شدہ بھی نہیں جبکہ مارکیٹ میں بیرون ملک سے درآمد کئے گئے سستے انجکشن دستیاب ہیں ۔اس لئے اس انجکشن پر سرمایہ نہیں لگایا جاسکتا ،عدالت درخواستیں خارج کردے۔درخواستوں گزاروں کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ عالمی ادویات ساز مافیا کی ملی بھگت سے وزارت سائنس اور وزارت صحت کے کرپٹ افسران نے اس انجکشن کو رجسٹرڈ نہیں ہونے دیا بلکہ انجکشن کے ٹرائل کو ہی رکوا دیا جس کی وجہ سے 10لاکھ انجکشنز کا میٹریل ضائع ہوگیا، اور انجکشن تیار کرنے والی ٹیم اور سائنسدان ڈاکٹر شیخ ریاض الدین کو مختلف انکوائریوں میں الجھا دیا ،انجکشن کی قیمت صرف 70 روپے ہے ،ٹرائل کے دوران جن ہیپاٹائٹس کے مریضوں پر یہ انجکشن استعمال کیا گیا اس کے بہترین نتائج سامنے آئے ،ٹرائل رکنے سے جب مریضوں کو سستے انجکشن نہ ملے تو انہوں نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا مگرسرکاری افسروں کے تاخیری حربوں کے سبب ابھی تک فیصلہ نہیں کیا جاسکا، ایف آئی اے نے مکمل انکوائری کے بعد ڈاکٹر شیخ ریاض الدین کو بے گناہ قرار دیا ۔2012ء میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سب کمیٹی کی چیئرپرسن یاسمین رحمن ، ایم این اے کی سربراہی میں سب کمیٹی نے تحقیقات کے بعد سستے انٹرفیرون انجکشن کی ملک میں تیاری کو ضروری قرار دیا ۔

انجکشن تیاری

مزید : صفحہ آخر


loading...