آبادی کے لحاظ سے پولیس کی تعیناتی کاکوئی کلیہ نہیں ،مہر اعجاز احمد

آبادی کے لحاظ سے پولیس کی تعیناتی کاکوئی کلیہ نہیں ،مہر اعجاز احمد

لاہور (سپیشل رپورٹر)ڈی ایس پیز کی خالی آسامیوں سمیت پنجاب بھر میں پولیس کی مختلف اسامیوں پر تعیناتی اور پولیس نفری کی ضرورت کے حوالے سے وزارت داخلہ پنجاب کی طرف سے شائع ہونے والی دستاویزات میں پارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ پنجاب مہر اعجاز احمد اچلانا نے انکشاف کیا ہے کہ پولیس آرڈر(ایکٹ)میں آبادی کے لحاظ سے پولیس نفری کی تعیناتی کی تعداد کا تعین کرنے کا کوئی کلیہ نہیں ہے تاہم پولیس رولز1934باب نمبر2کی شق نمبر2کی ضمن نمبر2اور3کے مطابق سوائے اس کے کہ جس شہر کی آبادی30ہزار سے زائد ان کا عموماً پولیس کی کل نفری450کے ایک کانسٹیبل زیادہ نہ ہوگی۔ تاہم تجارتی و کاروباری حجم،میلوں، تہواروں کی اہمیت اور قرب وجوار میں کثرت وقوع جرائم کی عام حالت اور اسی قسم کے امور پر لازماً غور کرنا پڑتا ہے تاہم ضمن نمبر3کے مطابق دیہاتی تھانوں کے لئے جہاں سالانہ75مقدمات درج ہوتے ہوں کے لئے سب انسپکٹر، ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر، ایک ہیڈکانسٹیبل اور بارہ سپاہی ہونا ضروری ہے۔ جبکہ جہاں جرائم ومقدمات کی سالانہ تعداد کم ہو وہاں کانسٹیبلان کی تعداد بارہ سے کم کرکے10تک کی جاسکتی ہے۔ مہر اعجاز اچلانا کے مطابق ایک آئی جی پنجاب،14ایڈیشنل آئی جی پولیس سمیت پنجاب بھر میں سکیل22سے لے کر سکیل 5تک منظور شدہ آسامیو ں کی تعداد ایک لاکھ79ہزار9سو 21ہے۔ جبکہ سال2015میں2417کانسٹیبلان کو میرٹ پر بھرتی کیا گیا۔ غیر ملکیوں کے لئے (ایس پی یو)سپیشلائزڈ پروٹیکشن یونٹ میں چار ہزار نئی اسامیوں کی منظوری دی جس کے تحت بھرتی کا عمل جاری ہے۔ ڈی ایس پی کی منظو رشدہ اسامیاں744جبکہ موجودہ نفری481ہے۔ یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 12جنوری2010میں محکمانہ پروموشن نے108انسپکٹر کو ڈی ایس پیز کے عہدے پر ترقی دی تاہم ترقی کے خلاف حکم امتناعی جاری ہونے کی وجہ سے 2010کے بعد انسپکٹر سے ڈی ایس پی کے عہدے پر ترقی نہ ہوتا ہم 31مارچ2014کو131 انسپکٹرز،(جنرل ایگزیکٹو برانچ) کو قانون کے مطابق ڈی ایس پی کے عہدے پر ترقی دی گئی وہ بھی چیلنج ہوگئے۔ اس وقت صوبہ بھی 2291انسپکٹرز کام کررہے ہیں جن میں679کی سنیارٹی لیٹ جاری کی گئی تاہ1513کی سنیارٹی لیٹ التوا کا شکار ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...