پانامہ لیکس نے شریف فیملی کی کرپشن ثابت کردی ،سینیٹر تاج

پانامہ لیکس نے شریف فیملی کی کرپشن ثابت کردی ،سینیٹر تاج

 حیدر کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر تاج حیدر نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ شریف فیملی سمیت دیگر بڑے مگرمچھ کس طرح اپنے ذاتی کاروبار کو چلانے اور اسے وسعت دینے کیلئے ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک منتقل کرتے ہیں۔ اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر سو پھیلی ہوئی غربت اور افلاس، جہالت، بیماریاں اور بھوک کی وجہ صرف یہی ہے کہ ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک منتقل کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام سرمایہ کاروں کو نشانہ بناتی چلی آئی ہے جو اس ملک میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، ملکی پیداوار اوربرآمدات میں اضافہ کرتے ہیں اور عوام کیلئے روزگار کے دروازے کھولتے ہیں بروقت ٹیکس ادا کرتے ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو پاکستان لاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایگزیٹ کمپنی اور بول ٹی وی کا حشر، ڈیڑھ ملین ٹن سالانہ پیداوار دینے والے الطوارقی اسٹیل ملز کو کھڈے لائن لگانا پا سمک کی تالہ بندی، پیداوار کے اہداف میں خوفناک حد تک گراوٹ، بیروزگاری، سرمایہ کی کمی، آئی ایم ایف کی ایما پر 169قومی اداروں کی نجکاری، ملک کی 80 فیصد بینکنگ انڈسٹری کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے حوالے کردینا، یہ سب وہ عوامل ہیں جن کے ذریعے ملکی دولت بیرون ملک منتقل ہورہی ہے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں انتہائی نچلی سطح تک کی کے باوجود درآمدات میں ہوشربا اضافہ اس معاشی تباہی کے چند پہلو ہیں جو ن لیگ کے مرہون منت ہیں۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت نے قومی سطح پر شروع کئے جانے والے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں اچھی شہرت رکھنے والی اور کم ترین بولی دینے والی ملکی کمپنیوں کے بجائے غیر ملکی کمپنیوں کو ٹھیکے دیئے۔انہوں نے سوال کیا کہ آخر کیوں مقامی کمپنیووں کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر ملکی کمپنیوں کوایلی ویٹیڈ ہائی ویز کی تعمیر کے ٹھیکے دیئے گئے، آخر کیوں ان غیر ملکی کمپنیوں کو بسوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں پر فراہمی کیلئے ٹھیکے دیئے گئے، کیا پاکستان کی کمپنیاں ایلی ویٹیڈ ہائی ویز کی تعمیرات اور بسوں کی پیداوار اور فراہمی کیلئے نااہل ہیں۔ آخر کیوں پاکستان ریلویز کو 160 ارب روپے لاگت والے اورنج لائن منصوبے کا ٹھیکہ نہ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے ابتک کے نتائج صفر رہے ہیں۔ کیچڑ اچھالنے کے فن میں مہارت رکھنے والی ن لیگ اپنی غلط کاریوں پر پردہ ڈالنے کیلئے چور سپاہی کا ناکام کھیل کھیل رہی ہے۔ اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر پالیسی ساز فیصلوں کی ضرورت ہے، کیا ہم اس قدر ہمت اور جرات کا مظاہرہ کریں گے کہ ملک کی دولت کو ملک ہی میں لگایا جائے؟ کیا ہم بے لگام درآمدات پر قدغن لگا کر ملکی پیداوار اور برآمدات کے فروغ کیلئے اقدامات کریں گے؟ کیا ہم قومی اجتماعی اور ذاتی حیثیت میں تصنع، بناوٹ اور دکھاوے کو چھوڑ کر، غیر ملکی قرضوں اور امداد پر عیاشی کرنے کے بجائے قومی حمیت کا عملی مظاہرہ نہیں کرسکتے؟ انہوں نے کہا کہ یہ چند معروض گزارشات ہیں جوڈیشل کمیشن کے قیام کے سوال اور ضرورت کو چھوڑ کر ہمیں ان سوالات کے جوابات چاہئے تاکہ پاکستان زوال پذیر معیشت کے جھٹکوں سے سنبھل سکے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...