بورڈ آف ریونیو کے شعبہ مال اور شتمال میں 400سے زائد جعلی بھرتیوں کا انکشاف

بورڈ آف ریونیو کے شعبہ مال اور شتمال میں 400سے زائد جعلی بھرتیوں کا انکشاف

لاہور (عامر بٹ ) بورڈآٖف ریونیو کے شعبہ مال اور اشتمال میں جعلی پٹوار سند اور بوگس تعلیمی اسناد پر بھرتیاں کئے جانے کا انکشاف،محکمہ اینٹی کرپشن نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ، صوبائی دارلحکومت کی پانچوں تحصیلوں میں جعلی سندوں ،پر بھرتی ہونے والے، سروس ریکارڈ میں فرضی ایڈریس اور رابطہ نمبرظاہر کر کے سالہا سال سے پٹوار خانوں میں مسلط 400سے زائد پٹواریوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی جا سکی ، پٹوار کورس پاس کرنے والے اصل پٹواریوں کی جگہ منشی کام کرنے لگے ،محکمہ اینٹی کرپشن لاہور ریجن میں درخواست دائر کرتے ہوئے سرفراز حسین راجہ نے موقف اختیار کیا کہ صوبائی دارلحکومت کی پانچوں تحصیلوں میں تعینات شعبہ سیٹلمنٹ ،محال اور اشتمال میں کام کرنے والے پٹواریوں ،قانگوز اور ریونیو افسران کی کثیر تعداد کی جاری کر دہ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ آفس کی پٹوار سند جعلی اور بوگس ہے علاوہ ازیں تعلیمی کوائف ،شناختی کارڈ اور ایڈریس تک فرضی تحریر کئے گئے ہیں قابل ذکربات یہ ہے کہ جس پٹواری نے پٹوار کورس پاس کیا ہے اس کے نام سے جعلی پٹواری محکمہ مال میں کام کر رہا ہے اور اصلی پٹواری یا تو منشی ہے یا پھر کہیں کریانہ کی دوکان چلارہا ہے تمام جعلسازی کے پس پردہ وارث نامی کلرک ،بل کلرک،مجید نامی کلرک اور لاہور کی پانچوں تحصیلوں میں تعینات وہ عملہ ہے جس کے پاس پٹواریوں ،قانگوز اور ریونیو افسران کے متعلقہ پٹواری تعلیمی کوائف و ریکارڈ موجود ہے ان کو سب معلوم ہے کہ کون اصلی اور کون جعلی ہے مزید یہ کہ اس خوفناک صورتحال کے حوالے سے آج تک نہ تو ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ آفس سے کبھی ریکارڈ تصدیق کروایا جاسکا ہے جس کی بڑی وجہ یہی وہ عملہ ہے جو کہ مختلف حیلے بہانوں سے ریکارڈ مہیا نہیں کر رہا ہے اور اپنے مخصوس جعلی بندوں پر پردہ ڈال کر اپنے مفادات کو پورا کر رہاہے ذرائع نے مزید آگاہی دی ہے کہ دوسرے اضلاع سے آنے والیپٹواریوں نے محکمہ مال جیسے پیچیدہ اور ٹیکنیکل ادارے کو چلانے والے ڈی۔ ایم۔ جی گروپ کے افسران کو چکمہ دینے کے لئے لاہور شہر کے ڈومیسائل بھی تیار کروا لئے ہیں۔ جبکہ کینٹ اور سٹی کے پٹواریوں کے آگے محکمہ مال کے افسران بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو چکے ہیں،محکمہ مال میں پٹواریوں کو بھرتی کئے جانے کے حوالے سے ہر دور میں تعلیمی قابلیت کی شرائط لازم رکھی گئی تھی۔ جس کے مطابق 1955ء ؁ سے قبل ایسے پٹواریوں، قانونگو اور نائب تحصیلداروں کو بھی بھرتی کیا جاتا تھا۔ جس کی تعلیمی قابلیت اس وقت پرائمری ہوا کرتی تھی۔ جس کے بعد 1965ء ؁ کو درجنوں مڈل کلاس پٹواری بھی بھرتی کئے گئے۔ اسی طرح 1970ء ؁ کے بعد پٹواریوں کی تعلیمی قابلیت میٹرک کر دی گئی اور اب گزشتہ تین سال قبل پٹواریوں کا تعلیمی میرٹ F.A کر دیا گیا ہے ،اس وقت بھی محکمہ مال میں کام کرنے والے 400سے زائد مستقل پٹواریوں میں بعض ایسے بھی پائے جاتے ہیں۔ جن کی تعلیمی سندوں کے علاوہ پٹوار کی سندیں بھی جعلی تیار کی گئی ہیں اور اسی طرح 2002-03ء ؁ میں بھرتی کئے جانے والے 116 عارضی اور بندوبستی پٹواریوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی تعلیمی اسناد اور پٹوار کورس کی سندیں اس لحاظ سے مشکوک سمجھی جاتی ہیں کہ گزشتہ نو سالوں کے درمیان آج تک محکمہ مال کے کسی بڑے اعلیٰ افسر نے جب بھی ان کی تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے دی جانے والی اسناد اور پٹوار کورس کی سندوں کی تصدیق کروانے کی کوشش کرنا چاہی تو مقامی سیاسی اور حکومتی شخصیات نے اس آفیسر کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے پٹواریوں کی تعلیمی اسناد اور پٹوار کی سندوں کا ریکارڈ جانچ پڑتال کروانے سے روک دیا۔

مزید : صفحہ آخر


loading...